CM RizwanColumn

مودی بی جے پی کو لے ڈوبا

جگائے گا کون؟

مودی بی جے پی کو لے ڈوبا

تحریر: سی ایم رضوان

بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کی مودی سرکار کو اپنے موجودہ دورِ اقتدار میں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف طبقات کی طرف سے تنقید، احتجاج اور شدید ردِعمل کا سامنا ضرور رہا ہے لیکن اب بھارتی نوجوانوں بالخصوص ’’ جین زی‘‘ کا سوشل میڈیا یا سڑکوں پر مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھانا یا سخت الفاظ کا استعمال کرنا ایک نیا سیاسی رجحان بن کے سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر انڈین نئی نسل کا سیاسی اظہارِ رائے کا طریقہ پرانی نسلوں سے بالکل مختلف زیادہ نوکیلا اور کاٹ دار ہے۔ یہ نسل میمز (Memes)، ٹرینڈز اور اکثر انتہائی سخت و تلخ زبان کا استعمال کر کے اپنا غصہ نکال رہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ مودی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج ہوا ہو۔ اس سے پہلے کسان تحریک جس میں دہلی کی سرحدوں پر مہینوں تک مودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی اور سخت الفاظ کا استعمال ہوا۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے جس میں یونیورسٹیوں کے طلبہ ( جیسے جے این یو اور جامعہ ملیہ) نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ اگنی پتھ اسکیم کے تحت فوج میں بھرتی کے اس نئے منصوبے کے خلاف بھی نوجوانوں نے شدید ترین احتجاج کیا اور توڑ پھوڑ تک کی نوبت آئی۔ لہٰذا، تنقید اور سخت زبان مودی جیسے عادی مجرم کے لئے کوئی نئی نہیں ہے، لیکن جین زی کی اس احتجاج میں حالیہ شمولیت کے بعد اس کا انداز زیادہ بلاجھجھک اور جارحانہ ہو گیا ہے۔ کسی بھی سیاسی رہنما کے خلاف احتجاج یا سخت الفاظ کا استعمال ہونا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ عوام کے ایک حصے میں شدید بے چینی موجود ہے اور وہ اب مزید اس سیاسی حکمران کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے معاملے میں بھی اب یہی ہوا ہے جو کہ مودی کی مکمل ’’ ناکامی‘‘ کی دلیل ہے کیونکہ اس کے دور میں روزگار کے بحران نے اب ملک کو بھوک سے دوچار کر دیا ہے۔ اب بھارتی نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار اور بے روزگاری ہے۔ اگر ’’ جین زی‘‘ سڑکوں پر ہے تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈگریوں کے باوجود ان کے پاس ملازمتیں نہیں ہیں۔ مہنگائی اور معاشرتی تقسیم سے تنگ آ کر نوجوان حکومت کے اس دعوے کو رد کر رہے ہیں کہ ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں مودی سرکار پر اس نوعیت کی مسلسل تنقید اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی کا وہ ’’ ناقابلِ شکست‘‘ امیج اب ختم ہو گیا ہے۔ کسی بھی جمہوری ملک میں نوجوانوں کا حکومت سے ناراض ہونا اور احتجاج کرنا ایک عام بات ہے لیکن مودی جیسے مذہبی چھتری کے نیچے چھپے دغا باز سیاست دان کے لئے یہ خطرناک حقیقت اب کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ابھی تو اس کے خلاف صرف سڑکوں پر احتجاج ہوا ہے۔ کل کلاں جب الیکشن میں یہ غصہ ووٹ کی پرچی میں تبدیل ہوا تو مودی پارٹی جو کہ اب ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت سمجھی جاتی ہے زیرو ہو جائے گی۔ اب ’’ جین زی‘‘ کا مودی کے خلاف ہوں سڑکوں پر آنا اور سخت ترین زبان استعمال کرنا مودی حکومت کی معاشی اور انتظامی پالیسیوں ( خصوصاً روزگار) سے شدید عوامی ناگواری کا مظہر ہے۔ اسے مودی حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج اور ان کے بیانیے کی شکست ہے، اب سیاسی طور پر اس کی مکمل ’’ ناکامی‘‘ تب ہو گی جب یہ احتجاج انتخابی سطح پر ایک بڑا سیاسی انقلاب لائے گا جس کا سب سے بڑا ثبوت اور اظہار یہ کہ وہاں چند دنوں میں کاکروچ جنتا پارٹی ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔ لگتا یہ ہے کہ مودی اپنی ہی قائم کردہ شناختی اور فرقہ وارانہ سیاست کے اثرات کی زد میں آ چکا ہے۔ شناختی یا فرقہ جاتی سیاست اب موجودہ بھارتی سیاست و صحافت کا ایک مرکزی تجزیاتی نقطہ بن چکی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار اس صورتِ حال کا جائزہ پوری شدومد سے لے رہے ہیں اور واضح نتائج کے طور پر کہہ رہے ہیں کہ کسی بھی ملک میں مذہبی تفریق یا شناختی سیاست ایک حد تک ووٹرز کو متحرک کرنے کا کام تو کر سکتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات معکوس ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور حقیقی مسائل اس آئیڈیالوجی پر غلبہ حاصل کر لیتے ہیں کیونکہ جب بیروزگاری، تعلیمی اداروں کا زوال، امتحانات میں کرپشن اور مہنگائی جیسے مسائل سنگین ہو جائیں، تو صرف مذہبی بیانیہ یا نفرت کی بنیاد پر نوجوانوں کو مطمئن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آج کی جدید نسل کا بڑا مسئلہ عقیدہ یا ماضی کی تاریخ سے زیادہ روزگار، سنسر شپ سے آزادی اور شفافیت ہے۔ جب حکومت ان بنیادی سہولیات میں ناکام نظر آتی ہے تو وہی نوجوان جو پہلے خاموش تھے، شدید برہم ہو کر سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ اب کسی بھی ملک میں سیاسی جادو کا اثر کمزور تر ہو گیا ہے۔ اب الیکشن میں اکیلے مذہبی کارڈ کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جیسا کہ 2024ء کے عمومی انتخابات اور بعد کے سیاسی دھچکوں سے واضح ہوا کہ ووٹر اب مقامی اور معاشی مسائل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ آج کی بھارتی سیاست کی حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت ختم تو نہیں ہوئی، لیکن اس کی وہ ’’ ناقابلِ تسخیر‘‘ اور مطلق العنان چھپ بھی باقی نہیں رہی۔ اسے اب اپنے اندرونی اتحادیوں، مضبوط اپوزیشن اور سڑکوں پر موجود نوجوانوں کے دبا کے تحت کام کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ کہنا اب درست معلوم ہوتا ہے کہ مودی اپنے ہی بیانیے کے نیچے دب چکا ہے۔ نفرت اور تقسیم کی سیاست اس کے انتظامی اور معاشی مسائل کو چھپانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ تاہم، وہ مکمل سیاسی زوال کا شکار ہوتا ہے یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ اس بات پر منتج ہو گا کہ سڑکوں کا یہ عوامی غصہ الیکشن میں کسی منظم سیاسی متبادل میں تبدیل ہو۔

بھارت میں نوجوان نسل بالخصوص کاکروچ جنتا پارٹی اور مختلف طلبہ تنظیمیں مودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ نوجوانوں کا یہ غصہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ پچھلے کچھ عرصہ کی اکثر انتظامی، معاشی اور تعلیمی پالیسیوں کا مجموعی ردِعمل ہے۔ جن اہم، بنیادی مسائل نے بھارتی نوجوانوں کو اس شدید احتجاج پر مجبور کیا ان میں امتحانات کے پرچے لیک ہونا ایک بڑی وجہ ہے۔ قومی اور صوبائی سطح کے مقابلے کے امتحانات میں مسلسل کرپشن اور پرچوں کا لیک ہونا سامنے آ رہا تھا۔ نیٹ (NEET)اور دیگر امتحانات کا اسکینڈل بھی عوامی غیظ و غضب کا سبب بنا جن میں حصہ لینے کے لئے میڈیکل، انجینئرنگ اور سرکاری نوکریوں کے لئے لاکھوں طلباء سالہا سال محنت کرتے ہیں۔ ان اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کی وجہ سے نہ صرف امتحانات منسوخ ہوئے بلکہ 20لاکھ سے زائد طلبا دوبارہ امتحان دینے پر مجبور ہوئے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ حکومت تعلیمی مافیا کو لگام دینے اور شفافیت قائم رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ اس کے علاوہ بھارت میں کل بے روزگاروں کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود نجی اور سرکاری شعبے میں باوقار ملازمتوں سے محروم ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ بھارت میں حکومت کے متعدد محکموں میں لاکھوں اسامیاں خالی پڑی ہیں لیکن بھرتی کا عمل سست روی یا التوا کا شکار ہے۔ اس احتجاج کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگنی پتھ ملٹری اسکیم کے تحت فوج میں بھرتی کے روایتی نظام کو بدل کر چار سالہ عارضی کانٹریکٹ ( ’’ اگنی ویر‘‘) کا نظام متعارف کرایا گیا: اس پالیسی سے ان لاکھوں دیہی اور درمیانے طبقے کے نوجوانوں میں شدید غصہ پھیلا جو بھارتی فوج کو ایک مستقل روزگار اور پنشن کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ آزادیِ اظہار اور انٹرنیٹ پر پابندیاں بھی نوجوانوں کے غصے کا باعث بنیں۔ جین زی جو کہ بنیادی طور پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی نسل ہے، اسے حکومت کی جانب سے لگائی گئی آن لائن سنسرشپ پر اعتراض ہے جس سے سوشل میڈیا پر سے تنقیدی مواد کو ہٹانے اور اکانٹس پر پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ کی بندش بھی عوام کو پسند نہ آئی۔ احتجاج کے دوران موبائل انٹرنیٹ معطل کرنے کے اقدامات نے نوجوانوں کے جمہوریت اور آزادیِ اظہار کے حق کو متاثر کیا۔ یونیورسٹیوں کا بڑھتا ہوا سیاسی گھیرائو کچھ یوں ہوا کہ مرکزی یونیورسٹیوں ( جیسے جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، بی ایچ یو) کی خودمختاری پر اثرات اور فنڈنگ میں کمی کے باعث طلبہ کی فیسوں میں اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس تشدد بھی اس غصے کی بڑی وجہ ہے۔ خود بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی جین زی کا یہ احتجاج صرف ایک روایتی سیاسی مخالفت نہیں، بلکہ ایک سیکولر ملک میں تعلیمی شفافیت، روزگار کے حقوق اور آئینی آزادیوں کے تحفظ کے لئے اٹھائی گئی آواز ہے جو کل کلاں مودی سرکار کی فاش غلطیوں کی پاداش میں بی جے پی جیسی بڑی سیاسی جماعت کو بھی کمزور ترین جماعت کر سکتی ہے اور مودی خود تو ڈوبا ہی ہے یہ بی جے پی کو بھی لے ڈوبے گا۔ مودی سرکار کی مخالف جماعتوں نے اس احتجاج کو فوری طور پر سیاسی اور پارلیمانی طاقت دینے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی، پریانکا گاندھی نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا اور گرفتاری دی۔ ساتھ ہی اپوزیشن نے پارلیمنٹ سیشن میں ہنگامہ آرائی کر کے کارروائی روک دی اور وفاقی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ تیز کر دیا۔ واضح رہے کہ بھارت کی نصف سے زیادہ آبادی 30سال سے کم عمر کی ہے۔ معاشی نمو کے باوجود بے روزگاری اور تعلیمی اسکینڈلز نوجوانوں میں شدید مایوسی کا باعث بنے ہیں، اور اپوزیشن اس غصے کو براہ راست انتخابی بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گرفتار ہونے والے مظاہرین کے لئے مفت قانونی امداد، ضمانتوں کا بندوبست اور احتجاجی مقامات پر خوراک اور سہولیات کی فراہمی کے ذریعے بھی اپوزیشن نے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ بالآخر بی جے پی کے حق میں بہتر نہ ہو گی۔

جواب دیں

Back to top button