Column

اسلامی زہد

اسلامی زہد
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔۔
زہد اسلامی اخلاقیات کا ایک ایسا بنیادی اور نہایت اہم تصور ہے جس کا تعلق انسان کے ظاہری فقر سے زیادہ اس کے باطنی استغنا اور دل کی آزادی سے ہے۔ عام طور پر عوامی سطح پر زہد کو دنیا چھوڑ دینے، ترکِ لذات یا فقیری اختیار کرنے کے معنی میں لیا جاتا ہے، لیکن قرآن، سنت اور اقوالِ اہلِ بیت اس تصور کو ایک وسیع، متوازن اور عملی زندگی کے ایک روشن اصول کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
زہد دراصل دنیا سے فرار کا نام نہیں بلکہ دنیا کی حقیقت کو پہچان کر اس پر فتح پانے کا نام ہے۔
اس مقالے میں زہد کے قرآنی تصور، احادیثِ نبویؐ، اقوالِ حضرت علیؓ، اور بعد کے صوفیانہ فہم کا ایک تفصیلی، تقابلی اور مربوط جائزہ پیش کیا گیا ہے تاکہ اصل اسلامی زہد کی روح کو موجودہ دور کے تناظر میں واضح کیا جا سکے۔
قرآنِ کریم میں زہد کا لفظ اگرچہ بطور اصطلاح بہت کم مقامات پر آیا ہے، لیکن اس کا مفہوم اور فلسفہ پوری کتابِ الہٰی میں ایک تسلسل کے ساتھ موجود ہے۔ قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ وہ انسان کو بار بار دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی ہمیشگی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے‘‘۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ دنیا بذاتِ خود منزل نہیں بلکہ ایک عارضی قیام گاہ اور امتحان گاہ ہے۔ قرآن کا یہ فلسفہ انسان کے اندر ایک ایسا فکری انقلاب برپا کرتا ہے جہاں وہ اشیاء کی کثرت میں کھونے کے بجائے ان کے خالق کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ قرآن بار بار انسان کو یہ حقیقت یاد دلاتا ہے کہ ’’ آخرت بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے‘‘۔ یہی شعور زہد کی وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر مومن کی شخصیت تعمیر ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان دنیا کے کام چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنا رخ آخرت کی طرف رکھے۔ یہ ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جہاں دنیا کی کامیابی اسے مغرور نہیں کرتی اور دنیا کی ناکامی اسے مایوس نہیں کرتی۔
نبی کریمؐ کی حیاتِ طیبہ زہدِ حقیقی کا کامل نمونہ ہے۔ آپؐ نے زہد کو رہبانیت یا ترکِ دنیا کے بجائے دل کی بے نیازی قرار دیا ہے۔ زہد کی اصل تعریف بیان کرتے ہوئے آپؐ کے ارشادات کا مفہوم ہے کہ زہد دنیا سے بے رغبتی کا نام ہے، نہ کہ حلال کو چھوڑ دینا یا جائز مال کو ضائع کرنا۔ یہ ایک نہایت اہم نکتہ ہے کیونکہ بعض لوگوں نے زہد کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ اچھے کپڑے نہ پہننا یا عمدہ غذا نہ کھانا ہی تقویٰ ہے۔ اسلام اعتدال کا دین ہے، یہ نہ تو مادیت پرستی کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی انسانی ضروریات کی نفی کرتا ہے۔ ایک حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اصل زاہد وہ ہے جس کا دل دنیا کے قبضے سے آزاد ہو جائے۔ گویا زہد دنیا پر مرنے کا نہیں بلکہ دنیا پر حکومت کرنے کا نام ہے۔ اس حقیقت کو ایک تمثیل کے ذریعے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے پانی پر کشتی تبھی چل پاتی ہے جب پانی کشتی کے نیچے رہے، اگر پانی کشتی کے اندر بھر جائے تو وہ اسے غرق کر دیتا ہے۔ اسی طرح دنیا اگر انسان کے پیروں کے نیچے ( بطور ذریعہ) رہے تو وہ زندگی کا سفر کامیابی سے طے کرتا ہے، لیکن اگر یہی دنیا انسان کے دل ( کشتی کے اندر) میں داخل ہو جائے تو وہ اس کے ایمان اور سکون کو ڈبو دیتی ہے۔
