
جگائے گا کون؟
نظام کی تباہی اور عام پاکستانی کا کچن
سی ایم رضوان
کسی نے کسی عام، غریب پاکستانی سے پوچھا تھا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو اس نے جھٹ سے جواب دیا کہ چار روٹیاں، یعنی الجبرا کے سوال پر بھی جواب کچن کے حوالے سے آیا۔ مطلب یہ کہ پیٹ نہ پڑیں روٹیاں تو سبھی باتیں کھوٹیاں۔ سنا ہے کہ پاکستان میں فوج جو کچھ کہے وہ ضرور ہوتا ہے لیکن افسوس کہ فوج عام پاکستانی کے کچن کی بات نہیں کرتی۔ ترجمان پاک فوج ( ڈی جی آئی ایس پی آر) کی تازہ پریس کانفرنس میں بھی عام اور غریب پاکستانی کے کچن کے لئے کوئی مستقلاً یا براہ راست معاشی راحت کا اعلان شامل نہیں تھا۔ حسب معمول فوجی ترجمان کا فوکس قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز اور ملک کی انتظامی و سکیورٹی صورتحال تک ہی محدود تھا۔ تاہم، معیشت اور عام آدمی کے حوالے سے جن نقطہ ہائے نظر اور بالواسطہ باتوں کا ذکر آیا، ان میں ایک یہ بیان تھا کہ ’’ سکیورٹی کے بغیر معیشت اور بہتری ممکن نہیں‘‘۔ اس میں بھی ترجمان کا بنیادی موقف یہ رہا کہ ملک میں امن و امان، سرحدوں کا تحفظ اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا تو ہی معاشی سرگرمیاں اور غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن ہو سکے گی۔ عام آدمی کے لئے اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج کی نظر میں سکیورٹی کی بہتری ہی بالواسطہ طور پر آگے چل کر معاشی استحکام کی بنیاد بنے گی۔ ترجمان کی جانب سے یہ بات بھی کہی گئی کہ ملک میں پائیدار استقرار اور سکیورٹی کے لئے بہتر طرزِ حکمرانی انتہائی ضروری ہے۔ غیر قانونی دھندوں پر کریک ڈائون کی بات کی گئی اور سمگلنگ، غیر قانونی تجارت، اور ڈالر و اجناس کی بلیک مارکیٹنگ کے خلاف اقدامات کا حوالہ دیا گیا، تاکہ ملکی معیشت کے رسائو کو روکا جا سکے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے ذریعے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے اور معاشی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوششوں کا ذکر بھی کیا گیا۔ حکومتی بیانات کے مطابق ان اقدامات کا ہدف ملک کے معاشی اعشاریوں کو سہارا دینا ہے، لیکن ان سے فوری طور پر غریب آدمی کے کچن یا بجلی، گیس کے بلوں میں کسی قسم کے ریلیف کی ضمانت سامنے نہیں آئی۔ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو وقت اور وقعت کے حوالے سے مذکورہ بڑی پریس کانفرنس میں عام غریب آدمی کو مہنگائی، روزگار، بجلی و گیس کے بلوں، یا راشن پر کسی قسم کے فوری ریلیف کا وعدہ نہیں ملا بلکہ اس کا تمام تر محور سکیورٹی، گڈ گورننس کے مطالبات اور طویل المدتی اقدامات پر ہی رہا، جس کا عام پاکستانی کے کچن پر تو کوئی مثبت یا حوصلہ افزا اثر فی الحال نظر نہیں آتا۔ دوسرے لفظوں میں غریب اور عام پاکستانی تاحال لاوارث ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس اور سکیورٹی و انتظامی اداروں کے موجودہ بیانیے کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہی کہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے اور پالیسیوں میں ایک جامع یا طویل المدتی تبدیلی (’’ ری سیٹ‘‘) کا تاثر موجود ہے۔ تاہم، اس حوالے سے چند اہم پہلوئوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ایس آئی ایف سی کے بڑھتے ہوئے تحرک سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی بحالی، سرمایہ کاری اور انتظامی بہتری کے لئے سول اور ملٹری قیادت ایک پیج پر ہیں۔ آرمی چیف کی تاجر برادری اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ براہ راست ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشی اصلاحات، سمگلنگ کی روک تھام، ٹیکس نیٹ کے پھیلائو اور کاروباری آسانیاں پیدا کرنے میں بزنس مینز کو کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ امر بھی پیش نظر رکھا گیا ہے کہ کسی بھی آئینی تبدیلی یا نئے انتظامی فریم ورک کے نافذ العمل ہونے کے لئے پارلیمنٹ اور سول حکومت کا قانون سازی کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ عسکری قیادت کا نظریہ ملکی سکیورٹی، معیشت اور گورننس کو باہم مربوط دیکھتا ہے لیکن آئینی پہلوں پر کام اور اس کا حتمی فیصلہ آئینِ پاکستان کے تحت پارلیمان کے دائرہ اختیار میں ہی آتا ہے۔ انتظامی یا سیاسی سطح پر کسی بھی ’’ گریٹ ری سیٹ‘‘ کی کامیابی کے لئے سیاسی استحکام اور تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد حاصل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اصلاحاتی ایجنڈے ( مثلاً نگران یا منتخب حکومت کے وژن) پر عملی اقدامات جاری ہیں، تاہم اسے مکمل آئینی یا سیاسی ’’ ری سیٹ‘‘ قرار دینا قبل از وقت ہو سکتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات سے یہ واضح ہوا کہ معیشت، گورننس اور سکیورٹی پر ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام ہو رہا ہے جس میں کاروباری طبقے کو اہم مقام حاصل ہے۔ تاہم، آئینی اور سیاسی سطح پر اس کے عملی نفاذ کا تمام تر دارومدار پارلیمنٹ اور سول حکومت کے فیصلوں پر ہے کہ وہ نمائشی پروگرام چلاتی ہے یا کچھ عملاً بھی کرتی ہے۔
قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک کے 79سالوں میں عام پاکستانی کی معاشی بدحالی کسی ایک دن یا ایک حکومت کی بداعمالیوں کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ قیام پاکستان سے جاری غلط حکومتی ترجیحات، نظام کے نقائص اور بار بار کیے جانے والے ہاف ہارٹڈ ( نیم دلی) ٹائپ اقدامات کا تسلسل ہے۔
پاکستان کے معاشی سفر اور عام آدمی کے اس مقام تک گر جانے کے بنیادی اسباب کو چند واضح ادوار اور پالیسی ناکامیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں ٹیکس وصولی کا زیادہ تر انحصار ڈائریکٹ ٹیکس یعنی انکم ٹیکس کی بجائے ان ڈائریکٹ ( سیلز ٹیکس، پٹرولیم لیوی وغیرہ) پر رہا ہے۔ مطلب یہ کہ ایک غریب شہری اور ایک ارب پتی، دونوں چینی، پٹرول یا بس کا ٹکٹ خریدتے وقت برابر ٹیکس دیتے ہیں۔ ساتھ ہی اشرافیہ کو چھوٹ بھی ہماری معاشی بدحالی کا بڑا سبب ہے۔ زراعت، رئیل اسٹیٹ اور بڑے تاجروں پر کبھی موثر اور منصفانہ ٹیکس نہیں لگایا جا سکا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست کے اخراجات کا تمام تر بوجھ عام شہری پر منتقل ہو گیا۔ پاکستان نے بنیادی پیداواری صلاحیت، برآمدات اور صنعتی ترقی پر توجہ دینے کے بجائے ہمیشہ خام مال اور اشیائے صرف باہر سے منگوانے پر انحصار کیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بھی ملکی معیشت تھوڑی ترقی کرتی ہے، ہماری درآمدات بڑھ جاتی ہیں، ڈالر ختم ہو جاتے ہیں، اور ہمیں معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 1970ء کے عشرے میں صنعتوں، بینکوں اور تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ معاشی ترقی کے لئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ اس اقدام نے نجی شعبے کی حوصلہ شکنی کی، سرمایہ کاری کو روکا اور سرکاری اداروں ( پی آئی اے، اسٹیل ملز وغیرہ) میں بدعنوانی اور نااہلی کی بنیاد رکھی جو آج بھی خزانے پر بوجھ ہیں۔ یار لوگ سچ کہتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے۔ بعد ازاں 1980ء کی دہائی ( افغان جنگ) اور 2000ء کی دہائی ( نائن الیون) کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان کو امریکہ اور عالمی اتحاد سے اربوں ڈالر کی امداد ملتی رہی۔ اس عارضی امداد کی وجہ سے ہم نے بنیادی معاشی اصلاحات ( ٹیکس اصلاحات، صنعتی و زرعی پیشرفت) کو نظر انداز کر دیا اور ایک امداد پر مبنی مصنوعی خوشحالی کا ادراک کیا جو جنگ یا امداد ختم ہوتے ہی ختم ہو گئی۔ اس کے علاوہ خام مال و مصنوعات کی برآمد میں کمی، تجارتی خسارہ، آئی ایم ایف اور بیرونی قرضے جیسے بار بار دہراتے جانے والے اقدامات اور ان کے نتیجے ملنے والی سخت شرائط ( مہنگائی و ٹیکس) سے عام آدمی کی تباہی ہو گئی۔ پاکستان کی تمام حکومتوں نے بنیادی معاشی صلاحیت بڑھانے کے بجائے بیرونی و ملکی قرضے لے کر معیشت چلانے کا آسان راستہ اپنایا۔ اب عذاب یہ ہے کہ آج ملکی بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف گزشتہ قرضوں کا سود اور اقساط ادا کرنے میں چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے صحت، تعلیم اور عوامی ریلیف کے لئے رقم ہی نہیں بچتی۔ اس پر ستم یہ کہ ملک کی زیادہ تر سرمائے کو کارخانوں، ٹیکنالوجی اور پیداواری شعبوں میں لگانے کے بجائے رئیل اسٹیٹ ( پلاٹنگ) کی طرف موڑ دیا گیا جہاں سے نہ روزگار پیدا ہوتا ہے اور نہ برآمدات۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی عدم استحکام اور بار بار حکومتوں کی تبدیلی کی وجہ سے کوئی بھی معاشی پالیسی پانچ سال پورا نہیں کر سکی۔ مارکیٹ میں منصفانہ مقابلہ ختم ہو گیا اور ذخیرہ اندوزوں، مافیاز اور غیر قانونی تاجروں کو سیاسی و انتظامی پناہ ملتی رہی۔ یعنی عام پاکستانی کی موجودہ معاشی بدحالی کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں، بلکہ یہ دہائیوں سے جاری امداد و قرضوں پر انحصار، اشرافیہ کی مراعات کی حفاظت اور پیداوار بڑھانے کے بجائے صرف خرچ کرنے کے ماڈل کا طبعی نتیجہ ہے۔ جب تک یہ بنیادی ماڈل تبدیل نہیں ہوتا، عام آدمی کا کچن دبا میں ہی رہے گا۔
جب تک کسی بھی پالیسی، معاہدے یا دعوے کا نتیجہ عام شہری کے باورچی خانے، بچت اور معیارِ زندگی میں بہتری کی صورت میں نہ نکلے، تب تک عام آدمی کے لئے تمام بڑے بڑے منصوبے اور نعرے بے معنی ہی رہیں گے۔ تاریخی طور پر جب بھی عام پاکستانی نے ان عظیم الشان دعوں پر اعتبار کیا، نتائج اس کے برعکس ہی نکلے۔ حکومتیں ہمیشہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر، جی ڈی پی کے تناسب یا اسٹاک ایکسچینج کی بلندیوں کے اعداد و شمار پیش کر کے خوشحالی کا تاثر دیتی ہیں لیکن عام شہری کا تجربہ صرف اس بات سے جڑا ہے کہ اس کی ماہانہ آمدنی میں بجلی کا بل، بچوں کی فیسیں اور راشن پورا ہو رہا ہے یا نہیں۔ جب اعداد و شمار اوپر جائیں اور کچن کا بجٹ نیچے، تو اسے فراڈ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ جب ہر معاشی بحران کے بعد آئی ایم ایف یا عالمی اداروں کی شرائط کا پورا بوجھ ( سیلز ٹیکس، پٹرولیم لیوی، بجلی کے ریٹ) براہ راست عوام پر ڈالا جاتا ہے اور دوسری طرف طاقتور طبقوں، رئیل اسٹیٹ مافیا اور بڑے کاروباری گروپوں کی سبسڈی اور مراعات کو کم ہی چیلنج کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہائیوں سے معاشی عذاب کا سامنا عام پاکستانی کر رہا ہے اور خوشحالی کا پھل وہ طبقہ کھا رہا ہے جو پالیسیاں بناتا ہے۔ اب عوامی سطح پر کسی بھی نئے ویژن، ڈاکٹرائن یا کونسل پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ اب نظام کی تباہی کی خبر دے کر نئی اکھاڑ پچھاڑ کی تیاری جاری ہے لیکن یاد رہے کہ جب تک کوئی پالیسی غریب اور درمیانے طبقے کی قوتِ خرید واپس نہیں لاتی، اس وقت تک تمام پریس کانفرنسیں، پیکیجز اور دعوے صرف کاغذوں اور خبروں کی حد تک ہی رہیں گے۔






