تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

ایپسٹین اسکینڈل: متاثرین کے ہولناک انکشافات، انصاف کی تلاش

امریکا کی بدنام زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین کے متاثرین نے برسوں بعد خاموشی توڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان پر ہونے والے جنسی استحصال کے اثرات آج بھی ان کی زندگیوں پر گہرے نقش چھوڑے ہوئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں متعدد خواتین نے پہلی بار اپنے تجربات بیان کیے اور کہا کہ ایپسٹین کی 2019ء میں موت کے بعد بھی کئی سوالات آج تک جواب طلب ہیں۔

متاثرہ خاتون جوانا ہیریسن نے بتایا کہ وہ 18 سال کی عمر میں مساج کے بہانے ایپسٹین سے ملیں، جہاں انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ان کے مطابق ایپسٹین کی موت کے بعد انصاف کی امیدیں مزید کم ہو گئیں اور کئی سوالات ہمیشہ کے لیے ادھورے رہ گئے۔

ایک اور متاثرہ خاتون شونٹے ڈیوس نے انکشاف کیا کہ وہ ایپسٹین کے نجی طیارے کے ذریعے افریقا کے دورے پر گئیں، جہاں ان کے ساتھ بل کلنٹن، کیون اسپیسی اور گھسلین میکس ویل بھی موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ بظاہر یہ ایک یادگار سفر تھا، مگر پسِ پردہ ہونے والے واقعات نے اسے خوفناک بنا دیا۔

ڈیوس کے مطابق انہیں ایپسٹین کے نجی جزیرے پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کی زندگی کے سب سے تاریک لمحات نیو میکسیکو کے ایک فارم ہاؤس میں گزرے۔

متاثرہ خاتون لیزا فلپس نے کہا کہ ایپسٹین اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا، وہ ہماری آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند کرتا تھا۔

وینڈی پیسانتے نے بتایا کہ وہ صرف 14 سال کی عمر میں ایپسٹین کے رابطے میں آئیں اور کم عمری میں ہونے والا استحصال ان کی ذہنی کیفیت پر گہرے اثرات چھوڑ گیا۔

یاد رہے کہ 2019ء میں جیفری ایپسٹین نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے، جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے، حکام نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا، تاہم متاثرین نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button