جنگ یا ابراہم اکارڈ

جنگ یا ابراہم اکارڈ
محمد مبشر انوار
مشرق وسطی میں جنگی داؤ پیچ مسلسل جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے،امریکہ مشرق وسطی؍ خلیج میں اپنے ان فوجی اڈوں کی حفاظت میں بھی بری طرح ناکام ہو چکا، جن کو مشرق وسطی کی حفاظت کے لئے قائم کیا گیا تھااور جن کے عوض امریکہ دہائیوں سے خلیجی ریاستوں سے عوضانہ وصول کررہا ہے۔ مشرقی وسطیٰ ؍خلیجی ریاستوں میں بالعموم دیکھا گیا ہے کہ وہ براہ راست کسی بھی قسم کی جارحیت میں ملوث ہوئے بغیر،جو معدنی وسائل انہیں میسر ہیں،ان کے بل بوتے پر ،اپنی اپنی ریاستوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے بروئے کار آتی ہیں اور عوام الناس کی حالت بہتر کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ نہ صرف گردو پیش بلکہ عالمی سیاسی بساط سے بخوبی باخبر رہتے ہوئے، اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے نہیں چوکتے اور اپنی ہرممکن کوشش کرتے ہیں کہ خطے اور دنیا بھر میں امن قائم رہے ۔ اس کی واضح مثال غزہ پر اسرائیلی درندگی کے دوران خلیجی ریاستوں بالعموم جبکہ سعودی عرب بالخصوص انتہائی فعال اور متحرک رہے کہ کسی طرح اسرائیلی درندگی کو بذریعہ سفارتکاری روکا جا سکے اور غزہ کے نہتے شہریوں کی نسل کشی کو لگام ڈالی جا سکے لیکن بدقسمتی سے سابق صدر جو بائیڈن کے اسرائیل کی جانب جھکاؤ سے ممکن نہ ہوسکا اور مزید بدقسمتی یہ ہوئی کہ موجودہ صدر ٹرمپ ،جو انتخابی مہم کے دوران انتہائی سختی کے ساتھ جنگیں رکوانے کی بات کرتے رہے اور اسرائیل کو دھمکیاں تک دیتے رہے لیکن منتخب ہونے کے بعد، ٹرمپ اسرائیل کو اپنی ظاہری خواہش کے مطابق روکنے میں بری طرح ناکام رہے۔ تاہم ٹرمپ نے دنیا میں چند جنگیں رکوائی بھی،جس کا کریڈٹ وہ آج بھی لینے سے گریز نہیں کرتے مگر اصل جنگیں،اسرائیل اور یوکرین،ان کو رکوانے میں ان کی ایک نہیں چلی اور ان جنگوں میں آج بھی انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی کوششوں میں ناکامی سمجھیں یا ایک سوچا سمجھا منصوبہ کہ یہ جنگ دن بدن مزید پھیلتی جارہی ہے اور اس کا دائرہ کار اسرائیلی منصوبے کے مطابق بتدریج پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ جیسا کہ عرض کیا کہ امریکہ بظاہر ایران میں ’’ رجیم چینج‘‘ کرنے کے منصوبہ پر عملدرآمد کروانے کے لئے ایران پر چڑھائی تو کر بیٹھا مگر درحقیقت غالب امکان یہی ہے کہ پس پردہ اسرائیلی کاوشیں موجود ہیں کہ جن کی بدولت امریکہ 12000کلومیٹر دور آ کر ایران سے سینگ پھنسا کر اپنی سپر پاور کی حیثیت کو بھی چیلنج کروا بیٹھا ہے۔ اب جب تک یہ جنگ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچتی،امریکہ کی عالمی طاقت کی حیثیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو چکا ہے کہ امریکہ کا دعوی تھا کہ وہ ایران کو دنوں میں مسل کر رکھ دے گالیکن ابھی تک جنگ کا تخمینہ دیکھا جائے تو واضح طور پر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اس جنگ میں تاحال ایران کا پلڑا بھاری ہے۔ گو کہ ایران کا نقصان ہو رہا ہے لیکن دوسری طرف امریکہ جو مشرق وسطی میں اپنے فوجی اڈے قائم کر کے یہاں کے وسائل بری طرح ہڑپ کر رہا تھا،اسے اب مشرق وسطی میں اپنے اڈوں کی حفاظت میں ناکامی کا جھومر ماتھے سجانا پڑ رہا ہے اور دنیا کو نظر آ رہا ہے کہ امریکہ اگر اپنے فوجی اڈوں کی حفاظت نہیں کرپارہا تو مشرق وسطیٰ کے ممالک کی حفاظت کس طرح کر پائے گا؟