تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

13010 ارب روپے ٹیکس جمع، تنخواہ داروں کا حصہ بااثر ایکسپورٹرز اور رئیل اسٹیٹ مالکان کے ٹیکسوں سے بھی زیادہ

گزشتہ مالی سال 26-2025 کے دوران تنخواہ دار طبقے، جس کی آواز اکثر پالیسی سازی میں مؤثر طور پر نہیں سنی جاتی، نے اپنی تنخواہوں پر تقریباً 633 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، یہ رقم بااثر برآمد کنندگان، جائیداد کے بڑے کاروباری افراد اور ریٹیل شعبے کے مجموعی ٹیکس سے بھی زیادہ تھی۔

 

ایف بی آر نے برآمد کنندگان سے 174ارب روپے، رئیل اسٹیٹ فروخت کنندگان سے 191ارب روپے وصول کیے جبکہ ریٹیلرز کے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 70ارب روپے جمع کیے گئے،نئے مالی سال میں تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹیکس افسران اور شہریوں کا براہ راست رابطہ بھی ختم ہوگا، ایف بی آر نے نئے مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا ہدف 15264مقرر کیا ہے۔

 

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے گذشتہ مالی سال میں 13010 ارب روپے حاصل کیے ہیں، جس میں تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے بڑے طبقات میں سے ایک بن کر سامنے آیا، کیونکہ ان کا ٹیکس براہِ راست آمدن سے کاٹ کر قومی خزانے میں جمع کرایا گیا تھا۔

 

ایف بی آر کے اب تک جمع کیے گئے عبوری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بک ایڈجسٹمنٹس کے ساتھ، تنخواہ دار طبقے نے مالی سال26-2025 میں 633 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا، جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال 25-2024 کے اسی عرصے میں 585 ارب روپے ادا کیے گئے تھے۔

 

غیر ملکی زرمبادلہ میں کمانے والے برآمد کنندگان نے گزشتہ مالی سال 26-2025 میں 174ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا ہے، جبکہ اسکے مقابلے میں اس سے پچھلے سال 25-2024 میں 176 ارب روپے ادا کیے گئے تھے۔

 

یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں انکم ٹیکس کی مد میں ان کے تعاون میں کوئی بڑا فرق نہیں آیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ٹیکس حکام انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات 236-سی اور 236-کے کے تحت بالترتیب فروخت کنندگان (بیچنے والوں) اور خریداروں سے جائیداد کے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرتے ہیں۔

 

انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 236-سی کے تحت ایف بی آر نے مالی سال 2025-26 کے دوران 191 ارب روپے وصول کیے، جبکہ گزشتہ مالی سال 2024-25 کی اسی مدت میں یہ رقم 118 ارب روپے تھی۔

 

اسی طرح، دفعہ 236-کے کے تحت ایف بی آر نے مالی سال 26-2025 میں 87 ارب روپے وصول کیے، جبکہ مالی سال 2024-25 کی اسی مدت میں یہ وصولیاں 120 ارب روپے رہی تھیں۔

جواب دیں

Back to top button