ColumnNasir Sherazi

وقت شہادت ہے آیا؟ ۔۔ ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

چڑیاں، طوطے، چیلیں، کوئے، ہرن، ہرنیاں ایک ہی خبر دے رہے تھے کہ حکومت عام انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن کو سرپرائز دے گی، ابتدا میں الیکشن کمیشن نے انعقاد کے لیے وقت مانگا، بعد ازاں ایک مثبت بیان آیا جس نے اس خیال کو تقویت بخشی کہ ایسا ممکن ہے، تحریک انصاف کی طرف سے مطالبہ زور پکڑتا نظر آیا پس پردہ منصوبے کے مطابق انتخابات کے اعلان کو اپنے دبائو کا نتیجہ قرار دینا اور میدان مارلینا بتانا تھا، سیلاب نے انتخاب منصوبے پر پانی پھیر دیا، وہ اپنے ساتھ سب کچھ اسی طرح بہالے گیا جیسے نہ بنائے جانے والے پل اور سڑکیں،اس کے ریلوں میں بہہ جاتے ہیں کسی کا نام و نشان باقی نہیں رہتا
پانی اترنا شروع ہوا ہے، ماہرین پھر سرجوڑ کے بیٹھے ہیں کہ دسمبر میں انتخابات کرالیے جائیں تاکہ ملک بھنور سے باہر نکل جائے دوسری طرف یہ خیال بھی پیش کیا جارہا ہے کہ جہاں تین ماہ تاخیر ہوئی ہے وہاں مزید تین ماہ کرلی جائے اور انتخابات 2023میں ہی کرائے جائیں تاکہ کہا جاسکے کہ ہم کسی کے دبائو میں نہیں آئے اس کا ایک نقصان واضح نظر آرہا ہے کہ روپئے پر دبائو بڑھے گا ڈالر مافیا جس میں اب دیگر کئی مافیاز پارٹنر بن چکے ہیں کھل کر کھیلیں گے یوں بالواسطہ امریکہ ، آئی ایم ایف اوردیگر کی وہ ڈیمانڈ بھی پوری ہوجائے گی کہ پاکستانی کرنسی کی قیمت کم کی جائے، پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔ دوسری طرف بنی گالہ میں پانی چڑھ رہا ہے جو صرف دور بین نگاہیں رکھنے والوں کو نظر آرہا ہے، چڑھتے پانی کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے قیمتی اشیا وہاں سے کہیں اور پہنچادی گئی ہیں اب صرف پہننے کے کپڑے اور چپلیں باقی رہ گئی ہیں، حد یہ ہے کہ شلوار میں کمر بند ڈالنے کے لیے ٹوتھ برش کا سہارا لینا پڑتا ہے، وہ بھی جگہ پر موجود نہ ہو تو شلواروں میں الاسٹک ڈال کر کام چلایا جاتا ہے۔
انتخابات کی پرزور فرمائش کرنے والے اس بات پر متفکر نظر آتے ہیں کہ انتخابات کی بجائے کچھ اور نہ ہوجائے اسی خیال کے تحت صلح و دوستی کے پیغامات بھجوائے گئے جن میں آخری فرمائش یہ تھی کہ 2018 کی طرح ہمیں اپنے کاندھوں پر بٹھاکر ایوان اقتدار میں لے جائو، ہم کہنے کو تو مسند اقتدار پر ہوں گے لیکن درحقیقت باقی ماندہ زندگی سیاں جی کے قدموں میں گذاریں گے، دوسری طرف سیاں جی بھی اتنے بھولے نہیں جتنے شکل سے نظر آتے ہیں، پھر خیر سے وہ مومن بھی ہیں اور آپ تو جانتے ہیں مومن ایک سوراخ سے دوسری مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، مومن بھی اس بات سے واقف ہے کہ اگر اُس نے اپنے آپ کو ڈسوانے کیلئے دوسری مرتبہ پیش کردیا تو وہ مومن نہیں رہے گا بلکہ غیر مومن بن جائے گا۔ مزید برآں مومن کو ہر دوسرے روز اگرکوئی یہ پیغام بھی تسلسل سے بھجوائے کہ وہ ہر آنے والے دن کے ساتھ مزید خطرناک ہوتا جارہا ہے تو پھر مومن کیوں خطرناک کی محبت میں ایک قدم آگے بڑھائے ۔ اسی خیال کے تحت کسی پیغام کا کوئی جواب نہیں دیاگیا بلکہ نامہ بر سے ملاقات کے راستے میں ایسے پتھر رکھ دیئے گئے ہیں جن پر چل کروہ آنا چاہے بھی تو نہیں آسکتا اور اُس کہکشاں تک نہیں پہنچ سکتا جس کی چکا چوند اُسے اقتدار سے باہر آنے پر بھی چین نہیں لینے دے رہی۔
بندہ مومن کی تاریخ بہت عجیب ہے، ماضی میں وہ ایک سوراخ سے دو مرتبہ پھر اس سے ملتے جلتے سوراخ سے وہ تین مرتبہ ڈسا گیا ہے، اُس زمانے میں تو گمان ہوتا تھا کہ مومن کو ڈسوانے میں شاید ایسا ہی لطف آتا ہے جیسے سپیرے کو سانپ سے ڈسوانے میں راحت ملتی ہے۔ یہ ماضی کی باتیں ہیں اب مومن بھی بدل گئے ہیں کچھ سمجھدار بھی ہوگئے ہیں دوسری طرف وہ ایسا انتظام پہلے کرلیتے ہیں کہ اگر کوئی انہیں ڈسنا چاہے تو وہ خود محفوظ رہیں، زہر ڈسنے والے کو چڑھ جائے گذشتہ برس ایسا ہی دیکھنے میں آیا۔
