ColumnQadir Khan

سمندر کا شکنجہ اور عالمی طاقتوں کا امتحان

سمندر کا شکنجہ اور عالمی طاقتوں کا امتحان
تحریر : قادر خان یوسف زئی
خلیج کے نیلگوں پانیوں کو دور سے دیکھیں تو ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ تجارتی جہاز ایک قطار میں اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں نظر آتے ہیں اور بندرگاہوں کی روشنیاں رات کے اندھیرے میں بھی زندگی کا احساس دلاتی ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے دنیا کی معیشت کا پہیہ کبھی نہیں رکے گا اور یہ سفر یونہی صدیوں تک بلا تعطل جاری رہے گا۔ مگر یہ پرسکون سطح دراصل ایک بہت بڑے طوفان کو اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ جب جنگ کی آہٹ سمندر کے کناروں تک پہنچتی ہے تو سب سے پہلے یہی سکون غارت ہوتا ہے۔ سمندر محض تجارت کا راستہ نہیں رہتا، بلکہ وہ طاقت، خوف، سیاست اور عالمی بساط کا ایک ایسا اکھاڑا بن جاتا ہے جہاں دنیا کی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے اپنی پوری قوت جھونک دیتی ہیں۔ آج مشرق وسطیٰ میں جس بحران کے سائے گہرے ہو رہے ہیں، اس کا اصل تجزیہ محض کسی ایک گزرگاہ کی بندش تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔اس بحران کا اصل اور سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر ایران اور اس کے حامی گروہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو ایک ساتھ کشیدگی کی لپیٹ میں لے آئیں، تو عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ، یورپ اور عرب خلیجی ریاستوں کا ردعمل کیا ہوگا۔ یہ محض دو ملکوں کی فوجی برتری کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کی معاشی شہ رگ پر رکھے گئے اس شکنجے کی کہانی ہے جس کے دونوں سرے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا وہ دل ہے جہاں سے دنیا بھر کا تیل گزرتا ہے، جبکہ باب المندب عالمی تجارت کا وہ دروازہ ہے جو ایشیا کو یورپ سے ملاتا ہے۔ اگر تہران آبنائے ہرمز میں اپنے جغرافیائی کنٹرول اور باب المندب میں اپنے حلیفوں کے ذریعے ان دونوں گزرگاہوں کو بیک وقت دبا میں لاتا ہے، تو یہ دنیا کے گلے میں ایک ایسا پھندا ڈالنے کے مترادف ہوگا جس پر عالمی برادری خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔
اس صورتحال میں سب سے شدید اور فوری ردعمل امریکہ کی جانب سے سامنے آئے گا۔ واشنگٹن کسی بھی صورت میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ عالمی سمندروں پر اس کی بالادستی کو چیلنج کیا جائے یا اس کے اتحادیوں کی معیشت کو یرغمال بنایا جائے۔ امریکہ کے لیے عسکری مہم اتنی سادہ اور آسان نہیں ہوگی جتنا کہ پینٹاگون کے نقشوں پر دکھائی دیتی ہے۔ ایران اور اس کے حامی گروہوں کی حکمت عملی روایتی جنگ لڑنے کی نہیں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ امریکی بحریہ کا کھلے سمندر میں مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لیے وہ غیر متناسب جنگ کا سہارا لیں گے۔ سستی بارودی سرنگیں، تیز رفتار چھوٹی کشتیاں، اور کم لاگت والے خودکش ڈرونز وہ ہتھیار ہیں جو اربوں ڈالر کے امریکی طیارہ بردار جہازوں کو مستقل اعصابی دبا میں رکھ سکتے ہیں۔ امریکہ جتنا زیادہ فوجی طاقت کا استعمال کرے گا، خطے کا عدم استحکام اتنا ہی بڑھے گا اور یہی وہ دلدل ہے جس میں واشنگٹن ماضی میں بھی دھنستا رہا ہے۔
