نظام ناکام

نظام ناکام
محمد مبشر انوار
دنیا میں اس وقت جمہوری نظام حکومت کو کامیاب سمجھا جاتا ہے بشرطیکہ اس میں جمہور کو اہمیت دی جائے،ان کی رائے کو مقدم رکھا جائے جمہوری اقدار کو فروغ دیا جائے اور ملک وقوم کی فلاح و بہبود کے لئے کام کئے جائیں۔ بنیادی شرط یہی ہے کہ خواہ نظام حکومت پارلیمانی ہو صدارتی جبکہ بادشاہی نظام اس سے مختلف ہونے کے باوجود، ملک وقوم کی فلاح و بہبود کے لئے بروئے کار ہوتو اس نظام میں بھی کوئی قباحت نہیں اگر وہ اپنے عوام کے حقوق سلب نہیں کرتا، انہیں ترقی و خوشحالی کے مساوی مواقع فراہم کرتا ہے وگرنہ ایسی کئی ایک مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جہاں بادشاہت کانظام،حکمرانوں کی بداعمالیوں اور ذاتی مفادات و ہوس کے نتیجہ میں زمین بوس ہو چکا ہے۔ جمہوری نظام میں فرق صرف اتنا ہے کہ عوام الناس ہر نئے انتخاب میں ،نئے حکمرانوں کو منتخب کرنے میں آزاد ہوتی ہے اگر حکمران ملک اور عوام الناس کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہیں اور درحقیقت یہی وہ سچائی ہے کہ جس میں حکمرانوں کے لئے حدود و قیود طے کررکھی ہیں اور وہ ان حدود و قیود سے باہر نہیں نکل سکتے اور ملک و قوم کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال پڑوسی ملک بھارت میں دیکھنے کو ملی ہے کہ جہاں ایک طرف سپریم کورٹ کی جانب سے نوجوانوں کو ’’ کاکروچ‘‘ کہنے پر ایک نئی سیاسی جماعت کی ایسی داغ بیل پڑی ہے کہ جس نے بھارتی حکومت کو لرزا دیا اور اسے پسپائی پر مجبور کر دیا ہے تو سپریم کورٹ کوبھی معافی مانگنا پڑی ہے جبکہ اسی بھارتی پنجاب میں وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی سیاسی جدوجہد اور کارگزاری ہے،جس نے اسے مقبول ترین رہنما بنا رکھا ہے۔ دہائیوں کے مسائل بھگونت مان نے ،عوام کی خواہشوں اور امنگوں کے مطابق نہ صرف حل کئے ہیں بلکہ اس کے نتائج نے عوام کو مزید سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ،عوام و ریاستی مشینری کے درمیان دوریوں کو بھی ختم کیا ہے۔ ’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ ملک اب صرف پاکستان ہی کہلانے کے قابل رہ چکا ہے کہ نہ اس میں اسلامی شریعت کہیں دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی جمہوری اقدار اس میں کہیں دکھائی دیتی ہیں، اس کے باوجود یہ آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلاتا ہے۔ جمہوری طرز پر معرض وجود میں آنے کے باوجود، اس کو جمہوری و سیاسی طور پر دانستہ بنجر کیا گیا، اس کی جمہوری جڑوں کو کاٹا گیا، جمہوریت پسندوں کو نشان عبرت بنایا گیا جبکہ عوام سے ایسے ایسے جغادریوں کو سیاسی نرسری میں پروان چڑھایا گیا کہ جن کے ذاتی مفادات، قومی مفادات سے کہیں بڑے ثابت ہوئے، لیکن آج بھی سیاسی نرسری والے، انہی کی پرورش پر مصر ہیں کہ ’’ حقیقی جمہوریت ‘‘ میں ان کی حیثیت سوائے ایک ریاستی محکمے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اپنی اس حیثیت میں واپس جانے کے لئے سیاسی نرسری والے آج بھی تیار نہیں کہ ہاتھ میں موجود اختیار و اقتدار کب چھوٹتا ہے اور نہ ہی کوئی چھوڑنا چاہتا ہے۔ ویسے ہی بونے و خوشامد پسند درباری جو ہاتھ باندھے اور سر جھکائے، آقائوں کے حضور عرض کرتے ہیں کہ جھکا کر سر سبھی شاہ پرست بول اٹھے ۔۔۔ حضور کا شوق سلامت رہے، شہر اور بہت، اور سر جھکائیں بھی کیوں نہ کہ جب عوامی حمایت کی حالت یہ ہو کہ صرف سترہ نشستیں حاصل کرنے والوں کو پچیس کروڑ کی قسمت کا مالک بنا دیا جائے، تو سرتابی کی جرات کون کرے، جو کرے وہ اڈیالہ کا مہمان ہی بنے گا، شہر اقتدار میں مسند اقتدار پر براجمان کیسے اور کیونکر ہوگا؟ سر جھکے گا تو ہی فرد جرم عائد ہونے کی رات ہی ’’ رجیم چینج ‘‘ ہو گا اور سرخاب کا پر تاج پر سجے گا اور ایسا سجے گا کہ اگلی مدت کے لئے بھی تخت نصیب ہو گا، خواہ اس میں گھروں کے گھر جلیں یا شہروں کے شہر، اس کی پروا کس کو ہے اور یہ پروا بھی کس کو ہے کہ کل تک جمہوریت کے حوالے سے موصوف، ان کی سیاسی جماعت اور اس کے قائد کیا رائے رکھتے رہے ہیں، سب بے معنی و بے مقصد کہ مطمع نظر فقط اقتدار، خواہ کسی بھی طرح نصیب ہو۔
اب یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے چراغوں سے روشنی ختم ہو رہی ہے کہ ٹھنڈی ہوائوں کے جھونکوں کا موسم اپنے اختتام کو ہے کہ حکومت کے اہم ترین وزیر کی جانب سے جو چارج شیٹ سامنے آئی ہے، اس نے یقینی طور پر چودہ طبق روشن کر دئیے ہوں گے، گو کہ حکمرانوں کا یہ اعتراف بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اگر وزیر موصوف چاہتے تو اس وقت انہیں وزیر اعظم بننے سے بھی کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ لگتا ہے کہ حکمرانوں کا یہ اندیشہ بھی حقیقت میں تبدیل ہونے کے قریب ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی کارکردگی بطور وزیرداخلہ اتنی متاثر کن نہیں کہلائی جا سکتی مگر مشرق وسطیٰ کے بحران میں، گمان ہے کہ جو روابط ان کے استوار ہوئے ہیں، ان کو کشید کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے، اسی لئے انہوں نے وہ باتیں کہہ دی ہیں، جو اس نظام کی ناکامی کا کھلم کھلا اعتراف ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا یہ صرف نظام کی ناکامی ہی ہے یا اسے ان کی بھی ناکامی بھی گردانا جائے کہ وہ بھی اسی نظام کا حصہ ہیں؟ یا یہ سمجھا جائے کہ نئے نظام حکومت کی بنیاد رکھنے سے قبل ہی ،وہ اپنی حیثیت کا تعین کروانے کی سعی میں ہیں؟ اور کیا موجودہ حکمران، اگر گھر بھیجے جاتے ہیں تو کیا وہ سکون کے ساتھ گھر چلے جائیں گے؟ مزاحمت کرنے پر جو حشر تحریک انصاف کا ہوا ہے، کیا موجودہ حکمران ویسی سختیاں برداشت کر پائیں گے بشرطیکہ ان کے ساتھ بھی ایسی سختیاں ہوئی تو؟۔ حقیقت تو یہی ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے اور کچھ سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو، یہ ضرور سیکھ لیا ہے کہ جیسے ہی اقتدار ہاتھ سے جانے لگے تو فوری طور پر اپنے آبائی وطن لوٹ جائیں کہ جہاں ان کا تمام کاروبار موجود ہے اور اس وقت تک شور مچایا جائے جب تک آقائوں کے ساتھ رابطے بحال نہ ہو جائیں اور پھر ایک مخصوص عرصہ تک خاموشی اختیار کرکے، اقتدار کا انتظار کیا جائے۔ لہذا یہ کہنا کہ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے الگ ہونے پر مشکلات و مصائب کا سامنا ہو گا، ماضی کو دیکھتے ہوئے ممکن نہیں لگتا۔ البتہ قانون کی بات کی جائے تو قانون بھی اسی صورت حرکت میں آتا ہے جب اس کو متحرک کرنے والے آمادہ ہوں، پھر وہ بلاجواز بھی متحرک ہو جاتا ہے، خواہ کسی اشتہاری مجرم کو ایئر پورٹ پر جا کر ہی کلئیر کیوں نہ کرنا پڑے۔ وزیر داخلہ نے اس نظام کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر موجودہ نظام قائم رہتا ہے تو یہ اگلے دس سال بھی ڈیلیور کرنے کے قابل نہیں ہوسکتا اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو ری سیٹ کیا جائے، جس کے لئے سب سیاسی جماعتوں کو مل کر بروئے کار آنا ہو گا۔ ان کی ذاتی رائے میں صرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ اس کام کو انجام نہیں دے پائیں گی اور تحریک انصاف کو بھی اس نظام کو بہتر کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بات یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن جو اصل مدعا ہے، اس کے متعلق بات کرنے کی بجائے، وزیر داخلہ کی جانب سے بھی خوفزدہ کیا گیا ہے کہ اگر یہ سیاسی جماعتیں مل کر نہیں بیٹھتی اور نظام کو ٹھیک نہیں کرتی تو مداخلت بھی ہو سکتی ہے، جو بظاہر کرنے کی خواہش نہیں ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ نظام میں آئینی ترامیم بھی کسی غیر سیاسی شخصیت کی خواہش پر ہوتی ہیں اور وزیر داخلہ اتنی مداخلت کے باوجود صرف تنبیہ سے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مداخلت کرنا نہیں چاہتے، مداخلت اور کیسے ہوتی ہے؟ معاشی تباہی کے حوالے سے ، بات کرتے ہوئے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت قرضوں پر چل رہی ہے، یہ راز آج کیسے آشکار ہوا حالانکہ آپ بھی اس نظام کا حصہ ہیں اور آپ ہی کے بقول سو ارب ڈالر اس ملک سے چرائے گئے ہیں؟۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ارباب اختیار آج بھی آدھا سچ بولنے کی پالیسی پر گامزن ہیں، ایک طرف اس نظام کی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں اور دوسری طرف آج بھی آزاد کشمیر میں اسی بوسیدہ نظام کے نفاذ کے لئے کوشاں ہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنا حق حاکمیت مانگ رہے ہیں، آج ان کو یہ حق نہیں دیا جا رہا لیکن پاکستان میں نظام کی ناکامی کا اعتراف، دہرے معیار سے کم نہیں۔ نقوی صاحب! اگر واقعی یہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو یہ وقت ہے کہ آزاد کشمیر میں حق حاکمیت عوام کو دے کر اس کا آغاز کر دیں وگرنہ یہ سب کہانیاں کسی اور سمت اشارہ کر رہی ہیں کہ موجودہ حکمرانوں سے جان تو چھڑائی جائے مگر عوام کی جان بہرحال نہ چھوڑی جائے، اور نہ انہیں حق حاکمیت واپس کیا جائے، رہی بات جمہوریت کی، تو پاکستان جیسے ملک میں تو خیر کسی بھی صورت آقائوں نے سو فیصد جمہوریت نہیں دینی کہ وہ تو آقائوں کے آقائوں نے اپنے اپنے ملک میں بھی نہیں دے رکھی، نظام کامیاب اسی وقت ہو گا جب حق حاکمیت عوام کے پاس ہو گا۔






