سپیشل رپورٹ

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان 80؍ سالہ پیٹرو ڈالر ڈیل ختم

سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ اپنے 80 سالہ پیٹرو ڈالر کے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ملکوں کے درمیان 8 جون 1974 کو دستخط ہوئے تھے اور اسے امریکی عالمی اقتصادی اثر و رسوخ کا ایک اہم جزو سمجھا جاتا رہا ہے۔

اس معاہدے کے تحت اقتصادی تعاون اور سعودی عرب کی فوجی ضروریات کیلئے مشترکہ کمیشن قائم کیے گئے تھے۔

اس وقت امریکی حکام نے امید ظاہر کی تھی کہ اس سے سعودی عرب کو زیادہ تیل پیدا کرنے اور عرب ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے کی ترغیب ملے گی۔

اس معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سعودی عرب اب صرف امریکی ڈالر کے بجائے مختلف کرنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے تیل اور دیگر اشیاء فروخت کر سکتا ہے۔

ان کرنسیز میں چائنیز یو آن، جاپانی ین، یورو اور بٹ کوائن وغیرہ شامل ہیں۔

یہ فیصلہ 1972 میں قائم ہونے والے پیٹرو ڈالر کے نظام سے فاصلہ اختیار کرنے کی سوش کی عکاسی کرتا ہے۔

اُس وقت امریکا نے اپنی کرنسی کو براہ راست سونے سے جوڑنا بند کر دیا تھا۔

اس سے بین الاقوامی تجارت میں امریکی ڈالر کو چھوڑ کر دیگر کرنسیوں کے استعمال کے عالمی رجحان میں تیزی آنے کی توقع ہے۔

مزید برآں، سعودی عرب نے پروجیکٹ ایم برج (mBridge) میں شمولیت اختیار کی ہے جو بینکوں کے درمیان مشترکہ ڈیجیٹل کرنسی پلیٹ فارم کی تلاش کیلئے ایک مشترکہ کوشش ہے۔

اس پروجیکٹ کا مقصد ڈسٹریبیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے فوری سرحد پار ادائیگیوں اور غیر ملکی زر مبادلہ کے لین دین کو آسان بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button