یورپ کا ردعمل اس پوری بساط پر امریکہ سے قدرے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہوگا۔ یورپی ممالک کی معیشت اور سردیوں کی بقا کا براہ راست انحصار ان ہی دو آبی گزرگاہوں پر ہے۔ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب پر جنگ کے بادل چھاتے ہیں، تو یورپ بیک وقت توانائی اور تجارتی بحران کا شکار ہو جائے گا۔ یورپی یونین کے ممالک سیاسی اور اخلاقی طور پر تو امریکہ کے بحری اتحاد کا حصہ بنیں گے، لیکن وہ ایک مکمل اور کھلی جنگ سے گریز کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ یورپ جانتا ہے کہ اگر خلیج میں آگ بھڑکی تو سب سے پہلے ان کے ہاں گیس اور تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، کارخانے بند ہونے لگیں گے اور عوام مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ اس لیے یورپ کا جھکا دفاعی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پس پردہ سفارت کاری کی جانب زیادہ ہوگا تاکہ کسی طرح اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
اس سارے منظر نامے میں سب سے نازک اور مشکل امتحان عرب خلیجی ریاستوں کا ہوگا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک اس وقت ایک انتہائی باریک رسی پر چل رہے ہیں۔ ایک طرف ان کی معیشت اور سلامتی کا انحصار امریکی چھتری پر ہے، تو دوسری طرف وہ ایران کے بالکل پڑوس میں واقع ہیں۔ خلیجی ممالک کی قیادت یہ بخوبی جانتی ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کھلی جنگ چھڑتی ہے، تو اس جنگ کا میدان کوئی دور دراز علاقہ نہیں بلکہ ان کے اپنے ساحل، ان کی شیشے کی فلک بوس عمارتیں، اور ان کی تیل صاف کرنے والی ریفائنریاں ہوں گی۔ ان ممالک نے گزشتہ چند سالوں میں اپنی معیشتوں کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت، ٹیکنالوجی اور عالمی سرمایہ کاری کی طرف موڑنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ ایک چھوٹی سی جنگ ان کے کئی دہائیوں کے ترقیاتی خوابوں کو راکھ کر سکتی ہے۔
اسی لیے خلیجی ریاستوں کا ردعمل انتہائی محتاط اور متوازن ہوگا۔ وہ ہرگز یہ نہیں چاہیں گی کہ ان کی سرزمین یا ان کی فضائی حدود کو ایران کے خلاف کسی بڑے حملے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، خلیجی ریاستیں متبادل تجارتی اور توانائی کے راستوں پر اپنی سرمایہ کاری کو تیز تر کر دیں گی۔ زمینی تجارتی راہداریاں، پائپ لائنز کا ایسا جال جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے سیدھا بحیرہ عرب یا بحیرہ احمر کے محفوظ حصوں تک پہنچے، ان کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ بن جائیں گی۔ وہ سمجھ چکے ہیں کہ صرف ایک گزرگاہ پر انحصار کسی بھی وقت ان کے لیے موت کا پھندا بن سکتا ہے۔ یہ ممالک اب محض جذبات یا عرب قوم پرستی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ خالصتاً اپنے ریاستی اور معاشی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں، اور ان کا سب سے بڑا مفاد اس وقت خطے میں امن اور استحکام کی بحالی ہے۔
لیکن زمینی حقائق اور تاریخ کا سبق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ روایتی جنگ میں یقیناً امریکہ کا کوئی ثانی نہیں، مگر جب جنگ کا دائرہ پانیوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں، گمنام ڈرونز اور پراکسی گروہوں تک پھیل جائے، تو جدید ترین ٹیکنالوجی بھی بے بس نظر آتی ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح نہایت کم قیمت کے ڈرونز نے اربوں ڈالر کے دفاعی نظام کو چکمہ دے کر بڑی بڑی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ طاقت کا مظاہرہ وقتی طور پر تو راستہ کھول سکتا ہے، لیکن وہ اس سمندر کو تجارتی جہازوں کے لیے مستقل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتا۔ عدم تحفظ کا ایک چھوٹا سا سایہ بھی انشورنس کمپنیوں اور عالمی منڈیوں میں وہ بھونچال لانے کے لیے کافی ہوتا ہے جو کسی بھی عسکری فتح کو معاشی شکست میں بدل دیتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button