تھرڈ امپائر پاکستانی بہادر، ہمدرد اور انسان دوست

تھرڈ امپائر
پاکستانی بہادر، ہمدرد اور انسان دوست
تحریر : محمد ناصر شریف
پاکستانی قوم ہو، پاک آرمی، بحریہ و فضائیہ ہو اپنی بہادری، ہمدردی، ایثار اور انسان دوستی کی وجہ سے دنیا بھر میں نئی مثالیں قائم کر رہی ہے۔ اس کے پاس ایسی قوم اور افواج ہے جو نہ صرف اپنے وطن کے دفاع کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار رہتی ہے بلکہ انسانیت کی خدمت کو بھی اپنا فرض سمجھتی ہے۔ مشکل وقت میں پاکستانی جس اتحاد، جذبے اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔ پاکستانیوں کی بہادری کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ وطن کے دفاع کیلئے ہماری افواج اور عوام نے بے شمار جانوں کی قربانیاں دیں اور ہر مشکل گھڑی میں ثابت کیا کہ پاکستانی قوم کبھی خوف کے آگے نہیں جھکتی۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ ہو، سرحدوں کی حفاظت ہو یا قومی سلامتی کا معاملہ، پاکستانی قوم ہمیشہ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی رہی ہے۔
پاکستانی افواج و قوم صرف بہادر ہی نہیں بلکہ انتہائی ہمدرد اور رحم دل بھی ہیں۔ جب بھی ملک میں سیلاب، زلزلہ، طوفان یا کوئی اور قدرتی آفت آتی ہے تو لوگ اپنے مصائب بھلا کر متاثرین کی مدد کیلئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ نوجوان امدادی سامان اٹھائے دور دراز علاقوں تک پہنچتے ہیں، ڈاکٹر اور طبی عملہ دن رات زخمیوں کا علاج کرتے ہیں جبکہ ریسکیو ادارے اپنی جان خطرے میں ڈال کر لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچاتے ہیں۔ پاکستانیوں نے ہر مشکل وقت میں یہ ثابت کیا ہے کہ انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔ پاکستانیوں کی انسان دوستی صرف اپنے ملک تک محدود نہیں۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی سانحہ پیش آئے، پاکستانی امداد اور ریسکیو کیلئے آگے بڑھتے ہیں۔ کئی مواقع پر ایسا بھی ہوا کہ دشمن ملک یا اختلاف رکھنے والے ممالک نے بھی مشکل وقت میں پاکستان سے مدد کی درخواست کی اور پاکستانی قوم نے دشمنی کو پسِ پشت ڈال کر انسانیت کی بنیاد پر ان کی مدد کی۔ یہی وہ جذبہ ہے جو پاکستانی قوم کو عظیم بناتا ہے کیونکہ ایک سچا انسان وہی ہوتا ہے جو نفرت کے بجائے محبت اور انتقام کے بجائے ہمدردی کا راستہ اختیار کرے۔
پاکستانی ریسکیو ٹیمیں اور فلاحی ادارے دنیا بھر میں اپنی خدمات کی وجہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ زلزلے میں ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنا ہو، سیلاب میں پھنسے خاندانوں کو بچانا ہو یا زخمیوں تک خوراک اور ادویات پہنچانا، سمندر میں پھنسے بحری جہازوں کی مدد کرنا، پاکستانی ہمیشہ صفِ اول میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہی جذبہ پاکستانی قوم کی اصل شناخت ہے۔ رواں مئی میں ایک ایسا واقعہ سمندر میں رونما ہوا جس سے اپنے تو اپنے دشمن ملک کے لوگوں بھی پاک نیوی اور پاکستان خراج تحسین پیش کیے بغیر نہ رہ سکے۔
پاکستانی بحریہ نے بحیرہ عرب میں تکنیکی خرابی کے باعث پھنسنے والے بھارتی بحری جہاز ایم وی گوتم کی مدد کر کے دنیا کو حیران اور پریشان کر دیا۔ جہاز عمان سے بھارت جا رہا تھا جب اسے شدید تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاز 3مئی کو جنریٹر کی خرابی کے باعث مکمل طور پر بجلی سے محروم ہو گیا تھا۔