البتہ سعودی عرب کو بالخصوص داد دینا بنتی ہے کہ سعودی عرب میں جوش کے اس ماحول میں کسی بھی لمحے ہوش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا،گو کہ امریکہ و اسرائیل نے اپنی پوری کوششیں کی کہ کسی طرح سعودی عرب میں فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعہ سعودی عرب کو اکسایا جائے او راسے اس جنگ کا حصہ بنایا جائے لیکن امریکہ و اسرائیل ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہو پائے کہ بہرحال اس میں پس پردہ پاکستان کی مشاورت بھی کہیں نہ کہیں شامل رہی ہے۔
ابھی بھی اس منصوبے کو مکمل طور پر خارج از امکان نہیں سمجھا جا سکتا کہ ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں کہ کسی طرح خلیجی ممالک اس جنگ کا براہ راست ایندھن بن جائیں اور ایران کے ساتھ امریکی جنگ میں شامل ہو کر، اس کا خرچ اٹھائیں،جس کے دو فائدے یقینی طور پر امریکہ و اسرائیل کے نزدیک دکھائی دیتے ہیں کہ اس طرح جنگ کے فریق مسلم ممالک ہو ں گے تو دوسری طرف ابھی تک ایران ،جس کا ہدف خلیجی ممالک میں صرف امریکی فوجی اڈے ہیں، خلیجی ریاستیں براہ راست ہوں گی اور جو ترقی ان ریاستوں نے کئی دہائیوں میں حاصل کی ہے،وہ معکوس ہو جائیگی اور ان ریاستوں کے وسائل ایک طرف اس جنگ کی نذر ہوں گے تو دوسری طرف پھر ازسرنویہاں تعمیرنو شروع ہوگی البتہ ا س سے امریکہ کا کوئی نقصان بظاہر نہیں ہوگا ۔ جنگ کی ابتداء اسرائیل نے کی تھی اور ایرانی رجیم کو پکی جاسوسی پر شہید کردیا تھا،جواب میں ایران نے اسرائیل کی جو ٹھکائی کی،بس وہی ٹھکائی اسرائیل کی اب تک ہوئی ہے جبکہ اس کے بعد میدان امریکہ و ایران کے درمیان ہے،جس میں امریکہ و ایران ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں جبکہ اسرائیل اس آڑ میں بڑی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ لبنان اور شام میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود،لبنانی حکومت اور مسلح افواج کی لاپرواہی کہیں یا امریکی دبائو لبنانی فوج براہ راست اسرائیل کے مقابل نہیں اتر رہی البتہ حزب اللہ اس کمی کو اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے، جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی حد تک اسرائیلی پیش قدمی کو روک رہی ہے۔ یہ حزب اللہ ہی کی مزاحمت ہے کہ اسرائیل اپنے تمام تر وسائل جھونکنے کے باوجود،اپنے منصوبوں میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا اور اگر حزب اللہ کی مزاحمت کا سامنا نہ ہوتا تواسرائیل اپنے منصوبوں کو مکمل کرتے ہوئے،بیروت تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کرتااور اپنی لبنان کو بھی اپنی سرحدوں میں شامل کرلیتا۔ ایک مرتبہ لبنان پر قابض ہونے کے بعد، خودساختہ مہذب دنیا،اسرائیل کی اس چیرہ دستی پر بھی بعینہ ویسے ہی خاموش ہوجاتی جس طرح فلسطین کے قبضے پر نہ صرف خاموش ہے بلکہ اس کی حمایت و ہلا شیری بھی اسرائیل کی پشت پر ہوتی اور اس قبضہ کو مذاکرات کی آڑ میں لٹکا دیا جاتا اور جیسے فلسطینیوں پر زمین تنگ ہے،ویسے ہی لبنان کے شہریوں پر بھی زمین تنگ اور زندگی اجیرن کر دی جاتی۔ بہرحال یہ معاملہ ابھی بھی تھما نہیں بلکہ کچھ وقت کے لئے مؤخر سمجھا جانا چاہئے کہ اسرائیل نام کی ناجائز ریاست ،کسی بین الاقوامی قانون کے تحت نہ آتی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین اس ریاست پر لاگو ہوتے ہیں، لہذا دنیا کے نام نہاد انصاف پسند،اصول پسنداور امن پسندوں کے پر اسرائیلی ریاست کے ناجائز اقدامات اور من مانیوں کے سامنے جلتے دکھائی دیتے ہیں،ان کے لب سلے ہوئے،آنکھوں میں بے شرمی اور کانوں میں سیسہ پڑا دکھائی دیتا ہے۔ امن کے ان ٹھیکیداروں کو اسرائیلی چیرہ دستیاں کہیں دکھائی نہیں دیتی بلکہ اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرتے، حریت پسندوں کی تعریف ہی ان کی ڈکشنری میں بدل جاتی ہے اور انہیں دہشت گرد قرار دینے سے بھی نہیں چوکتے اور حقوق کا مطالبہ کرتے یہ کیڑے مکوڑے،ان کا خون ،اسرائیل کے لئے حلال قرار دیا جاتا ہے اور اسے اسرائیل کا وہ حق دفاع تسلیم کیا جاتا ہے کہ جس میں فریق مخالف بسااوقات اینٹوں اور پتھروں سے مقابلہ کرنے والے آتشیں ہتھیار چلاتے جبکہ ان پر دور جدید کا مہلک ترین اسلحہ بھی ان کی نظروں میں پھولوں کی مانند دکھائی دیتا ہے۔
بہرحال مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو رہی ہے اور معاملات کو دانستہ الجھایا جارہا ہے کہ کسی طرح بھی خلیجی ریاستوں کو اس مقام پر لایا جائے کہ وہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کر لیں۔ ٹرمپ کے گزشتہ دور صدارت میں ایسی کوششیں کی گئی تھی،خلیجی ریاستوں کو دفاع کے نام پر ڈرایا دھمکایا گیا تھا،ان سے دفاعی معاہدوں کے عوض خطیر رقم ہتھیانے کی کوشش بھی کی گئی تھی تو دوسری طرف ان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دباؤ بھی ڈالا گیا تھا مگر امریکی نظام کے مطابق ،ٹرمپ اپنی مسلسل دوسری مدت کے لئے منتخب نہیں ہوسکے اور ان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو پایاجبکہ اس وقت بھی ٹرمپ اپنے سابقہ منصوبے پر ہی عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں البتہ اب طریقہ کار مختلف ہے۔ اس مرتبہ ایک طرف مشرق وسطی میں جنگ کا میدان بھڑکایا جا چکا ہے،جیسا پہلے عرض کیا کہ اس جنگ میں خلیجی ریاستوں کو براہ راست ملوث کرنے کی تمام کوششیں الٹی پڑ چکی ہیںکہ ایران کا خوف بھی بہت حد تک غیر موثر ہو چکا ہے کہ خلیجی ریاستوں کے روابط ایران سے استوار ہو چکے ہیں تو ایران نے جوابی حملوں میں صرف امریکی اڈوں کو ہی نشانہ بنایا ہے جبکہ اسرائیلی فالس فلیگ آپریشنز کا جواب بھی خلیجی ریاستوں کی جانب سے انتہائی دانشمندی سے ناکام بنادیا گیا ہے۔لہذااب ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو جوہری پاور پلانٹ کی نئی پیشکش اس شرط کے ساتھ کی گئی ہے کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے تو امریکہ سعودی عرب کو جوہری پلانٹ دے گا۔بالفرض سعودی عرب جوہری پاور پلانٹ کے عوض اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا یا اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے،امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد کروایا جائے،جو امریکہ زبانی کلامی تو اس کے حق میں بات کرتا ہے مگر عملا اس کو کروانے میں ناکام ہے کہ اسرائیل سے یہ بات منوا ہی نہیں سکتا تو پھر اس کا حل کیا ہوگا؟کیا امریکہ بین السطورسعودی عرب سمیت دیگر مسلم ممالک کو یہ باور کروانے کی کوشش کررہا ہے کہ اگر ’’ ابراہم اکارڈ‘‘ کو تسلیم کرتے ہو تو ٹھیک ہے وگرنہ خطہ جنگ کے شعلوں کی نذر رہے گا؟؟







