Column

ایکس ون

ایکس ون
تحریر : صفدر علی حیدری
مظہر کلیم ایم اے کا نام ہمارے لیے اجنبی ہرگز نہ تھا۔
ٹارزن، عمرو عیار، چلوسک ملوسک، چھن چھنگلو، انگلو بانگلو اور بچوں کے دیگر سلسلوں کو ہم نہ صرف پڑھ بلکہ ہضم بھی کر چکے تھے۔ سو یہ نام ہمیں خوب یاد تھا، حالاں کہ اس عمر میں ناموں سے کب کسی کو زیادہ سروکار ہوتا ہے!بعد میں پتا چلا کہ بڑوں کے لیے بھی انہوں نے ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جسے عمران سیریز کہا جاتا ہے۔
ہم ٹھہرے ان کے قلم کے شیدائی۔ اسی اشتیاق میں بطورِ آزمائش عمران سیریز کا ایک ناول اٹھایا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ اس سے قبل صورتِ حال یہ تھی کہ ہمیں ان لوگوں پر خوب ہنسی آتی تھی جو عمران سیریز پڑھتے اور اس پر تبصرے کیا کرتے تھے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی کہ آخر لوگ جاسوسی ناولوں کے اس قدر دیوانے کیوں ہوتے ہیں۔ لیکن ہم نے صرف ایک ناول پڑھا تھا کہ بقولِ غالب:
آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
عمران نے ہمیں اپنا شکار کر لیا، اور ایسا شکار کیا کہ:
کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے
عمران سیریز کا ایسا چسکا پڑا، ایسی لت لگی کہ ہم بالکل ہی ڈھیر ہو گئے۔ پھر ہم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
یہ بھی نہیں دیکھا کہ دن ہے یا رات۔
سفر ہے یا حضر۔
گرمی ہے یا سردی۔
خزاں ہے یا بہار۔
چھٹیاں ہیں یا امتحانات۔
صحت مندی کا عالم ہے یا بیماری۔
الغرض!
ہم تھے اور عمران سیریز!
پھر پتا چلا کہ اور لوگ بھی عمران سیریز لکھ رہے ہیں۔
سو ہم نے ایچ اقبال، ایم سے ساجد، ایم اے پیرزادہ، خان آفریدی، ایس قریشی، ایم ایس قادری، نغمہ صفی، نجمہ صفی، ایم اے راحت، ایس کرن اور صفدر شاہین ، ایم اے راحت، سہیل اقبال کو بھی پڑھ ڈالا۔
اور بہت بعد میں ابن صفی کو بھی، جس نے مظہر کلیم کو پڑھا ہو، اسے ایس قریشی پسند آ جائے تو اسے معجزہ ہی سمجھا جائے گا۔ سو ہمیں بھی وہ بھی کچھ خاص پسند نہ آئے، حالاں کہ ان کے بہت سے ناول پڑھے۔
ایچ اقبال کی عمران سیریز کم پڑھی، مگر اچھی لگی۔ ان کا میجر پرمود بھی پڑھا، مگر وہ کردار کچھ خاص تاثر نہ چھوڑ سکا۔ نجمہ اور نغمہ صفی کی عمران سیریز بھی کوئی بہت خوش گوار تاثر نہ چھوڑ سکی۔
ایم اے راحت کی عمران سیریز پڑھی تو دل میں سوال اٹھا، یہ سب کیا ہے؟
ڈائجسٹ کا بادشاہ اگر عمران سیریز نہ لکھتا تو شاید بہتر ہوتا۔
ایم اے پیرزادہ باصلاحیت تھے، مگر اہرامِ مصر اور ماورائی دنیا کے گرد گھومتی ہوئی ان کی کہانیاں پڑھتے پڑھتے ایک وقت پر طبیعت اکتا گئی۔
خان آفریدی البتہ بہت پسند آئے۔ انہوں نے جو لکھا، کمال لکھا۔
صفدر شاہین بھی کچھ خاص پسند تو نہ تھے، مگر ان کے ناول دلچسپی سے پڑھا کرتے تھے اور خوب ہنستے بھی تھے۔ ان کی بے تکی باتیں بھی خوب ہنساتی تھیں۔
خاص طور پر یہ جملہ: آواز رسیور سے خارج ہوئی۔ جیسی آواز کوئی مائع شے ہو! پھر جب عمران جیسا لوہے کا چنا ایک گھونسہ کھا کر اوہ! کی آواز نکالتا تو شدید غصہ آتا۔ بھلا عمران کو بھی کوئی گھونسہ مار سکتا ہے؟