حضرت مولا علیؓ کے اقوال زہد کے باب میں ایک مکمل فکری نظام اور فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ آپؓ کی زندگی فقرِ اختیاری کی بہترین مثال تھی، مگر آپؓ کا زہد محض لباس یا خوراک تک محدود نہ تھا۔ آپؓ فرماتے ہیں: ’’ دنیا ایک گزرگاہ ہے، اسے اپنا مستقل ٹھکانہ نہ بنا‘‘۔ آپؓ کے نزدیک زہد کی تعریف یہ ہے کہ ’’ زہد یہ نہیں کہ تم دنیا کے مالک نہ بنو، بلکہ زہد یہ ہے کہ دنیا تمہاری مالک نہ بن جائے‘‘۔ یہ جملہ زہد کی پوری روح کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ آپؓ کے نزدیک حقیقی آزاد وہ ہے جو اپنی خواہشات کا غلام نہیں، بلکہ اللہ کا بندہ ہے۔ جب انسان اللہ کا ہو جاتا ہے، تو کائنات کی تمام چیزیں اس کی خادم بن جاتی ہیں، مگر وہ ان کا اسیر نہیں ہوتا۔ اسلامی زہد کا خلاصہ یہی ہے کہ دنیا ہاتھ میں ہو مگر دل میں نہ ہو۔ اگر دنیا مقصود بن جائے گی تو انسان بسا اوقات اقتدار، دولت اور شہرت کی خاطر اپنا ایمان اور ضمیر تک بیچ دے گا۔ اسی لیے حضرت علیؓ نے رزق کے حوالے سے فرمایا تھا کہ رزق کے لیے خود کو مت گرائو، کیونکہ رزق انسان کو ایسے ڈھونڈتا ہے جیسے موت۔ یعنی انسان کو اپنی محنت پر نہیں بلکہ اللہ کے فضل پر بھروسہ ہونا چاہیے۔
زُہد سے کیا مراد ہے؟
صوفیانہ تصور کہتا ہے کہ زہد کا معنی ہے ’’ رک جانا‘‘۔ حضرت سفیان بن عینیہ ؒ فرماتے ہیں’’ لفظ زہد میں صرف تین حروف ہیں، حرف ( ز) کا معنی زینتِ دنیا کو ترک کرنا ہے۔ حرف ( ہ ) سے ہوائے نفس یعنی اپنے دل کی خواہش کو چھوڑنا مراد ہے، اور ( د) سے تمام دنیا کو ترک کرنا مراد ہے۔ پس جب تو ان چیزوں سے منہ موڑے تو اس وقت زاہد کہلانے کا حقدار ہو گا۔ جبکہ اسلامی زہد یہ ہے کہ’’ شریعت جس چیز کی اجازت دے اسے اختیار کرے اور باقی سب چھوڑ دے ‘‘۔ تاریخی ارتقاء کے دوران بعض ادوار میں زہد کے تصور میں کچھ ابہام پیدا ہوئے اور اسے محض ظاہری فقر، مخصوص خستہ لباس، اور سماجی کنارہ کشی تک محدود کر دیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب ’’ سماجی صوفیانہ زہد‘‘ نے جنم لیا۔ اس تصور میں سادہ لباس کو روحانیت کی واحد علامت سمجھا گیا اور دنیاوی معاملات سے دوری کو زہد کا معیار بنا دیا گیا۔ اس رویے نے معاشرے میں ایک خاص قسم کی گوشہ نشینی کو جنم دیا جسے بعض ملامتی صوفیوں نے اپنی انتہائوں تک پہنچایا، جہاں وہ اپنی تذلیل اور بے عزتی میں لذت محسوس کرنے لگے۔ تاہم، یہ بات ہمیشہ یاد رہنی چاہیے کہ یہ رویے اسلام کا عالمگیر اور لازمی اصول نہیں بلکہ مخصوص سماجی حالات کا نتیجہ تھے۔
اسلامی تصوف کے عظیم امام، جنید بغدادیؒ نے اس معاملے میں نہایت متوازن اور دو ٹوک موقف اختیار کیا۔ ان کا فرمان تھا کہ زہد کا تعلق ظاہری لباس یا حلیے سے نہیں بلکہ سراسر دل کی کیفیت سے ہے۔ انہوں نے ظاہری نمائش اور مخصوص صوفیانہ لبادے کو روحانیت کا معیار بنانے سے روکا۔ آپؒ سے منسوب ہے کہ انہوں نے صوف کا مخصوص لباس محض اس لیے پہننے سے انکار کیا کہ کہیں لوگ اسے ہی بزرگی کا پیمانہ نہ سمجھ لیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر لباس سے کچھ حاصل ہو سکتا تو میں لوہے کا لباس زیب تن کرتا تاکہ نفس کو زیادہ سختی ملتی۔ ان کے نزدیک اصل مجاہدہ نفس کی اصلاح اور دل کو غیر اللہ سے پاک کرنا تھا۔
آج کے دور میں، جہاں صارفیت (Consumerism)اور مادیت پرستی عروج پر ہے، اسلامی زہد کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسلام نہ تو دنیا کو مکمل رد کرتا ہے اور نہ ہی اسے زندگی کا واحد مقصد بناتا ہے۔ یہ ہمیں ایک ایسا توازن سکھاتا ہے جہاں دنیا ایک ’’ ذریعہ‘‘ ہے اور آخرت ’’ مقصد‘‘ ۔ زہد کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان دنیا کے تمام وسائل کا استعمال کرے، عہدوں پر فائز ہو، تجارت کرے اور زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو، مگر اس کا اسیر نہ ہو۔ اس کا مال بڑھے تو شکر کرے، اور اگر چھن جائے تو صبر کرے، کیونکہ اس کا دل ان چیزوں سے وابستہ نہیں تھا۔ یہی وہ شاہراہ ہے جو قرآن، سنت اور اقوالِ اہلِ بیت سے ثابت ہے۔
اب آخر میں ایک افسانچہ پیش خدمت ہے۔
۔۔۔۔ زہد۔۔۔
وہ ایک زاہد تھا۔ اپنے زہد پہ نازاں و شاداں ۔ اسے خبر ملی کہ فلاں علاقے میں ایک عالم مقیم ہے، جو زہد میں سب کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ زیارت کا شوق چرایا تو شرف ملاقات کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ وہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر اسے سخت دھچکا لگا کہ وہ مجتہد زاہد کم اور کسی ریاست کا راجہ زیادہ تھا۔ لوگ اس کے ہاتھ چومتے، نذرانے دیتے، فتوے لیتے اور اس کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرتے تھے ۔ چند ہی دن میں اس کا جی اوب گیا اور وہ وہاں سے رخصت ہو گیا۔اس عالم نے دیکھا تو پوچھا’’ کہاں کا قصد ہے صاحب ؟ ‘‘۔ زاہد نے جواب دیا’’ کربلا جائوں گا ‘‘۔ وہ عالم بھی اس کے ہمراہ ہو لیا۔ راستے میں زاہد رک گیا اور پریشانی سے سر پیٹنے لگا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اپنا واحد اثاثہ یعنی کشکول اٹھانا بھول گیا تھا۔ عالم نے بہت کہا کہ دفع کرو اس کشکول کو، تم جس سفر پر نکلے ہو اس پر نظر کرو۔ مگر وہ زاہد نہ مانا اور یہ کہہ کر واپس چل دیا:’’ میرا ایک ہی تو کشکول ہے جو مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔ میں اسے کسی حال میں چھوڑ نہیں سکتا ۔ تم نہیں جانتے وہ کتنا متبرک ہے ‘‘۔ اس پر وہ عالم گویا ہوا’’ تم خود کو زاہد کہتے ہو اور میرے متعلق تمہارا گمان یہ ہے کہ میں کسی ریاست کا راجہ ہوں ۔ دیکھو میں نے تمہاری خاطر اپنی ریاست بنا کسی نگران کے چھوڑ دی اور تیرے ساتھ چل پڑا۔ تم ایک کشکول کے مالک تھے اور اس معمولی چیز کے لیے تم نے اتنا با برکت سفر ترک کر دیا۔ اب خود ہی فیصلہ کر لو کہ ہم دونوں میں سے زاہد کون ہے ؟ ‘‘۔

جواب دیں

Back to top button