وہ جو کہتے ہیں انتخابات کی بجائے کچھ اور بھی ہوسکتا ہے وہ اپنی بات پر قائم ہیں انہی کے مطابق فیصل آباد میں تحریک انصاف کے جلسے کے بعد زچہ نے درد زہ شروع ہونے کی شکایت کی ہے، ذرائع بتاتے ہیں کہ زچہ نے یہ اطلاع اپنے ایک چھوٹے بھائی کو بذریعہ فون دی جس نے کُل عالم کو بتایا کہ درد محسوس ہوا ہے، ایک گائنا کالوجسٹ کا کہنا ہے کہ اگر درد میں اضافہ ہوگیا اور ناقابل برداشت ہوگیا تو دو ہی راستے ہوں گے، درد روکنے کے لیے دوا دی جائے یا قبل ازوقت ولادت کرادی جائے، میرے خیال کے مطابق قبل از وقت ولادت والی تو اب کوئی بات نہیں رہی۔ وقت پورا ہوا ہی چاہتا ہے، نومبر میں دو ماہ ہی تو درمیان میں ہیں، نومولود کے لیے بہار ہوکے خزاں ہو، کوئی موسم سازگار نہیںہوتا، اُسے دنیا میں آتے ہی باد مخالف کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ نومولود کی دوسری بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کے سر پر بال نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں جو عموماً ساتویں روز منڈوادیئے جاتے ہیں، سر منڈوانے کے بعد اولے پڑ جائیں تو مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے، نومولود کے لیے پہلی سردی اور پہلی گرمی قدرے مشکل ہوتی ہے، اس کے بعد کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا حتیٰ کہ نائی بھی نہیں، وہ بھی بس ایک ہی مرتبہ ختنہ کرسکتا ہے۔
فیصل آباد کے بعد تحریک انصاف کے لیے پشاور کا جلسہ بہت اہم تھا، خیال کیا جارہا تھا کہ تمام وسائل کی دستیابی کے بعدتل دھرنے کو جگہ نہ ملے گی لیکن دنیا دیکھ کر حیران رہ گئی کہ قریباً دس ہزار افراد کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا، عمران خان سٹیج پر خاصی دیر بعد بلائے گئے دریں اثنا انتظامات کئے جاتے رہے کہ جلسہ گاہ بھری بھری نظر آئے مگر تمام کوششیں بے کارگئیں، ٹائیگر سٹیج پر آیا تو رڑا میدان دیکھ کر پہلے حیران ہوا پھر پریشان ہوگیا، پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی وہ کافی دیر اپنی نشست پر پہلو تہی بدلتا رہا، وہ پریشانی کے عالم میں مسکرانا بھول چکا تھا اس نے دائیں بائیں موجود پارٹی ذمہ داران سے پوچھا لوگ کیوں نہیں آئے یا انہیں کیوں نہیںلایا جاسکا، تو جواب ملا کہ قوم سیلاب میں گھری ہوئی ہے اس نے سوال کیا کہ فیصل آباد میں لوگ کہاں سے آگئے تو بتایاگیا پنجاب اور فیصل آباد کی نسبت صوبہ خیبر میں پانی زیادہ ہے، لوگ ڈوبے ہوئے ہیں، مقامی لوگوں کا جواب ٹائیگر کو مطمئن نہ کرسکا کیونکہ اسے تو یقین ہے کہ آندھی ہو یا طوفان، پانی کادریا ہو یاآگ کا دریا، عوام اس کی جھلک دیکھنے اور اس کی باتیں سننے کے لیے ہر رکاوٹ پار کرکے پہنچتے ہیں۔
ستم بالائے ستم، ٹائیگر کے خطاب سے پہلے جلسہ کے منتظمین نے یوم دفاع کی مناسبت سے ترانہ لگایادیا، اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ ترانے کے بول تو قوم کا لہو گرمادیتے ہیں لیکن ٹائیگر کے لیے یہ سب کچھ غیر متوقع تھا، کیمروں نے کلوز اپ دکھایا کہ ٹائیگر کے چہرے پر غصے اور تفکرات نمایاں ہوگئے، ٹائیگر خدا، رسولﷺ،اسلام، اسلامی تعلیمات، قربانی اور موت سے نہ ڈرنے کی بات تو بہت کرتا ہے لیکن یہ منظر دیکھ کر اندازہ ہوا ازخود اختیارات کے تحت مرد مجاہد شہادت کے لیے تیار نہیں، وہ اقتدار حاصل کرنے سے پہلے شہادت نہیں چاہتا اور بعد از اقتدار تو بالکل بھی نہیں۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کا وقت شہادت آیا ہے کس کا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button