بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے

ذرا سوچئے
بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے
امتیاز احمد شاد
پاکستان کی سیاست میں بعض بیانات محض بیان نہیں ہوتے بلکہ آنے والے وقت کی سمت کا اشارہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ کہنا کہ ’’ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہو چکا ہے، نئے انتظامی یونٹ یا صوبے ہی اس مسئلے کا حل ہیں ‘‘، بظاہر ایک انتظامی تجویز معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے سیاسی، معاشی اور ریاستی مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ محسن نقوی کو اچانک کیا یاد آ گیا؟ کیا انہیں اب جا کر احساس ہوا ہے کہ نظام ناکام ہو چکا ہے، یا پھر یہ کسی نئے قومی بیانیے کی تمہید ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں نظام کی ناکامی کوئی نئی دریافت نہیں۔ یہ وہی ملک ہے جہاں گزشتہ تین دہائیوں سے ہر حکومت اپنے پیش رو کو ذمہ دار ٹھہراتی رہی، مگر ریاستی ڈھانچہ جوں کا توں رہا۔ بیوروکریسی کی سست روی، عدالتی تاخیر، کمزور بلدیاتی نظام، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور قرضوں پر چلنے والی معیشت کے مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن اقتدار کے ایوانوں سے اس قسم کا کھلا اعتراف کم ہی سننے کو ملتا ہے۔
محسن نقوی کا بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے سیاستدان نہیں بلکہ ریاست کے طاقتور ترین وزراء میں سے ایک ہیں۔ اگر وزیر داخلہ خود یہ کہہ رہے ہیں کہ نظام تباہ ہو چکا ہے تو سوال صرف ماضی کی حکومتوں سے نہیں، موجودہ حکمرانوں سے بھی بنتا ہے کہ پھر اس نظام کو چلانے والے کون ہیں؟
ان کے بیان کا دوسرا اہم پہلو نوجوانوں کے حوالے سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنا حق مانگ رہے ہیں، میرٹ چاہتے ہیں، اور اگر یہ اکٹھے ہو گئے تو ہر چیز الٹ سکتے ہیں۔ یہ دراصل ایک سیاسی انتباہ ہے۔ دنیا بھر میں نوجوان نسل روایتی سیاسی ڈھانچوں سے بیزار ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے انہیں آواز، طاقت اور تنظیم کی نئی صلاحیت دی ہے۔ بنگلہ دیش سے لے کر بھارت اور یورپ تک نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ پاکستان میں بھی بے روزگاری، مہنگائی اور مواقع کی کمی نوجوانوں میں اضطراب پیدا کر رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارت میں ’’ جنریشن زی‘‘ اور نوجوان احتجاجی تحریکوں پر ہونے والی بحث کے تناظر میں محسن نقوی کا بیان محض اتفاق نہیں لگتا۔ شاید ریاستی ادارے بھی اس حقیقت کو محسوس کر رہے ہیں کہ روایتی سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر ایک نئی سماجی طاقت ابھر رہی ہے جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
پھر انہوں نے قرضوں کا ذکر کیا۔ پاکستان کا ہر شہری جانتا ہے کہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، مگر پہلی مرتبہ ایک وفاقی وزیر نے اس انداز میں اعتراف کیا کہ ہم ہر سال منفی بجٹ بناتے ہیں اور صرف قرضوں کا بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ گویا وہ اس معاشی ماڈل کی ناکامی کا اعلان کر رہے تھے جس پر ملک کئی دہائیوں سے چل رہا ہے۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئے صوبے واقعی ان مسائل کا حل ہیں؟ دنیا کے کئی ممالک میں انتظامی تقسیم نے بہتر حکمرانی کو جنم دیا ہے۔ ترکی، جرمنی، چین اور بھارت کی مثالیں موجود ہیں جہاں مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے انتظامی کارکردگی بہتر ہوئی۔ لیکن پاکستان کا مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد نہیں۔ مسئلہ اختیارات کے ارتکاز، کمزور بلدیاتی نظام، سیاسی مداخلت، بدعنوانی اور ناقص پالیسی سازی کا بھی ہے۔ اگر یہی طرز حکمرانی برقرار رہی تو چار کے بجائے آٹھ یا دس صوبے بھی بن جائیں تو نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین محسن نقوی کے بیان کو انتظامی تجویز سے زیادہ سیاسی اشارہ سمجھ رہے ہیں۔ ممکن ہے ریاستی اور سیاسی حلقوں میں مستقبل کے پاکستان کے بارے میں نئی بحث شروع ہو چکی ہو۔ ایک ایسی بحث جس میں گورننس ریفارمز، صوبائی تقسیم، مالیاتی خودمختاری اور سیاسی مفاہمت جیسے موضوعات شامل ہوں۔
محسن نقوی کا برملا کہنا کہ مسلم لیگ ( ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا ہوگا، یہ ایک غیر معمولی جملہ ہے۔ اس کے پیچھے بڑی داستان ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں جہاں ایک دوسرے کو غدار اور دشمن قرار دینے کا رجحان غالب ہے، وہاں قومی اتفاقِ رائے کی بات دراصل اس احساس کا اظہار ہے کہ ریاستی مسائل اب سیاسی نعروں سے حل نہیں ہو سکتے۔ دوسری جانب شہباز شریف کے بارے میں ان کا یہ کہنا کہ وزیراعظم اٹھارہ گھنٹے بھی کام کر لیں تو صرف ’’ فائر فائٹنگ‘‘ ہی کر سکتے ہیں، دراصل فرد کے مقابلے میں نظام کی اہمیت کا اعتراف ہے۔ یعنی مسئلہ شخصیات کا نہیں، ڈھانچے کا ہے۔ اگر ڈھانچہ خراب ہو تو محنتی ترین حکمران بھی محدود نتائج ہی دے سکتا ہے۔
ممکن ہے محسن نقوی کے یہ اعتراف چند روز بعد معمول کی سیاسی خبروں میں گم ہو جائیں، لیکن اس نے ایک بنیادی سوال ضرور اٹھا دیا ہے: کیا پاکستان واقعی ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں جزوی اصلاحات نہیں بلکہ پورے نظام کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت ہے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر نئے صوبوں سے پہلے نئے سیاسی رویوں، نئے معاشی ماڈل، مضبوط بلدیاتی نظام، میرٹ کی بالادستی اور قومی مکالمے کی ضرورت ہوگی۔ ورنہ ’’ نظام کی تبدیلی‘‘ کا نعرہ بھی ماضی کے بے شمار نعروں کی طرح تاریخ کے صفحات میں گم ہو جائے گا۔
محسن نقوی کے الفاظ دراصل ایک اعتراف بھی ہیں اور ایک انتباہ بھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اقتدار کے ایوان ان الفاظ کو محض تقریر سمجھتے ہیں یا آنے والے بحرانوں سے پہلے ایک سنجیدہ وارننگ۔ ایک بات تو طے ہے کہ نظام چلنا تو دور، رینگ بھی نہیں رہا۔ پاکستان کے سب سے طاقتور وزیر کا یوں کھلے عام اعتراف یا انتباہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سب کچھ آئوٹ آف کنٹرول ہو چکا۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تلاش کرنے والوں کو شاید اب اتنی بھی میسر نہ آئے جتنی وہ چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں۔ پریشانی اس بات کی ہے کہ آپ کے اس سچ کو بھی نئی نسل اب ایک نئی سیاسی چال تصور کریں گے۔ افسوس اس نظام کو سچ بولنے میں ستر سال لگ گے۔ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے۔






