Column

ہڑتال مسئلے کا حل نہیں

ہڑتال مسئلے کا حل نہیں
ملک اس وقت معاشی استحکام کی جانب سفر کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت مہنگائی پر قابو پانے، سرمایہ کاری بڑھانے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کرانے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، پٹرول پمپ مالکان کی جانب سے ہڑتال اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان ایک تشویش ناک پیش رفت ہے۔ اگرچہ ہر شعبے کو اپنے معاشی مفادات کے تحفظ اور جائز مطالبات پیش کرنے کا آئینی و قانونی حق حاصل ہے، تاہم ایسے اقدامات جو پورے ملک کی نقل و حرکت، تجارتی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کو متاثر کریں، ان سے حتی الامکان گریز کیا جانا چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات کسی بھی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی فراہمی میں معمولی خلل بھی فوری ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، تجارت، صحت اور دیگر بنیادی شعبوں کو متاثر کرتا ہے۔ ایمبولینس سے لے کر اسکول وین تک، پبلک ٹرانسپورٹ سے لے کر اشیائے خورونوش کی ترسیل تک، ہر شعبہ پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل دستیابی کا محتاج ہے۔ ایسے میں اگر ملک بھر کے پٹرول پمپ بند ہو جائیں تو سب سے زیادہ مشکلات عام شہری کو برداشت کرنا پڑتی ہیں، جس کا اس تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پٹرول پمپ مالکان اپنے کاروباری اخراجات، مہنگائی، آپریشنل لاگت اور منافع کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہوں گے۔ اگر موجودہ مارجن واقعی ان کے لیے ناکافی ہے تو حکومت کو ان کے موقف کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔ ایک مضبوط معیشت اسی وقت وجود میں آتی ہے جب حکومت، کاروباری طبقہ اور عوام باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اس لیے مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے اور جائز مطالبات پر مثبت انداز میں غور کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ حکومت کو صرف ایک طبقے کے مفادات نہیں بلکہ پورے ملک کے معاشی اور مالیاتی تقاضوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹیکسوں اور مارجن سے متعلق ہر فیصلہ قومی خزانے، مالیاتی نظم و ضبط، بین الاقوامی منڈی کی صورتحال اور عوامی مفادات سے جڑا ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت اگر کسی معاملے میں احتیاط سے کام لے رہی ہے تو اسے محض ضد یا بے حسی قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہڑتالیں اور کاروبار کی مکمل بندش شاذ و نادر ہی کسی مسئلے کا مستقل حل ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے برعکس ان سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی آمدن رک جاتی ہے، اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور عوام کو غیر ضروری ذہنی دبا اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات مصنوعی قلت پیدا ہونے کے خدشے سے لوگ ضرورت سے زیادہ خریداری شروع کر دیتے ہیں، جس سے بحران مزید سنگین ہوجاتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان ابھی مکمل معاشی استحکام کی منزل سے دور ہے۔ حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائر، مالیاتی خسارے، توانائی کے شعبے کے مسائل اور مہنگائی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں ہر ایسا اقدام جو معاشی سرگرمیوں میں تعطل پیدا کرے، قومی مفاد کے لیے سودمند نہیں ہوسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ملک کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھیں اور ایسے فیصلوں سے اجتناب کریں جن کے منفی اثرات براہِ راست عام شہری تک پہنچتے ہوں۔حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ پٹرول پمپ مالکان کے نمائندوں کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر مدعو کرے، ان کے تحفظات سنے اور قابلِ عمل حل تلاش کرے۔ اسی طرح پٹرول پمپ مالکان کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہڑتال جیسے آخری آپشن سے حتی الامکان گریز کریں۔ اختلافات کو بات چیت، دلیل اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنا ہی ایک مہذب اور جمہوری معاشرے کی روایت ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچنے کے لیے ایک مستقل مشاورتی نظام تشکیل دے، جس میں پٹرولیم ڈیلرز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، متعلقہ وزارتوں اور دیگر فریقوں کے درمیان باقاعدہ رابطہ موجود ہو۔ اگر مسائل کو وقت پر سنا اور حل کیا جائے تو ہڑتال یا کاروبار بند کرنے کی نوبت ہی پیش نہیں آئے گی۔ مستقل رابطہ اور اعتماد کا ماحول ہی پائیدار حل کی بنیاد بنتا ہے۔ عوام کی مشکلات کو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پٹرول پمپوں کی بندش کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے اشیائے خورونوش کی قیمتیں، ٹرانسپورٹ کے کرائے، صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر فیصلہ کرتے وقت عام آدمی کے مفاد کو اولین ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ ریاست اور کاروباری اداروں دونوں کی اصل ذمے داری عوام کی خدمت ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومت اور آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن جلد از جلد مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کا قابلِ قبول حل تلاش کریں گے۔ قومی مفاد اسی میں ہے کہ کاروبار معمول کے مطابق جاری رہے، عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور تمام فریق باہمی احترام اور اعتماد کے ساتھ اپنے اختلافات ختم کریں۔ ہڑتال وقتی دبا تو پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار حل ہمیشہ افہام و تفہیم، برداشت اور ذمے دارانہ مکالمے سے ہی نکلتا ہے۔
خسرہ کیخلاف فوری اقدامات ناگزیر
پاکستان میں رواں سال خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اس کے باعث بچوں کی اموات انتہائی تشویش ناک صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ ملک بھر میں اب تک 102بچوں کی جانیں ضائع ہونا اور ہزاروں مشتبہ و تصدیق شدہ کیسز سامنے آنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس قابلِ علاج اور قابلِ تدارک مرض پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔ خاص طور پر سندھ میں 53بچوں کی اموات اور ہزاروں کیسز کا سامنے آنا متعلقہ اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ خسرہ کوئی نیا مرض نہیں، بلکہ ایک ایسی متعدی بیماری ہے جس سے مثر حفاظتی ٹیکہ کاری کے ذریعے بڑی حد تک بچائو ممکن ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بعض علاقوں میں ویکسی نیشن کی کم شرح، والدین میں آگاہی کی کمی، دور دراز علاقوں میں طبی سہولتوں کی محدود دستیابی اور بعض اوقات حفاظتی ٹیکوں سے متعلق غلط فہمیوں کے باعث یہ بیماری ہر سال بچوں کی جانیں لے رہی ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام چلا رہے ہیں، تاہم موجودہ اعداد و شمار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ان کوششوں کو مزید موثر، وسیع اور مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔ صرف شہروں ہی نہیں بلکہ دیہی اور دور افتادہ علاقوں تک بھی ویکسی نیشن ٹیموں کی رسائی یقینی بنانا ہوگی، تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکے سے محروم نہ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ والدین کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگوانا صرف انفرادی ذمے داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کے تحفظ کا ذریعہ بھی ہے۔ ذرائع ابلاغ، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی رہنما اور سول سوسائٹی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، تاکہ ویکسین سے متعلق بے بنیاد خدشات کا خاتمہ ہو اور اعتماد میں اضافہ ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ خسرہ سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حکمت عملی اختیار کرے، بیماری کی موثر نگرانی، بروقت تشخیص، علاج اور حفاظتی ٹیکہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط بنائے، جبکہ صوبائی حکومتیں بھی اس ضمن میں بھرپور تعاون کریں۔ خسرہ سے ہونے والی ہر موت دراصل ایک ایسا نقصان ہے جسے بروقت احتیاط اور موثر اقدامات سے روکا جا سکتا ہے۔ اگر آج سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ مستقبل میں مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بچوں کی صحت اور محفوظ مستقبل کے لیے یہی وقت ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور عوام مل کر اس بیماری کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کریں۔

جواب دیں

Back to top button