4مئی کی رات 11بج کر 22منٹ پر صورتحال کی اطلاع دی گئی، جہاز سمندر میں بہہ کر قریباً 262بحری میل دور پہنچ گیا تھا۔ جہاز میں 7افراد سوار تھے، جن میں6بھارتی اور ایک انڈونیشی شہری شامل تھا۔ اس صورتحال میں ممبئی کے میری ٹائم ریسکیو اینڈ کوآرڈی نیشن سینٹر نے پاکستانی حکام سے رابطہ کرکے مدد کی اپیل کی، جس کی بعد پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکوریٹی ایجنسی نے مشترکہ کارروائی شروع کی۔ پاک بحریہ نے امدادی کارروائی کیلئے اپنا جہاز پی ایم ایس اے ’’ کشمیر‘‘ روانہ کیا، جس نے متاثرہ جہاز تک پہنچ کر عملے کو خوراک، طبی امداد اور تکنیکی معاونت فراہم کی تاکہ جہاز کو مستحکم اور عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ امدادی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور حکام مسلسل جہاز کی تکنیکی صورتحال کا جائزہ لیتے رہے۔ پاک بحریہ کا یہ فوری اور موثر آپریشن سمندر میں انسانی جانوں کے تحفظ اور قومیت سے بالاتر ہو کر انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی ذمے داریوں کو نبھانے کے پختہ عزم کا عکاس ہے۔ یہ آپریشن پاک بحریہ کے ایک ذمے دار اور باصلاحیت بحری قوت ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اپنی ذمے داری کے دائرہ کار میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ آپریشن پاکستان کے بحری سلامتی اور انسانی ہمدردی کے فرائض سے وابستگی کو ظاہر کرتا ہے اور یہ امداد جہاز میں موجود افراد کی قومیت سے قطع نظر فراہم کی گئی۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بحیرہ عرب اور خلیجی سمندری راستوں میں کشیدگی اور سلامتی کے خدشات بڑھ چکے ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بھی کافی کشیدہ ہیں۔ پاکستانی بحریہ نے بھارتی بحری جہاز کی مدد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انجام دی، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود ایک اہم بحری تعاون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی بحریہ نے گزشتہ ماہ بھی بحیرہ عرب میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کے عملے کے 18افراد کو بچایا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں سمندری امدادی کارروائیاں حالیہ عرصے میں بڑھ رہی ہیں۔
بھارت کا میڈیا بھی پاکستان بحریہ کی شجاعت، جرات اور بہادری کی داستانیں اپنے عوام کو سنانے پر مجبور ہو گیا۔ بھارت کی معروف ویب سائٹس این ڈی ٹی وی، ٹائمز آف انڈیا اور دی اکنامک ٹائمز پر پاک بحریہ کی کارکردگی کو سراہا اور اس کی تعریفیں کی جا رہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ پاکستانی ویسے نہیں جیسے ان سے متعلق کہا اور دکھایا جاتا ہے ۔ دشمن ملک ہوتے ہوئے بھی انہوں نے انسانی ہمدردی کے طور پر بھارتیوں کی جانیں بچائیں۔ بھارتی میڈیا نے گودی میڈیا اور حکومتی حمایتیوں کو بھی آڑے ہاتھ لیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کیلئے کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں بتایا کہ پاکستان بحریہ نے بحیرہ عرب میں فنی خرابی کے باعث پھنسنے والے بھارتی جہاز کی مدد کی ہے۔ پاک بحریہ نے عملے کو خوراک، طبی سہولت اور ہنگامی امداد بھی فراہم کی۔ جہاز ایم وی گوتم عمان سے بھارت جاتے ہوئے شدید فنی خرابی کا شکار ہو گیا تھا۔ ممبئی کے میری ٹائم ریسکیو مرکز کی درخواست پر اسلام آباد سے رابطہ کیا گیا جس کے بعد پاکستانی بحریہ نے امدادی کارروائی شروع کی۔ جہاز پی ایم ایس ایس کشمیر کو ریسکیو مشن کیلئے روانہ کیا گیا جبکہ پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے بھی معاونت کی۔ یہ پاکستان کی معرکہ حق کے بعد ایک اور بڑی فتح ہے۔
ویسے دیکھا جائے تو پاکستانی قوم بہادری، ہمدردی، قربانی اور انسان دوستی کا حسین امتزاج ہے۔





