عوام دوست بجٹ وقت کی اہم ضرورت

عوام دوست بجٹ وقت کی اہم ضرورت
وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آئندہ مالی سال 2026۔27کے بجٹ کے حوالے سے اتفاق رائے کا سامنے آنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اتحادی حکومتوں میں بعض اوقات اہم قومی معاملات پر اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں، جن کے باعث پالیسی سازی کا عمل متاثر ہوتا ہے، تاہم بجٹ جیسے اہم قومی معاملے پر حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کا ایک صفحے پر ہونا سیاسی استحکام اور معاشی منصوبہ بندی کے لیے نیک شگون قرار دیا جاسکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وفاقی بجٹ 10جون کو پیش کیا جائے گا اور اس سلسلے میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان تفصیلی مشاورت کے بعد اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔ اس پیش رفت سے یہ امید وابستہ کی جارہی ہے کہ بجٹ کی تیاری میں مختلف طبقات کی ضروریات اور عوامی مسائل کو مدنظر رکھا جائے گا۔ پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز کے ایک طویل دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخ، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی اور عوام کی قوت خرید میں مسلسل کمی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگرچہ حکومت معاشی استحکام کے حوالے سے بعض مثبت اشاریوں کا ذکر کرتی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے بھی کچھ بہتری کی نشان دہی کی جارہی ہے، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ عام شہری اب بھی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں آئندہ بجٹ سے عوام کی توقعات بہت زیادہ ہیں۔بجٹ کسی بھی حکومت کی معاشی ترجیحات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت اپنے وسائل کو کن شعبوں میں خرچ کرنا چاہتی ہے اور عوام کو کس حد تک ریلیف فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بجٹ صرف اعداد و شمار کی مشق بن کر نہ رہ جائے بلکہ اس میں عوامی فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ مہنگائی سے پریشان شہریوں کو ریلیف دینا، متوسط اور کم آمدن والے طبقات کے مسائل کم کرنا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے مشاورتی اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح، مالیاتی استحکام اور جامع اقتصادی ترقی جیسے موضوعات پر غور کیا گیا۔ یہ تمام شعبے یقیناً اہم ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ان کے اثرات عام آدمی تک کس حد تک پہنچتے ہیں۔ اگر ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات صرف چند علاقوں یا مخصوص طبقات تک محدود رہیں تو ان کا مقصد پورا نہیں ہوسکے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقیاتی فنڈز کو شفاف انداز میں استعمال کیا جائے اور ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو روزگار کے مواقع پیدا کریں، بنیادی سہولتوں میں اضافہ کریں اور ملک کے پس ماندہ علاقوں کی محرومیوں کا ازالہ کریں۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بے روزگاری نوجوان نسل کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ آئندہ بجٹ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ صنعتوں کو سہولتیں فراہم کی جائیں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نوجوانوں کو ہُنرمندی کی تربیت کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں۔ جب تک معیشت میں پیداواری سرگرمیوں کو فروغ نہیں ملے گا، محض مالیاتی استحکام کے دعوے عوامی مشکلات کو کم نہیں کرسکیں گے۔ اسی طرح تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک کے لیے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں، کالجوں، جامعات اور اسپتالوں کے معیار کو بہتر بنایا جائے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف معاشرے بلکہ معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ دونوں شعبے طویل عرصے سے وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ بجٹ میں ان شعبوں کے لیے خاطرخواہ فنڈز مختص کیے جانے چاہئیں۔ زراعت بھی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کسان بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، مہنگی کھاد، بجلی اور پانی کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر حکومت واقعی اقتصادی ترقی چاہتی ہے تو زرعی شعبے کو سہارا دینا ہوگا۔ کسان خوش حال ہوگا تو خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، دیہی معیشت مضبوط ہوگی اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ بجٹ کی تیاری کے عمل میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جارہی ہے۔ جمہوری نظام میں مشاورت اور اتفاق رائے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس مشاورت کا نتیجہ عوام دوست پالیسیوں کی صورت میں سامنے آئے۔ عوام محض بیانات اور دعووں سے مطمئن نہیں ہوں گے بلکہ وہ عملی ریلیف کے منتظر ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ، مزدور، کسان، پنشنرز اور چھوٹے کاروباری افراد سب اس امید کے ساتھ بجٹ کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ وفاقی بجٹ 2026۔27حکومت کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہوگا۔ اگر اس میں عوامی ضروریات، سماجی بہبود، روزگار، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کو متوازن انداز میں شامل کیا گیا تو یہ بجٹ نہ صرف معیشت کے لیے بلکہ حکومت کی سیاسی ساکھ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر عوامی توقعات کو نظرانداز کیا گیا تو مایوسی اور بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عوامی مشکلات کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ ملک کی معاشی بہتری کا اصل معیار یہی ہے کہ عام شہری کی زندگی میں آسانی پیدا ہو۔ آنے والا بجٹ اسی صورت کامیاب کہلائے گا جب اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں، مہنگائی کا بوجھ کم ہو، روزگار کے مواقع بڑھیں اور لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ریاست ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہی ایک حقیقی عوام دوست بجٹ کی پہچان ہوگی۔
خواتین پر تشدد ناقابلِ قبول
گھریلو تشدد پاکستان کے ان سنگین سماجی مسائل میں شامل ہے جو نہ صرف خواتین کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں، بلکہ خاندان اور معاشرے کے استحکام کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کہ 47فیصد پاکستانی خواتین گھریلو تشدد کا سامنا کرتی ہیں، تشویش کا باعث ہے اور اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ اگر ایک بڑی تعداد خوف، دبائو یا ناروا سلوک کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ گھریلو تشدد صرف مارپیٹ تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ نفسیاتی دبا، معاشی استحصال، دھمکیاں، تضحیک اور سماجی تنہائی بھی اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین ایسے رویوں کو مجبوری یا قسمت سمجھ کر برداشت کرتی رہتی ہیں۔ بعض اوقات خاندانی دبائو، معاشی انحصار اور سماجی بدنامی کا خوف انہیں آواز اٹھانے سے روک دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی معاملات منظرعام پر آنے کے بجائے گھروں کی چار دیواری تک محدود رہتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے قانون سازی، آگاہی اور موثر سماجی حمایت ناگزیر ہے۔ خواتین کو ان کے حقوق سی آگاہ کرنا، شکایات کے نظام کو مضبوط بنانا اور متاثرہ افراد کو قانونی و نفسیاتی مدد فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ مردوں میں ذمے داری، احترام اور مثبت خاندانی رویوں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے، تاکہ تنازعات تشدد کے بجائے مکالمے اور باہمی سمجھ داری کے ذریعے حل ہوں۔ رپورٹ میں بہتر شریک حیات کے انتخاب کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب ازدواجی زندگی باہمی اعتماد، مزاج کی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے احترام پر قائم ہوتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور رشتہ تلاش کرنے والے پلیٹ فارم بعض افراد کے لیے موزوں انتخاب میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم کسی بھی ایپ یا نظام کو مسئلے کا واحد حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اصل ضرورت کردار، تربیت، خاندانی اقدار اور ذمے داری کے احساس کو ترجیح دینے کی ہے۔ گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے ریاست، معاشرہ، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی رہنما اور خاندان سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خواتین کے لیے محفوظ، باوقار اور پُرامن ماحول کی فراہمی صرف ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی شرط بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔





