ایران میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مسئلہ؟

ایران میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مسئلہ؟
روشن لعل
امریکہ اور ایران کے درمیان 8اپریل کو دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا آغاز ہوا۔ عارضی جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی یہ خبریں سامنے آئیں کہ مستقل جنگ بندی کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان ، اسلام آباد میں براہ راست بات چیت ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد میں 11اور 12اپریل کو لگاتار 21گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران پہلے تو اس کے نتیجہ خیز ہونے کی حوصلہ افزا خبریں سامنے آتی رہیں لیکن آخر میں مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ظاہر کرتے ہوئے پہلے دور کے ناکام ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ پاکستان نے بات چیت کے دوسرے دور کی تیاریاں کرتے ہوئے 20اپریل کو اپنے دارالحکومت اسلام آباد میں دوبارہ لاک ڈائون برپا کر کے امریکی اور ایرانی مذاکراتی ٹیموں کا انتظار شروع کر دیا تھا مگر پھر مذاکرات کے انعقاد کے بغیر ہی لاک ڈائون ختم کر دیا گیا کیونکہ دونوں ملک جنگ بندی کے لیے اپنی پیش کردہ شرائط پر لچک دکھانے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا جو دوسرا دور اپریل میں ممکن نہ ہو سکا اب اس کے مئی میں ہونے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔ مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور کی امید کے اظہار کے ساتھ یہ چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ بات چیت کا پہلا دور کیوں کامیاب نہ ہو سکا اور کن وجوہات کی بنا پر اسلام آباد میں لاک ڈائون کیے جانے کے باوجود دونوں ملکوں کی مذاکراتی ٹیموں کی پاکستان آمد ممکن نہ ہوسکی۔
اس حوالے سے پاکستان میں یہ خیال عام ہے کہ امریکہ اپنی مرضی کی ناجائز شرائط مسلط کر کے ایران کو جنگ بندی پر مجبور کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران ایسی کسی شرط کو ماننے کے لیے تیار نہیں جس سے اس کے دنیا میں آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے کردار ادا کرنے پر کوئی حرف آئے۔ اس معاملے میں کچھ بیرونی تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ ایران کی منتخب حکومت کو بخوبی علم ہے کہ امریکہ کسی جواز کی بجائے محض اپنی برتر عسکری حیثیت اور طاقت کے بل پر اپنی مرضی کی شرائط کے تحت اسی طرح جنگ بند کرنا چاہتا ہے جس طرح یہ جنگ مسلط کی تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ انہیں امریکہ کے مقابلے میں اپنی کم مائیگی اور کمزور حیثیت کا بھی احساس ہے۔ اسی احساس کے تحت وہ امریکی شرائط کو غیر منصفانہ سمجھنے کے باوجود کسی حد تک ماننے کے لیے لچک دکھانے کا اشارہ تو دے دیتے ہیں لیکن ان کے لیے ایسے اشاروں کے مطابق عمل کرنا اس وقت ناممکن ہو جاتا ہے جب ایران میں فیصلہ کن اختیارات رکھنے والی شخصیات اور ادارے امریکہ کے لیے اپنی روایتی سخت گیری پر سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ایرانی ریاست کے انتظامی معاملات میں فیصلہ کن اختیار رکھنے کے حوالے سے منتخب اور غیر منتخب عناصر کے درمیان موجود فرق کو وہاں موجود کمانڈ اور کنٹرول کا مسئلہ قرار دیا جارہاہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کی جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی شرائط میں سرفہرست شرط یہ ہے کہ ایران اپنی زمین پر یورینیم کی افزودگی کا عمل سرے سے ختم کر نے کے لیے وہاں اس مقصد کے لیے نصب کی گئی مشینری کو ناکارہ بنا دے تاکہ اس کی طرف سے ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ اس کے علاوہ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کا جو ذخیرہ ہے وہ ا سے کسی تیسرے ملک میں منتقل کر دے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ انٹرنیشنل اٹاملک انرجی ایجنسی کے انسپکٹروں کو ایران کی مستقل نگرانی اور کا معائنہ کرتے رہنے کی اجازت ہو، تاکہ وہاں پھر سے ایٹم بم بنانے کی کوششیں شروع نہ ہو سکیں۔ امریکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول اور وہاں سے ٹیکس وصول کرنے کو ناقابل قبول تصور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ ایران ، حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کو سہولتیں اور فنڈ فراہم کرنے سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لے۔
ان شرائط کے جواب میں ایران کا موقف یہ ہے کہ پرامن سول مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی اس کا حق ہے اور وہ اس حق سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو ایران اپنا تزویراتی مفاد قرار دیتا ہے ۔ اس موقف کے تحت وہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس وصولی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ایران خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی موجودگی کو برداشت کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہے ، اس کے علاوہ ایران مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کا خاتمہ اور وہاں سے امریکی فورسز کا مکمل انخلا چاہتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ سے ایران کا جو نقصان ہوا ہے وہ اس کے ہرجانے کا طالب ہے۔ ایران خود پر عائد معاشی پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ دنیا بھر میں منجمند کیے گئے اپنے اثاثوں کی بحالی بھی چاہتا ہے۔ ایران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ روس اور چین اسے اس بات کی ضمانت دیں کہ امریکہ اور اسرائیل اس پر دوبارہ جنگ مسلط نہیں کریں گے۔
امریکہ اور ایران نے مستقل جنگ بندی کے لیے جو شرائط پیش کی ہیں ان کے متعلق غیر جانبدارانہ رائے تو یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے مطالبوں کو کلی طور پر جائز یا ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ اس کی شرائط تسلیم نہ ہونے کی صورت میں وہ ایران پر اس شدت کے ساتھ حملہ آور ہوگا کہ وہاں تباہی کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔ اپنی شرائط نہ مانے جانے پر ایران نے امریکہ کی طرح حملہ آور ہونے کی دھمکی تو نہیں دی لیکن یہ ضرور کہا کہ اس میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنے تحفظ کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کی صلاحیت اب بھی موجود ہے۔ ایران کی طرف سے دیئے گئے امریکی دھمکیوں کے جواب اور قبل ازیں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے رد عمل میں کیے گئے جوابی حملوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی جائز یا ناجائز شرائط مسلط کروانے کے لیے دونوں حریفوں میں سے کون بالادست حیثیت کا حامل ہے۔
ایران کے مقابلے میں امریکہ کے بالادست ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جائز و ناجائز کے فلسفہ کو ایک طرف رکھ کر امریکہ نے ہمیشہ اپنی بالادست حیثیت کا فائدہ اٹھایا ہے۔ بالادست ہونے کے ساتھ ایرانی مکالمہ کاروں کے مقابلے میں امریکی حکام کو کمانڈ اینڈ کنٹرول کی دوہری پرت جیسے کسی مسئلے کا سامنا بھی نہیں ہے۔ ایران میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کی کتنی پرتیں ہیں اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں منتخب حکومت کے ساتھ آمرانہ اختیار رکھنے والے سپریم لیڈر بھی ہیں۔ ایران کی ریگولر فوج آرتش کے ساتھ وہاں پاسداران انقلاب کی فورس بھی ہے ۔ ان کے علاوہ بھی ایران میں کچھ غیر منتخب بالادست ادارے موجود ہیں۔ ان اداروں کی وجہ سے ہی ایران میں کنٹرول اینڈ کمانڈ کے ایسے مسائل موجود ہیں جن کی وجہ سے ایرانی عوام کے لیے اندرونی و بیرونی مشکلات کے علاوہ کبھی کچھ اور برآمد نہیں ہو ا۔
.





