کشمیری مہاجرین کے خون کا فیصلہ

کشمیری مہاجرین کے خون کا فیصلہ
تحریر: تجمل حسین ہاشمی
آزاد جموں و کشمیر میں عوامی بے چینی اور احتجاج کوئی اچانک پیدا ہونے والا معاملہ نہیں۔ مہنگائی، بجلی کی قیمت، بے روزگاری، صحت اور تعلیم کی ابتر صورتحال، انتظامی کمزوریاں اور عوامی شکایات برسوں سے موجود ہیں۔ ایسے مطالبات دنیا بھر کی ریاستوں کو بھی درپیش رہتے ہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ان مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرنا شہریوں کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور حکومتیں اس حق کو تسلیم کرتی ہیں اور ایکشن بھی کرتی ہیں۔ حکومتوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
جب جائز مطالبات کے ساتھ ایسے مطالبات بھی شامل ہو جائیں جو قومی مفاد، آئینی ڈھانچے اور کشمیر کاز کو نقصان اور جموں مہاجرین حقوق کو متاثر کر سکتے ہوں تو پھر ریاست کے لیے غور طلب بات ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے آزاد کشمیر اسمبلی کی 12مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ نہ صرف سیاسی طور پر متنازع ہے بلکہ موجودہ آئینی ڈھانچے سے بھی متصادم ہے۔ یہ نشستیں آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کا حصہ ہیں، اس لیے ان کا خاتمہ نہ کسی احتجاجی دبا سے ممکن ہے اور نہ کسی انتظامی حکم سے ہو گا، بلکہ اس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ عوامی حقوق کی علمبردار تنظیم کمیٹی نے عوامی مسائل کے بجائے ایک ایسے مطالبے کو اپنی تحریک کا حصہ بنا لیا جس کے آئینی، قومی اور بین الاقوامی اثرات نہایت گہرے ہیں اور ایسے مطالبات کرنا جو دشمن کے سوچوں کو تقویت دینے کے مترادف ہو تو پھر اس پر ریاست کا سوچنا ضروری اور ایکشن لینا بھی ضروری ہے۔ یہ 12نشستیں آخر کیوں وجود میں آئیں؟ کیا یہ کسی سیاسی حکومت کے لئے تحفہ ہیں یا ان کے پیچھے تاریخی حقیقت ہے؟1947ء کی تقسیمِ برصغیر کے وقت جموں کے لاکھوں مسلمان اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ جیسے بھارت سے لوگ اے جو خود کو مہاجر کہتے ہیں۔ انہوں نے جانیں، مال، جائیدادیں اور اپنی نسلوں کا مستقبل قربان کیا لیکن اپنے وطن اور اپنی شناخت سے دستبردار نہیں ہوئے ۔ جموں مہاجرین کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنے کے لیے آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مخصوص نشستیں رکھی گئیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور اس کے مہاجرین آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے دعویدار ہیں۔ یہ نشستیں صرف نمائندگی نہیں بلکہ پاکستان کے اس تاریخی اور اصولی موقف کی علامت بھی ہیں کہ کشمیر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ آزاد کشمیر کمیٹی ان سیٹوں کو ختم کرنے کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے تو پھر جموں کے مہاجرین کے آئینی اور سیاسی حقوق ختم کرنے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا حقوق کی جنگ صرف آزاد کشمیری طبقے کے لیے ہے؟ کیا مہاجرین اس ریاست کا حصہ نہیں؟ کیا ان کی قربانیوں کی کوئی حیثیت نہیں؟ ایک طرف عوامی حقوق کا نعرہ لگایا جائے اور دوسری طرف انہی کشمیری مہاجرین کی نمائندگی ختم کرنے کی بات کی جائے جن کی قربانیاں کشمیر کی تاریخ کا حصہ ہیں تو یہ ایک واضح نفرت اور دشمن کا ایجنڈا نظر آتا ہے، اس بات کا جواب ایکشن کمیٹی کو قوم کے سامنے دینا ہو گا۔
حکومتِ آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت کا موقف واضح ہے کہ یہ نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی انتظامی فیصلے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کا استدلال ہے کہ ان نشستوں کا خاتمہ نہ صرف آئینی ترمیم کا متقاضی ہے بلکہ اس سے کشمیر کاز پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ یہ نشستیں ریاست جموں و کشمیر کی وحدت، مہاجرین کی نمائندگی اور پاکستان کے بین الاقوامی موقف کی علامت ہیں ۔ حکومتی حلقوں اور عام شہریوں کے مطابق اس مطالبے کو تسلیم کرنا درحقیقت ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی حیثیت اور پاکستان کے سفارتی موقف کو کمزور یا پھر پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے ۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
