ColumnQadir Khan

جنگیں خزانے بھی ہارتی ہیں: معاشی زوال اور عسکری طاقت کا نیا المیہ

جنگیں خزانے بھی ہارتی ہیں: معاشی زوال اور عسکری طاقت کا نیا المیہ
تحریر : قادر خان یوسف زئی
تاریخ کے تاریک اور گمگشتہ دالان میں اگر جنگوں کی ٹوٹی ہوئی تلواریں، راکھ ہوتے ہوئے ٹینک اور اجڑے ہوئے شہر محفوظ کیے جا سکتے ہیں تو اس کٹھور اور بے رحم عجائب گھر میں قومی بجٹ کی وہ فربہ اور بے جان فائلیں بھی سجائی جانی چاہئیں جن کی سیاہی نے دراصل سلطنتوں کے مقسوم لکھے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے کہ بڑی طاقتیں ہمیشہ میدانِ کارزار میں شکست سے دوچار نہیں ہوتیں، بلکہ اکثر و بیشتر ان کے اپنے خزانی ہی ان کے زوال کا پروانہ ثابت ہوتے ہیں۔ روم سے لے کر برطانیہ تک اور سوویت یونین کی آہنی دیواروں سے لے کر امریکہ کے جدید ترین ایوانوں تک، ہر اس طاقت نے جس نے دنیا کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کی بھول کی، ایک نہ ایک مرحلے پر یہ کسک بھرا سوال ضرور سنا کہ ’’ اگر ہم جنگ جیت بھی گئے تو اس کی بھاری قیمت کون چکائے گا؟‘‘۔
آج یہی سوال واشنگٹن کے سنگین دروازوں پر اس شدت سے دستک دے رہا ہے کہ پوری امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ایوان لرز اٹھے ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا یہ تازہ اعتراف کہ ایران کے خلاف جاری غیر یقینی فوجی کارروائیوں پر اب تک تقریباً ساڑھے سینتیس ارب ڈالر پانی کی طرح بہائے جا چکے ہیں، محض ایک خشک عدد یا معمولی اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے۔ یہ اس خطرناک دوراہے کی ہوشربا نشاندہی ہے جہاں ریاست کی عسکری ہیبت اور اس کی معاشی برداشت کی قوت آمنے سامنے کھڑی ایک دوسرے کو گھور رہی ہیں۔
تاریخ کی گواہی بتاتی ہے کہ ہر جنگ کی ایک اپنی معاشی بھوک ہوتی ہے جو کبھی پیٹ نہیں بھرتی۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں جب امریکی جنگی مشینری نے افغانستان کے ریگستانوں کا رخ کیا تو اس وقت شاید ہی کسی نے اس امر کا ادراک کیا ہو کہ یہ مہم جوئی دو دہائیوں تک اس خطے کو خون میں نہلاتی رہے گی۔ برائون یونیورسٹی کے معروف ’’ کوسٹس آف وار‘‘ پراجیکٹ کے چشم کشا اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکی محکمہ دفاع کے براہِ راست اخراجات تو سینکڑوں ارب تک محدود رہے، مگر جب اس میں سابق فوجیوں کی تاحیات طبی سہولیات، جنگ زدہ خطے کی تعمیرِ نو، قرضوں پر چڑھنے والا ہوشربا سود اور دیگر بالواسطہ اخراجات کا بوجھ شامل کیا گیا تو یہ گراف دو اعشاریہ تین ٹریلین ڈالر سے بھی کہیں آگے نکل گیا۔ وہ محض ایک عسکری ہدف کا حصول نہیں تھا، بلکہ امریکی معیشت کے سینے پر لادا گیا ایک ایسا بوجھ تھا جس نے آنے والی نسلوں کی خوشحالی کو بھی گروی رکھ دیا۔
اب ایران کا تضاد نما معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ بظاہر یہ منظرنامہ افغانستان جیسا ہی دکھائی دیتا ہے، مگر یہ ایک فریبِ نظر ہے۔ افغانستان بنیادی طور پر ایک زمینی محاذ تھا، لیکن ایران کے ساتھ کشیدگی کی سب سے بڑی اور نازک رگ آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کی رگِ جاں یعنی خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ یہاں ایک ہلکی سی چنگاری بھی عالمی منڈیوں میں بھوکمپ برپا کرنے کے لیے کافی ہے، اور عسکری کارروائی تو اس بے چینی کو ایک اَن مٹ معاشی بحران میں بدل سکتی ہے۔ یہاں جنگی جہازوں کی موجودگی کا مطلب صرف بندوقوں کی نمائش نہیں، بلکہ بحری قافلوں کی حفاظت، کائناتی نگرانی، مہنگے ترین میزائل شکن نظام، لاجسٹکس اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر چلنے والے آپریشنز کے وہ پہاڑ جیسے اخراجات ہیں جو معیشت کا ستیہ ناس کر دیتے ہیں۔ اس آگ کی لپیٹ میں صرف واشنگٹن یا تہران نہیں آتا، بلکہ دنیا بھر کی شپنگ انشورنس کمپنیاں، تجارتی جہازوں کے بدلے ہوئے راستے اور عام آدمی کی جیب بھی برباد ہو جاتی ہے۔
