بجٹ 2026۔27ء کی تیاری میں چند اہم تجاویز

بجٹ 2026۔27ء کی تیاری میں چند اہم تجاویز
ضیاء الحق سرحدی
چیمبرز اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس اینڈانڈسٹری کے سینئر عہدیداروں پر مشتمل ایک وفد نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم کا کاروباری برادری کے نمائندوں کے موقف کو تفصیل اور اطمینان سے سنا اور ملکی معیشت، تجارت اور صنعت سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کئے جائیںگے ، غریب اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں کمی کے لئے وسائل بروئے کار لائے جائیںگے۔ وفد نے وزیر اعظم کو بتایا کہ آئندہ وفاقی بجٹ کو متوازن ، کاروبار دوست اور عوامی ریلیف پر مبنی بنایا جائے تاکہ معیشت کو استحکام، صنعت کو سہارا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ اس وقت موجودہ معاشی حالات میں کاروباری طبقہ مہنگی توانائی، بلند شرح سود، بھاری ٹیکسوں اور مہنگائی کے شدید دبائو کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے ایسا بجٹ ناگزیر ہے جو صنعت ،تجارت اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ مالی سال 2025۔26کے لیے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17ہزار 573ارب روپے رکھا گیا تھا جبکہ بجٹ خسارہ 6ہزار 501ارب روپے رہا۔ آئندہ مالی سال میں بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً اسی سطح پر رکھا جائے تا کہ مالی نظم و ضبط برقرار رہے اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔ دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ہمارے صوبہ خیبرپختونخوا کو ہوا ہے۔ ہمارے صوبے کو خصوصی مراعات کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ساتھ جو بارڈرز منسلک ہیں ان سے مذاکرات کرکے اپنی سیکیورٹی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا فوری حل کیا جائے۔ دہشت گردی کے باعث خیبر پختونخوا کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات اور معاشی بحران ناقابلِ تلافی ہیں، اور اس دیرینہ مسئلے کے پائیدار حل کے لیے صوبے کو خصوصی اقتصادی پیکجز اور افغان بارڈر پر ٹھوس سیکیورٹی مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی، صنعتوں کے فروغ اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ متصل بارڈرز( خصوصا طورخم ، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ) پر سیکیورٹی اداروں کی مشاورت سے باقاعدہ دوطرفہ مذاکرات ہونے چاہئیں تاکہ اسمگلنگ کی روک تھام اور تجارت کے فروغ کے لیے محفوظ ماحول بن سکے۔ افغان حکومت کے ساتھ مل کر ایسی موثر سرحدی پالیسی تشکیل دی جائے جس سے دونوں ممالک کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور مقامی معیشت بھی متاثر نہ ہو۔ مالی سال 2025۔26کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 14ہزار 131ارب روپے مقرر کیا گیا تھا ، تا ہم ہماری رائے ہے کہ آئندہ بجٹ میں اس ہدف میں صرف 4سے 5فیصد اضافہ کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سنجیدگی اختیار کرے، ملک بھر میں لاکھوں گاڑیوں کو ماہانہ سیکڑوں لٹر فی گاڑی دیئے جانے والا پٹرول بند کرے، مفت بجلی روکے، ذخیرہ اندوزوں کو الٹا لٹکایا جائے ، عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کی بجائے تعیشات پرٹیکس لگایا جائے، روٹی اور ادویات کو سستا کیا جائے۔ پی ڈی ایم حکومت اپنا تیسرا بجٹ اس حالت میں دینے جا رہی ہے کہ ملک بدترین معاشی بحران کا شکار ہے، شرح نمو خطرناک حد تک گر چکی ہے ، عام آدمی کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے ، وہ اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی بھی با آسانی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا جبکہ آئی ایم ایف کی تلوار سروں پر لٹک رہی ہے ، دور دور تک عام آدمی کے لئے امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی ۔پاکستان جیسے زرعی ملک میں جب گندم ابھی کھلیانوں سے اٹھائی جا رہی ہے، آٹے کا بحران ہے ، افسر شاہی کی ملی بھگت سے ذخیرہ اندوزوں نے گندم چھپا لی ہے ۔ معاملہ صرف گندم کا نہیں گھی ، کوکنگ آئل، چینی ، پیٹرول ، اور بجلی تک ہر سمت اشرافیہ پر مشتمل مافیاز ہیں، جو عوام کا خون نچوڑنے میں مکمل آزاد ہیں اور اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہوئی حکومت کے پاس اتنی سکت ہی نہیں کہ وہ ان مجرموں کا ہا تھ روک سکے، ایسے میں وزیر اعظم کی جانب سے ریلیف کی ہدایت بھی محض اشک شوئی ہی دکھائی دیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سنجیدگی اختیار ، ملک بھر میں لاکھوں گاڑیوں کو ماہانہ سینکڑوں لیٹر فی گاڑی دیا جانے والا پیٹرول بند کرے۔ مفت بجلی رو کے، ذخیرہ اندوزوں کو الٹا لٹکا کر اناج عام منڈی میں پھینکنے کا عزم کر لے تو سب کچھ ممکن ہے۔ عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کے بجائے تعیشات پر ٹیکس لگایا جائے ، روٹی اور ادویات کو سستا کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی ایم ایف کی غلامی کا پھندا اپنے گلے سے نکال پھینکے اور اپنی مرضی سے عوامی توقعات کے مطابق بجٹ بنائے۔ ایف بی آر ( فیڈرل بورڈ آف ریونیو) ملک میں سمگلنگ کی رو ک تھام کیلئے آئندہ مالی سال 2026۔27ء کے بجٹ میں ایسی تمام مصنوعات جن کی ملک میں سمگلنگ ہو رہی ہو ان کی ڈیوٹی کی شرح میں کمی کر دی جائے اور ایسی اشیاء جن کی درآمد پر پابندی ہے لیکن وہ بڑے پیمانے پر غیر قانونی طریقے سے وطن آرہی ہیں ان کی درآمد پر پابندی کو ختم کر دیا جائے۔ جیسا کہ ماضی میں بعض اشیاء جن میں ٹائر اینڈ ٹیوبز، کراکری، کپڑا، پرزہ جات وغیرہ وغیرہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے آتے تھے، ان اشیاء پر حکومت نے امپورٹ کے تحت کافی حد تک مختلف ڈیوٹیوں میں کمی کر دی اور اس اقدام سے یہ اشیاء بجائے ٹرانزٹ ٹریڈ کے درآمد ہونے شروع ہو گئی، جس سے ایف بی آر کو ریونیو کی مد میں اربوں روپے کا سالانہ فائدہ ہوا اور یہ آئٹم سمگلنگ کے ذریعے آنا بند ہو گئے۔ بجٹ 2026۔27ء اس طرح سے بنایا جائے کہ پورا سال چل سکے اور منی بجٹ کی ضرورت پیش نہ آئے۔ بجٹ 2026۔27ء میں سیلز ٹیکس کی شرح کو موجودہ سے کم کر کے 10فیصد تک لایا جائے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے عمل کو سہل و سادہ بنایا جائے۔ ان غیر معمولی حالات میں پالیسی سازی کے لئے غیر معمولی اور ہنگامی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کے عین مطابق تمام شعبوں کے لئے بجلی کے نرخوں میں ٹیکسز میں کمی کے ذریعے کم کیا جانا چاہیے۔ صنعت کے لئے گیس ٹیرف کو بھی کم کیا جانا چاہیے۔ اگلے 1سال کے لئے کاروباروں کے لئے انکم ٹیکس کی شرح کو کم کیا جانا چاہیے۔ علاقائی ممالک کے سود کی شرح ( جیسے ہندوستان 4.4فیصد، بنگلہ دیش 6فیصد، چین3.85فیصد، سری لنکا 6فیصد اور ملائشیا 2.50فیصد) کو ایک معیار کے طور پر مقرر کیا جانا چاہیے۔ ایس ایم ایز کے لئے فنانس تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کو رجسٹرڈ ایس ایم ایز کے لئے بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لئے سکیم متعارف کرانی چاہیے۔ رجسٹرڈ چھوٹے تاجروں کو سود سے پاک قرضوں کی فراہمی پر خصوصی غور کیا جائے۔ مختلف بینکوں سے قرض لینے والے کاروباری اداروں کی موجودہ کریڈٹ حدوں میں25فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ آئندہ کچھ مہینوں میں معاشی سرگرمیاں مزید بحال ہونے کے بعد اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے اس فنانس کو استعمال کر سکیں۔ بجٹ میں ایس ایم ایز کے لئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے۔ ایس ایم ایز میں ہماری معیشت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ وہ ملک کی سالانہ GDPمیں 40فیصد حصہ ڈالتی ہے اور برآمدات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت آئندہ بجٹ میں ایس ایم ایز کے لئے خصوصی امدادی پیکیج کا اعلان کرے تاکہ کاروباری ادارے اپنے نقصانات کا کچھ تلافی کر سکیں اور ملک کی معاشی ترقی میں زیادہ سے زیادہ موثر کردار ادا کر سکیں۔ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اور انڈسٹریل اسٹیٹس میں خصوصی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں اور معیاری سرٹیفیکیشن کی سہولت مہیا کی جانی چاہیے۔ پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ ٹیکس لیا جا رہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس کس سے لیا جا رہا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ تنخواہ ملنے سے پہلے ٹیکس ادا کرتا ہے، عام شہری بجلی کے بل میں ٹیکس دیتا ہے، پٹرول خریدتے وقت ٹیکس دیتا ہے، روزمرہ اشیا خریدتے وقت ٹیکس دیتا ہے۔ گویا جو شخص جتنا زیادہ دستاویزی نظام میں موجود ہے، اتنا ہی زیادہ ریاستی بوجھ اس کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ طبقات جو زیادہ وسائل، زیادہ اثر و رسوخ اور بہتر قانونی سہولتیں رکھتے ہیں، اکثر رعایتوں، استثنیٰ اور پیچیدہ قانونی راستوں کے ذریعے اپنے حصے کے بوجھ سے بچ نکلتے ہیں۔ ٹیکس نظام کی کامیابی زیادہ ٹیکس وصول کرنے میں نہیں، بلکہ ٹیکس کے بوجھ کو منصفانہ طور پر تقسیم کرنے میں ہے۔ بلاواسطہ ٹیکسوں میں کمی، روزمرہ کی اشیا پر ٹیکس کم کر کے امیروں کی تعیشات پر ٹیکس بڑھایا جائے، عوام کو نظر آنا چاہیے کہ ان کا پیسہ اشرافیہ کے پروٹوکول پر نہیں بلکہ ہسپتالوں اور اسکولوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ جب تک یہ اصلاحات نہیں ہوتیں، یہ نظام معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ یہ محض ایک مالیاتی جبر ہے جو متوسط طبقے کو غریب اور غریب کو خط غربت سے نیچے دھکیل رہا ہے۔







