اسلام آباد، ایم او یو کا مستقبل

اسلام آباد، ایم او یو کا مستقبل
تحریر : روشن لعل
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے 17جون 2026ء کو سوئٹزر لینڈ میں، اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے بعد، ہر امن پسند انسان کے دل میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب خلیج فارس سے ملحقہ ممالک میں پائیدار امن قائم ہو جائے گا۔ ویسے تو یہ امید اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے فوراً بعد متزلزل ہونا شروع ہو گئی تھی لیکن آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے، ایران کی ہدایات نظر انداز کرنے کے الزام میں ایرانی فورسز کی ان پر فائرنگ کے جواب میں امریکہ کے ایران پر دوبارہ حملوں کے بعد پائیدار قیام امن کی امیدوں پر پانی پھرتا نظر آرہا ہے۔ خلیج فارس میں جنگ بندی کی امیدوں پر پانی پھرنے کے بعد اب اکثر لوگوں کو اسلام آباد ، ایم او یو کا مستقبل اندھیرے میں نظر آرہا ہے۔ اسلام آباد ، ایم او یو کے اندھیرے میں چلے جانے سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ذہن سے یہ با ت محو نہیں ہو رہی کہ اندھیرے میں امید کی کرن چاہے نہ ہونے کے برابر مدھم کیوں نہ ہو جائے ، کوئی اندھیرا اتنا طاقتور نہیں ہو سکتا کہ وہ بہتری کی خواہشوں کو پیدا ہونے سے روک سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ ، کیا بہتری کی خواہشوں کے تسلسل میں اسلام آباد ایم او یو کے دوبارہ فعال ہونے کی کوئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد ایم او یو پر دستخطوں سے قبل امریکی اور ایرانی حکام نے ثالثوں کی وساطت سے 11اپریل سے 17جو ن کے درمیان ، 68دنوں تک ایک دوسرے سے اپنے اپنے موقف کا تبادلہ کیا ۔ دونوں ملکوں کے حکام کے تبادلہ خیالات کے بعد ایم او یو پر دستخط کرتے وقت جو باتیں طے کی گئیں نہ صرف انہیں، ایران کے حق میں قرار دیا گیا بلکہ جن مزید نکات کو طے کرنے کے لیے ایک ٹائم فریم دیا گیا اسے بھی ایرانی مفاد میں تصور کیا گیا تھا۔ یہ بات سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ، رجیم چینج کا وہ ہدف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے جو انہوں نے مارچ 2026ء میں ایران پر حملہ کرنے سے پہلے طے کیا تھا۔ گو کہ امریکہ کی اس ناکامی کو ، جنگ میں اس کی شکست تصور نہیں کیا جا سکتا مگر اس کے باوجود ایک سپر پاور کا اپنا ہدف حاصل کیے بغیر، اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے لیے آمادگی کو ایران کی اخلاقی فتح کہا گیا۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ امریکہ اس لیے اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کرنے کے لیے آمادہ ہوا کیونکہ اسے مارچ سے جون تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ، ایران کی مزاحمت دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ جنگ طویل ہونے کی صورت میں وہ ایران کو مزید نقصان تو پہنچا سکتا ہے لیکن ایسا کرنے کے باوجود اس کے لیے ایران میں رجیم چینج کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ جہاں امریکہ نے رجیم چینج کا خاص ہدف حاصل کرنے کے لیے ایران پر حملہ کیا وہاں ایران میں بھی، ’’ مرگ بر امریکہ ‘‘ کا نعرہ ہر وقت گونجتا رہتا ہے۔ اگر امریکہ اپنا ہدف حاصل کرنے کی امید ختم ہونے پر ایران کے ساتھ جنگ بندی پر آمادہ ہوا تو اس کے مقابلے میں بظاہر نہ جھکنے کا تاثر دینے والا ایران بھی امریکہ کو تباہ کرنے کا موقع ہاتھ آنے کے باوجود جنگ ختم کرنے پر رضا مند ہوا۔ ایک دوسرے کا اعلانیہ دشمن ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ جنگ چاہیے جتنی بھی طویل کیوں نہ ہو جائے ان دونوں کو اس سے مزید نقصان کے علاوہ کچھ اور حاصل نہیں ہو سکے گا۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دونوں کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ انہیں جنگ کے نتیجے میں نقصان کے علاوہ کچھ اور حاصل نہیں ہو سکے گا تو دونوں ملک دوبارہ جنگ کی آگ میں کیوں کودے۔
امریکہ اور ایران کے دوبارہ جنگ کی آگ میں کودنے کی وجوہات خارجی سے زیادہ داخلی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ کے مارچ میں ایران پر حملہ کے بعد نہ صرف نیٹو نے اس کا ساتھ دینے سے معذرت کی بلکہ اس حملے کی منظوری دینے والے ٹرمپ کو امریکہ کے اندر سے یہ کہتے ہونے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ اس نے ایک غیر ضروری جنگ کا آغاز کیا ۔ ٹرمپ کے ، ایران میں رجیم چینج کا اپنا اعلانیہ ہدف حاصل کیے بغیر اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کرنے کے بعد امریکہ میں جنگ بندی پر تو کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا لیکن وسیع پیمانے پر ٹرمپ کے متعلق یہ کہا گیا کہ ایران کے ساتھ غیر ضروری جنگ کا شروع کرکے اس نے خود کو لاحاصل فیصلے کرنے والا صدر ثابت کیا ہے۔ ٹرمپ پر ہونے والی تنقید میں نہ صرف اس کے ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے والے فیصلے غلط کہا گیا بلکہ اسلام آباد ایم او یو میں طے کیے گئے نکات کو ایران کی اخلاقی فتح بھی کہا گیا۔ ٹرمپ حسب سابق خود پر ہونے والی تنقید سے گھبرایا ہر گز نہیں لیکن اسے یہ احساس ہو گیا تھا کہ امریکہ میں اس کی مقبولیت کا گراف جس طرح مسلسل نیچے آرہا ہے ، اس کا منفی اثر نومبر کے دوران ہونے والے امریکی الیکشن میں اس کی پارٹی کے امیدواروں کی شکست کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں اپنی مقبولیت کا گراف بہتر بنانے کے لیے ٹرمپ کو جو موقع چاہیے تھاایران نے اسے آبنائے ہرمز پر گزرنے والے جہازوں پر فائرنگ کر کے مہیا کر دیا ۔ ایران کی آبنائے ہرمز میں سعودی اور قطری جہازوں پر فائرنگ کو جواز بنا کر ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے ایران پر شدت کے ساتھ حملوں کا آغاز کردیا کہ جب ایران نے خود اسلام آباد ایم او یوکی خلاف ورزی کی تو وہ اس کا پاس کیوں کرے ۔
اسلام آباد ، ایم او یو پر دستخط سے قبل جنگ کے دوران اور ایم او یو طے ہونے کے بعد بھی ایران میں واضح طور پر یہ نظر آیا کہ وہاں اقتدار کی مختلف پرتوںکے درمیان کنٹرول اینڈ کمانڈ کی معاملہ میں واضح تضادات موجود ہیں۔ ایران کے معتدل اور سخت گیر مذہبی گروہوں کے یہ تضادات ، امریکہ کے ایران پر دوبارہ حملوں کے بعد اور زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔ ایران کے معتدل حکومتی حلقوں کے دوراندیش اور مصلحت پسند رجحان کی بدولت جس اسلام آباد ایم او یو پر دستخط ممکن ہوئے تھے، اس ایم او یو کے مطابق عمل کرنا گو کہ دونوں ملکوں نے معطل کر دیا ہے مگر اب بھی ذہن یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ جس جنگ کو جاری رکھنا امریکہ اور ایران کے لیے پہلے ممکن نہیں تھا وہ اب اس بے مقصد جنگ کو لامتناہی بنانے کے متحمل ہو سکیں گے۔ یہ بے مقصد جنگ اگر طول پکڑتی ہے تو ایران کو امریکہ سے کہیں زیادہ معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ جنگ طویل ہونے کے نتیجہ میں صاف نظر آنے والی تباہی کی تصویر ایران کے معتدل حلقوں کی نظروں اوجھل ہو۔ تباہی کی یہ ممکنہ تصویر ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس لا سکتی ہے۔