اب ذکر آتا ہے جمال پبلشرز کے مالک ایم اے ساجد کا، جن کے ناول کمال کے ہوتے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ مظہر کلیم کے بعد عمران سیریز کے مصنفین میں اگر کسی کا نمبر آتا ہے تو وہ شاید ایم اے ساجد ہیں۔
ایک اور مصنف کا ذکر ضروری ہے، اور وہ ہیں میرے استادِ محترم جناب سہیل اقبال صاحب۔
وہ علی پور کے رہنے والے ہیں اور میں نے ہشتم جماعت میں ان سے پڑھا تھا۔ انہی دنوں پتا چلا کہ وہ لکھتے بھی ہیں۔ان کے تین ناول منظرِ عام پر آئے: موت کا تعاقب، ہولناک سازش اور ایک اور ناول، جس کا نام اس وقت ذہن میں نہیں۔ پھر ایک حادثے نے انہیں عمران سیریز لکھنے سے باز رکھا۔
کاش وہ لکھتے رہتے! یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ مظہر کلیم کو ٹف ٹائم دیتے۔ پھر بھی میں نے انہیں اپنے پسندیدہ مصنفین کی ٹاپ ٹین فہرست میں رکھا ہے۔
اب بات ہو جائے مظہر کلیم کی۔ وہ شخص جس نے واقعی سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ کوئی بھی مصنف ان کا مقابلہ نہ کر پایا۔ ایس قریشی، ایچ اقبال اور صفدر شاہین کچھ عرصے تک ان کے مقابل رہے، مگر مظہر کلیم کی رفتار اور مقبولیت کا مقابلہ کرنا آسان نہ تھا۔ ایم اے راحت تو اس میدان میں بری طرح ناکام ہوئے۔ آج بھی کبھی کبھی دکھ ہوتا ہے کہ انھوں نے عمران سیریز کیوں لکھی۔ ایم ایس قادری کو تو میں بھول ہی گیا تھا۔ وہ ناول کو اس انداز سے اٹھاتے جیسے کوئی شاہکار پیش کرنے جا رہے ہوں، مگر کہانی آگے بڑھتے بڑھتے اکثر اپنی تمام تر گھن گرج کھو دیتی۔
ناول پڑھ کر ذہن میں ایک ہی بات آتی: کھودا پہاڑ، نکلا چوہا!
مظہر کلیم کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ زبان و بیان کے ماہر تھے۔ وہ کہانی کو صرف آگے نہیں بڑھاتے تھے، اسے پڑھنے والے کے ذہن میں بساتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مظہر کلیم کو سب سے زیادہ ٹف ٹائم جس مصنف نے دیا، وہ شاید سب سے زیادہ ڈھیلا بھی تھا۔ یعنی صفدر شاہین! سیکس، پھکڑ پن اور سنسنی کے باعث وہ ایک طویل عرصے تک مظہر کلیم کا مقابلہ کرتے رہے۔ ان کی کامیابی یہ تھی کہ لوگ انھیں پڑھتے ضرور تھے۔
وہ ثابت قدم اور سخت جان حریف تھے۔ اپنی مرضی سے ناول چھاپتے رہے۔ فیاض بک ڈپو فیصل آباد سے، لاہور سے اور نہ جانے کہاں کہاں سے۔ پھر سنا کہ انھوں نے سائیکل کی دکان کھول لی۔ پتا نہیں یہ بات سچ ہے بھی یا نہیں! بعد ازاں وہ ڈائجسٹ کی دنیا میں چلے گئے۔ بچوں کے لیے بھی لکھا اور خوب لکھا۔ آج کل گوشہ نشین ہیں۔ سو ناول لکھنے والے ظہیر نے بھی عمران سیریز میں ہاتھ ڈالا اور خود کو ضائع کر لیا۔ وہ مظہر کلیم کی اس قدر نقل کرتے تھے کہ کئی جگہ اصل اور نقل میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ میں نے ان کا ایک ناول پڑھنے کی کوشش کی، مگر ادھورا چھوڑ دیا۔کاش وہ صرف بچوں کے لیے لکھتے! شاید بڑا نام کماتے۔ مظہر کلیم ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ایک کامیاب وکیل۔ ایک باکمال صداکار۔ بچوں کے بہت بڑے ادیب۔ اور عمران سیریز کا ایک ایسا نام جس کا کوئی متبادل نہیں۔کوئی ان سے بڑھ کر تھا تو محض ابن صفی۔ اور وہ بھی اس لیے کہ ابن صفی صرف عمران سیریز کے مصنف نہیں تھے، وہ بذاتِ خود ایک بڑے ادیب تھے۔ پاکستان کے دس بڑے نثر نگاروں میں ان کا شمار کیا جا سکتا ہے۔ جب میں نے ابن صفی کے دو ایک ناول پڑھے تو اسی وقت دل نے فیصلہ سنا دیا، ابن صفی کا کوئی جوڑ نہیں۔ کوئی نہیں۔
