بھارت اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرے

بھارت اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرے
پاکستان اور بھارت کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے باہمی بداعتمادی، سرحدی کشیدگی، سیاسی اختلافات اور سلامتی سے متعلق خدشات کی وجہ سے مسلسل پیچیدگی کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں، مشترکہ تاریخ رکھتے ہیں اور ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کے مستقبل پر ان کے تعلقات کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہر وہ پیش رفت جو سفارتی سطح پر کشیدگی میں اضافے یا کمی کا باعث بنے، نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی پر بھارتی بیان کو مسترد کیا گیا اور اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں اختلافات اپنی جگہ موجود نظر آئے۔ پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس کی قومی سلامتی کا ناگزیر تقاضا ہیں اور اس سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق، محدود، متناسب اور مخصوص اہداف تک محدود ہوتے ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے بھارتی موقف کو بے بنیاد قرار دینا اسی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے پاکستان اپنے سلامتی سے متعلق اقدامات کا دفاع کرتا ہے۔ دہشت گردی ایک ایسا خطرہ ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان کو ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ ہزاروں شہری، سیکیورٹی اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اس جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کا یہ موقف قابلِ فہم ہے کہ اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے ان کے حقیقی تناظر میں دیکھا جائے۔ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور پاکستان مخالف عناصر کی معاونت میں ملوث رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے معاملات کا دیرپا حل صرف سفارتی ذرائع، قابلِ اعتماد شواہد اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہی ممکن ہے۔ بھارت کی جانب سے الزام تراشی، اشتعال انگیز بیانات اور میڈیا کے ذریعے لفظی جنگ وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر اس سے خطے میں اعتماد سازی کے امکانات مزید کمزور ہوجاتے ہیں۔ بھارت اب تو ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔ دوسری طرف اسی دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ایک مثبت اور ذمے دارانہ سفارتی عمل کی یاد دہانی بھی ہے۔ دونوں ممالک نے 2008ء کے دوطرفہ معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی تازہ فہرستوں کا تبادلہ کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود بعض انسانی اور قانونی معاملات پر رابطے برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔ یہ روایت نہ صرف بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے مطابق ہے بلکہ انسانی ہمدردی کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔ پاکستان کی جانب سے سزا مکمل کرنے والے پاکستانی قیدیوں اور ماہی گیروں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی ایک جائز انسانی مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے متعدد ماہی گیر سمندری حدود کی غیر واضح نشان دہی، جدید نیویگیشن سہولتوں کی عدم دستیابی یا غیر ارادی طور پر سرحد عبور کرنے کے باعث گرفتار ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، جن کا سیاست یا سلامتی کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ برسوں تک جیلوں میں رہنا نہ صرف ان افراد بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے بھی شدید ذہنی، معاشی اور سماجی مشکلات کا سبب بنتا ہے۔ ایسے معاملات میں انسانی بنیادوں پر فوری فیصلے ہی دونوں ممالک کے مثبت تشخص کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔یہ امر بھی اہم ہے کہ قونصلر رسائی بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کا بنیادی تقاضا ہے۔ کسی بھی قیدی کو قانونی معاونت، سفارتی رابطے اور اپنی شہریت کی تصدیق کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر زور دینا دراصل بین الاقوامی ذمے داریوں کی یاد دہانی ہے، جسے بھارت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ جنوبی ایشیا اس وقت غربت، بے روزگاری، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، توانائی کے بحران اور اقتصادی چیلنجز جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں اگر بھارت اپنی توانائیاں مسلسل کشیدگی اور محاذ آرائی پر صَرف کرتا رہا تو اس کا نقصان صرف دونوں ملکوں کو نہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی اٹھانا پڑے گا۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگیں مسائل پیدا کرتی ہیں جب کہ مذاکرات مسائل کے حل کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ اختلافات اپنی جگہ برقرار رہ سکتے ہیں، مگر سفارتی رابطے منقطع ہونا کسی بھی صورت خطے کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان نے بارہا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ باہمی احترام، برابری اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے۔ اسی طرح بھارت پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اشتعال انگیز بیانات، یک طرفہ الزامات اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کرے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات، قیدیوں کی بروقت رہائی، قونصلر رسائی، سرحدی رابطوں میں بہتری اور انسانی معاملات پر تعاون مستقبل میں بہتر تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اختلافات کو تصادم کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی اصولوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔ خطے کا امن صرف دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ عالمی برادری کے مفاد میں بھی ہے۔ اگر انسانی مسائل کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھتے ہوئے حل کیا جائے اور باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو مستقبل میں کشیدگی کم کرنے کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد قومی سلامتی، خودمختاری اور عوامی مفادات کا تحفظ ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، استحکام اور ذمے دارانہ سفارت کاری کے فروغ کے اقدامات کو بڑھاوا دیا جانا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، انسانی حقوق کا احترام اور قیدیوں کے مسائل کا بروقت حل ایسے نکات ہیں جن پر بھارت اگر خلوصِ نیت دکھائے اور پروپیگنڈوں اور جھوٹ کے بجائے ذمے دارانہ کردار ادا کرے تو جنوبی ایشیا کا مستقبل زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔
سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
پاکستان کی قومی سلامتی، خودمختاری اور سرحدی تحفظ ہر ریاست کی طرح اس کی اولین ترجیح ہے۔ گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان، جس میں بلوچستان کی سرحد پر افغانستان سے آنے والے چار ڈرونز کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے مار گرانے کی تصدیق کی گئی، نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا مظہر ہے بلکہ اس امر کی بھی نشان دہی کرتا ہے کہ خطے میں امن کو درپیش خطرات اب نئی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں دفاعی اداروں کی مکمل تیاری اور بروقت ردعمل قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جب کہ ملکی معیشت کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس پس منظر میں اگر سرحد پار سے ڈرونز یا دیگر ذرائع کے ذریعے اشتعال انگیزی کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا مثر جواب دینا ریاست کا قانونی اور آئینی حق ہے۔ جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ان ڈرونز کو بروقت ناکارہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی فضائی اور زمینی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت مستعد ہے۔ دوسری جانب یہ واقعہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے بھی سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ دونوں ممالک مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، اس لیے باہمی اعتماد اور تعاون ہی خطے کے امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اگر افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان مخالف عناصر یا دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات متاثر ہوتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں افغانستان کی عبوری حکومت پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور بین الاقوامی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے پورا کرے۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور پُرامن بقائے باہمی کو ترجیح دی ہے، تاہم امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں اور ہر قسم کی جارحیت یا اشتعال انگیزی کا جواب بین الاقوامی قانون کے مطابق دیا جائے گا۔ خطے کے مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں ممالک الزام تراشی اور کشیدگی کے بجائے باہمی تعاون، سرحدی نظم و نسق اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ریاستیں ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں اور اپنی سرزمین کو دہشت گرد عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں۔