تو پھر کیا امریکہ جیسی دیو قامت معیشت اس طوفان کو جھیل نہیں سکتی؟ بظاہر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ واشنگٹن کی پاس وسائل کا انبار ہے، اس کا مالیاتی نظام دنیا کا سب سے مستحکم نظام ہے اور ڈالر کی عالمی بالادستی اسے سستے قرضے فراہم کرتی ہے۔ ’’ رینڈ کارپوریشن‘‘ اور ’’ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ جیسے باوقار دفاعی ادارے بھی اس نکتہ پر متفق ہیں کہ اگر یہ کارروائیاں محدود دائرے تک رہیں اور ایران کے خلاف فضائی حملوں سے آگے نہ بڑھیں تو امریکہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر اس کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن اس دعوے کے پیچھے ایک ایسی شرط چھپی ہے جو تاریخ نے ہمیشہ توڑی ہے۔ جنگوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ وہ کاغذی منصوبوں کے مطابق شروع تو خوش اسلوبی سے ہو جاتی ہیں، مگر ان کا انجام کسی کے قابو میں نہیں رہتا۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں عقلِ کل ہونے کا دعویٰ کرنے والے سیاستدان مات کھا جاتے ہیں۔ امریکہ اس وقت اپنی تاریخ کے بلند ترین وفاقی قرضوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ اس کے اپنے اندر صحت، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے جیسے عوامی فلاح کے شعبے چیخ رہے ہیں۔ جب جنگ کا یہ سارا بوجھ ٹریژری بانڈز کے ذریعے مستقبل کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے، تو وقتی طور پر معیشت سنبھلی رہتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک دیمک ہے جو اندر ہی اندر معیشت کو چاٹ رہی ہوتی ہے۔ برطانیہ نے دو عالمی جنگوں کا بوجھ اٹھا کر اپنی سلطنت کا سورج خود اپنے ہاتھوں ڈبو دیا تھا، اور سوویت یونین کی طاقتور ریاست بھی عسکری کمالات کی وجہ سے نہیں بلکہ دفاعی اخراجات کے بوجھ تلے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی تھی۔
اگر سفارت کاری نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور ہتھیار ہی فیصلے کرتے رہے، تو تاریخ کا یہ ورق بھی اسی المیے پر رقم ہوگا کہ طاقتور ترین سلطنتیں دشمن کی تلوار سے نہیں، بلکہ اپنے ہی خزانے کی راکھ سے شکست کھا جاتی ہیں۔ خزانے خالی ہونے کا یہ سفر محض معاشی زوال پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے تانے بانے معاشرتی اور اخلاقی ڈھانچے کی تباہی سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ جب ایک ریاست اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق، روزگار اور فلاحی منصوبوں کا پیسہ بارود اور بارود کی ڈھیروں راکھ پر جھونک دیتی ہے، تو اندرونی انتشار کا وہ طوفان اٹھتا ہے جسے کوئی فوج نہیں روک سکتی۔ ویتنام اور عراق کے میدانِ جنگ نے امریکہ کو صرف معاشی طور پر نہیں ہلایا، بلکہ اس کے اجتماعی شعور کو بھی گہرے زخم دئیے جن کا رس رسنا آج تک بند نہیں ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عسکری جنون معاشی حقیقت پسندی کو نگل لیتا ہے، تو بڑی سے بڑی سپر پاور بھی کاغذ کی نا ثابت ہوتی ہے۔
اس نازک اور خطرناک موڑ پر، جہاں دنیا ایک بار پھر جنگ کی ہولناک بھٹی کے دہانے پر کھڑی ہے، اصل دانائی ہتھیار سونتنے میں نہیں بلکہ مکالمے اور سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے میں مضمر ہے۔ اگر واشنگٹن اور تہران نے اس تاریخی سبق کو فراموش کیا اور عسکری غرور کو بقا کا واحد ضامن سمجھا، تو آنے والا کل کسی فاتح کا استقبال نہیں کرے گا، بلکہ یہ صدی ایک اور مالی اور انسانی المیے کی گواہ بن جائے گی۔ لہٰذا، اس سے پہلے کہ تُمہاری ترویج کردہ جنگیں خود تمہاری معیشت کے لیے گورکن ثابت ہوں، ہوش کے ناخن لینا ہوں گے، کیونکہ آخری فتح توپوں کی گرج میں نہیں، بلکہ عقلِ کل کے فیصلوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button