مظہر کلیم بھی نہیں۔ اگر مظہر کلیم کے ابتدائی تین سو ناول، یعنی وہ دور جب ناولوں کے نمبر چلتے رہے، اٹھا کر ابن صفی کے ناولوں کے مقابل رکھے جائیں تو شاید انیس بیس کا فرق ہو یا اٹھارہ بیس کا۔ کئی ناول تو واقعی ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً: شلماک، عمران کی موت، بانکے مجرم، گنجا بھکاری، اسکیپ گرے، ہارا کاری، کایا پلٹ،جیالے جاسوس، کاروانِ دہشت، فیس آف ڈیتھ، بلیک ڈیتھ وغیرہ۔
اور اگر میں یہ کہوں کہ مظہر کلیم کے پہلے سو ناول ابن صفی کے مقابلے میں ساڑھے انیس پونے بیس تھے تو ہرگز بے جا نہ ہوگا۔ مظہر کلیم کی عظمت کیا بیان کی جائے! ایک ایسا ادیب جس نے اکیلے سینتیس برس تک عمران سیریز کا بوجھ اٹھائے رکھا۔ ایک ایسا شخص جس نے تنہا عمران سیریز کو عروجِ کمال تک پہنچا دیا۔
میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر مظہر کلیم نے عمران سیریز پر قلم نہ اٹھایا ہوتا تو شاید عمران کا ذکر آج صرف تاریخ کی خشک کتابوں میں ملتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن صفی نے اپنا نام اور مقام خود پیدا کیا۔ شاید ہی اردو کا کوئی ایسا ادیب ہو جو ان کے برابر پڑھا گیا ہو۔ انہوں نے اردو ادب، خصوصاً جاسوسی ادب، کو بامِ عروج تک پہنچایا اور اردو کو دوسری عالمی زبانوں کے جاسوسی ادب کے مقابل لا کھڑا کیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر مظہر کلیم اتنے طویل عرصے تک عمران سیریز نہ لکھتے تو نئی نسل ابن صفی کے نام تک سے بھی شاید واقف نہ ہوتی۔ یا زیادہ سے زیادہ ان کا نام جانتی۔ ان کے کام سے بے خبر رہتی۔ مظہر کلیم نے عمران کو زندہ رکھا۔ اور عمران نے ابن صفی کو نئی نسل تک پہنچایا۔
یہ ایک عجیب سا ادبی تسلسل ہے۔ ایک قلم کار نے کردار تخلیق کیا۔ دوسرے نے اسے عوام کے دلوں میں زندہ رکھا۔اور یوں دونوں ایک دوسرے کے ادبی سفر کا حصہ بن گئے۔ ہمارے لیے یہ بھی ایک اعزاز ہے کہ کم از کم چار ناولوں میں ہمارے خطوط شائع ہوئے۔ اور یہ بتاتے ہوئے بھی ہمیں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ مٹھی میں کائنات ‘‘ مظہر کلیم ایم اے کے نام منسوب کیا۔ اب نئی عمران نہیں چھپ رہیں۔ آخری کوشش ہم نے کی تھی، ہم نے یعنی، سید علی حسن گیلانی، ارشاد العصر جعفری، خالد نور، ڈاکٹر حامد حسن، نجم حجازی، بابر امین ابر ، محمد شہزاد علوی اور راقم الحروف۔ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کوئی درجن بھر ناول شائع کیے۔ مگر افسوس یہ سلسلہ ٹوٹ گیا اور ناولوں کی اشاعت رک گئی ۔ کسی نے مظہر کلیم سے پوچھا تھا، اگر عمران ایکس ٹو ہے تو ایکس ون کون ہے؟۔ انہوں نے جواب دیا، ناول کے بیک ٹائٹل پر دیکھ لیں۔ واقعی! وہ شخص ایکس ون تھا۔ اور رہے گا۔ مظہر کلیم ایم اے کو ہمارا سلام! خدا ہمارے روحانی استاد کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔
خدا ان کی مغفرت کرے۔ عجب آزاد مرد تھا!

جواب دیں

Back to top button