بلاشبہ، اس مطالبے کے حامی آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی اپنی سیاسی اور آئینی دلیل رکھتے ہیں، لیکن ایک سوال ایسا ہے جس کا جواب قوم جاننا چاہتی ہے اگر کل یہ نشستیں ختم ہو گئیں تو پاکستان میں آباد لاکھوں جموں و کشمیر کے مہاجرین کی نمائندگی کون کرے گا؟ ان کے سیاسی حقوق کا محافظ کون ہوگا؟ اور عالمی سطح پر پاکستان کس بنیاد پر یہ موقف اختیار کرے گا کہ وہ پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے؟۔
ایکشن کمیٹی کو قوم کے سامنے یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اگر 12مہاجر نشستیں ختم کر دی جائیں تو ان لاکھوں مہاجرین کی سیاسی آواز کس فورم پر سنی جائے گی؟ کیا ان کے لیے کوئی متبادل نمائندہ نظام موجود ہے ؟ اگر نہیں، تو کیا یہ مطالبہ عملی طور پر مہاجرین کو سیاسی طور پر بے اختیار کرنے کے مترادف نہیں ہو گا ؟ اگر یہ ذمہ دار عوامی تحریک ہے تو اس سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی طبقے کے حقوق سلب کرنے کے بجائے سب کے حقوق کے تحفظ کی بات کرے۔ اپنے پیٹ کی پروہ کرنا بند کرے ۔
یقینا ایسے مطالبات سے بھارت کے موقف کو تقویت ملے گی جو برسوں سے کشمیر کے مسئلے کو محدود کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے؟، اس سوال کا اٹھنا فطری ہے، لیکن اس کا جواب حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہی دیا جانا ضروری ہے ۔ ایسے مطالبات کئی خدشات کو جنم دیتے ہیں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بھارتی حکومت کی سرپرستی یا حمایت کو تقویت دے رہی ہے۔ البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کوئی مطالبہ پاکستان کے سفارتی موقف یا کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے تو اس پر سنجیدہ غور و فکر ضروری ہو جاتا ہے اور ملکی سلامتی اداروں کو اسے سنجیدگی سے دیکھنا چاہے ۔ ملک کے بیشتر لوگوں کو اس مسئلہ سے متعلق آگاہی نہیں ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر لوگوں پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ حقیقت میں ایسا بالکل بھی نہیں ہے، پاکستان میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی تعداد لاکھوں میں ہے ، یہ خاندان کئی دہائیوں سے پاکستان میں آباد ہیں مگر ان کی شناخت آج بھی ریاست جموں و کشمیر سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نمائندگی کو ایک آئینی اور قومی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کا حل وقت کی ضرورت ہے۔ انہیں سستی بجلی، معیاری تعلیم، بہتر صحت، روزگار اور شفاف حکمرانی ملنی چاہیے۔ یہ مطالبہ تو پورے پاکستانی قوم کا ہے لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ ایکشن کمیٹی نے ان حقیقی عوامی مسائل کے ساتھ ایک ایسا متنازع مطالبہ بھی جوڑ دیا ہے جس نے پوری تحریک کی سمت کو دشمن انڈیا کی سوچ سے جوڑ دیا ہے ۔ اگر ان کی کوشش عوامی ریلیف، مہنگائی اور گڈ گورننس پر مرکوز رہتی تو شاید حکومت پر دبائو بھی زیادہ موثر ہوتا، لیکن مہاجر نشستوں کے خاتمے جیسے مطالبے نے عوامی تحریک کو ایک ایسے آئینی تنازع میں دھکیل دیا ہے جس نے اصل مسائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
آج ضرورت تصادم کی نہیں بہتر حکمت عملی ہے ۔ ضرورت تقسیم کی نہیں، اتحاد کی ہے۔ ایکشن کمیٹی نے 12نشستوں کے خاتمہ پر تفریق ، تقسیم اور نفرت کو جنم دیا ہے اگر آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق عزیز ہیں تو جموں کے مہاجرین کے حقوق بھی اتنے ہی مقدس ہونے چاہئیں۔ اگر ہم ایک کے حقوق کے لیے دوسرے کے حقوق قربان کرنے لگیں تو نقصان صرف کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے قومی بیانیے کا ہوگا۔
کشمیر صرف زمین کا نہیں، تاریخ، شناخت، قربانی اور حقِ خودارادیت کا مقدمہ ہے۔ اس مقدمے کو کمزور کرنے والا ہر قدم، خواہ وہ دانستہ ہو یا نادانستہ، آنے والی نسلوں کے سامنے کالی تاریخ بن جائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوامی حقوق کے نام پر ایسے مطالبات پیش کرنا درست ہے جو آئینی پیچیدگیوں میں الجھے ہوئے ہوں، مہاجرین کے حقوق پر سوالیہ نشان کھڑا کریں اور کشمیر کاز کو کمزور کرنے کا تاثر پیدا کریں؟ اگر واقعی مقصد عوامی فلاح ہے تو پھر تحریک کو ایسے متنازع مطالبات سے اجتناب کرتے ہوئے تمام کشمیریوں، خواہ وہ آزاد کشمیر میں رہتے ہوں یا جموں کے مہاجرین ہوں، سب کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ یہی قومی مفاد، آئینی تقاضا اور کشمیر کاز کا حقیقی تقاضا بھی ہے۔ اس طرز کے کئی مسائل دنیا بھر کی کئی ریاستوں میں موجود ہیں، جو آج تک حل نہیں ہو سکے۔
تجمل ہاشمی







