ColumnNasir Sherazi

پھینی ناک والا بنجارا .. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

 

ملک آزاد ہوئے پون صدی بیت گئی، گورے کی غلامی سے نکل کر کالوں کی غلامی میں آگئے، 75واں یوم آزادی روایتی جوش اور لفنگ پنے کے ساتھ منایا، اس کے مظاہرے شہر شہر، گلی گلی دیکھے گئے، ہمارے مستقبل کے وارث کہلانے والی نوجوان نسل نے موٹر سائیکلوں کے سائلنسرنکال کر، کان کے پردے پھاڑ دینے والے باجے بجاکر جشن آزادی منایا، وہ اس بات سے مکمل طور پر بے خبر تھے کہ قومی سوچ ، جذبہ حب الوطنی اور ملکی اقتصادی ترقی کا باجا بج چکا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ملک ہزاروں ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے، وہ آج بھی ملک کو اس حال تک پہنچانے کے قومی مجرموں کی گفتگو کے سحرمیں مبتلا ہیں حالانکہ اب کسی کا ماضی کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔
پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھنے والوں نے مختلف انداز میں جشن آزادی منایا، آتش سیال کے ساتھ ساتھ رقص کی محفلیں رچائی گئیں جہاں محفلوں کے اختتام پر بیشر مردوزن نڈھال ہوگئے ، کچھ ایسے تھے جو مزید فعال ہوگئے۔دارالحکومت اسلام آباد سمیت صوبائی دارالحکومتوں میں بھی یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں سرکاری اور غیر سرکاری شخصیات نے ایک دوسرے کو آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد سے آگاہ کیا اور آزادی کے فوائد پر روشنی ڈالی، بعض جگہوں پر قومی پرچم اُتار کر ترنگا لہرایاگیا۔
لاہور میں حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لیے ایک بڑا اجتماع ہوا جس میں نوجوانوں کو بتایاگیا کہ یہ منزل حاصل کرنے کے بعد ان کی اگلی منزل کیا ہوگی، ہاکی سٹیڈیم لاہور میں ہونے والی اِس تقریب کا اہتمام تحریک انصاف نے کیا، اسے یوم آزادی کے جلسے کے ساتھ ساتھ ضمنی انتخابات کے حوالے سے انتخابی مہم بھی کہا جاسکتا ہے۔ جلسے کے لیے ہاکی سٹیڈیم کے انتخاب نے میری تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا، میرے تمام منصوبے خاک میں مل گئے، سٹیڈیم سیاسی تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا، اس کی گنجائش تیس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے، میں اس تعداد کو لاکھوں افراد کا مجمع بلکہ عوام کا بے قابو سمندر لکھنا اور بتانا چاہتا تھا کہ سٹیڈیم کا تنگ دامن مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہی جلسہ اگر مینار پاکستان پر کیا جاتا تو میرے دل کی مراد پوری ہوجاتی۔ میں نہایت آسانی سے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوجاتا جس کا حکومت پنجاب اور حکومت خیبر پختونخوا کو بہت زیادہ فائدہ ہوسکتا تھا لیکن منتظمین جلسہ کے اس غلط فیصلے سے مطلوبہ ہدف حاصل نہ ہوسکا۔
حکومت ہاتھ سے پھسل جانے کےبعد تحریک انصاف کی طرف سے نہایت زور شور سے ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جلد عام انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ کیاگیا لیکن بادی النظر میں یوں لگتا ہے جیسے تحریک انصا ف اب جلد انتخابات میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ خالی اور ہاری ہوئی نشستوںپر انتخابی عمل میں حصہ لے کر ڈنگ ٹپائو کام جاری رکھنا چاہتی ہے تاکہ اس عرصہ میں خلائی مخلوق اور امریکہ و یورپ سے خراب تعلقات میں
کچھ بہتری لائی جاسکے۔ لاہور کے جلسہ عام میں پرانی باتوں کا اعادہ کیاگیا ایک موقف تھا کہ امریکہ نے سازش کی اور حکومت گرائی ،دوسرا موقف تھا کہ امریکہ کے ساتھ صلح کے بعد مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، جلسہ عام میں ایک نعرے پر سخت پابندی تھی، وہ نعرہ تھا امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے۔ شاید تحریک کے قائد کو اب یقین ہوگیا ہے کہ امریکہ کا جو یار ہے نہال ہے نہال ہے، وہ ایک اقتدار کھودینے کے بعد ہر قیمت پر دوسرا اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ کہتے نظر آتے ہیں کہ زمانہ اقتدار میں ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اقتدار ملنے کے بعد جب وہ کہیں گئے کہ اب ان کے پائوں بندھے ہوئے ہیں وہ مضبوط اورخود کفیل پاکستان کی طرف دو قدم چلنے سے قاصرہیں، تو اس وقت قوم کو کیا کرنا چاہیے، یا اگر انہوںنے کہہ دیا کہ اب ان کی زبان بند کردی گئی ہے تو پھر قوم کس کی ماں کو ماسی کہے۔
حکومت ہاتھ سے جانے کے بعد قومی اسمبلی سے استعفے دیئے گئے، کچھ منظور ہوگئے، زیادہ ممبران قومی اسمبلی نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا، اب کسی بھی روز خبر آسکتی ہے کہ ممبران قومی اسمبلی کا ایک بڑا گروپ تحریک انصاف سے علیحدہ ہوگیا ہے۔
قومی اسمبلی کے نو حلقوںمیں انتخابات ہونے والے ہیں، خیال خام تھا کہ جب بھی ایسا موقعہ آیا، لوگ قطاروں میں کھڑے ہوںگے اور پارٹی ٹکٹ حاصل کرنا چاہیں گے، صد افسوس ایسا نظر نہیں آتا، ذرائع بتاتے ہیں کہ درجنوں پرانے ساتھیوں کو ہر قسم کی پارٹی مدد مہیا کرنے کے وعدے کے باوجود پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کا خواہشمند ڈھونڈنے سے نہیں مل رہا، ایک موقعہ پر تحریک کے مرکزی قائدین کہتے تھے کہ ہم کھمبے کو ٹکٹ دیں گے تو وہ بھی
مثالی کامیابی حاصل کرلے گا، اس حوالے سے ماضی میں کچھ کھمبے میرے دوست رہے ہیں، میں نے ان سے پوچھا کہ وہ اس نادر موقعے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھانا چاہتے، جواب ملا، شاہ جی! ڈوبتے جہاز میں کون بیٹھتا ہے، پھر میں نے کچھ ایسے کارکنوں سے پوچھاجنہوں نے پارٹی کو اپنی زندگی کے قیمتی چھبیس برس دیئے کہ وہ آگے کیوں نہیں آرہے جبکہ خان صاحب کا اعلان تھا کہ وہ آئندہ کارکنوں کو انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیں گے ، جواب ملا اس وعدے کا بھی وہی حشر ہوا جو دیگر وعدوں کا ہوا، سیاسی اندھیرے بڑھتے دیکھ کر عمران خان نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو سیاسی و پارلیمانی تاریخ اس سے قبل نہیں ہوا، وہ ضمنی انتخاب میں نو نشستوں پر انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں، فرض کیجئے وہ ایک سے زیادہ نشستوں پر جیت جاتے ہیں جب بھی وہ اپنے پاس ایک ہی نشست رکھ سکتے ہیں، ایک نشست تو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے پھر اس ضمنی انتخاب میں وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے طرز عمل اور اس فیصلے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ وہ فوری انتخابات کی بجائے کھیل کو اگلے برس تک لے جانا چاہتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق انہیں واضح طور پر بتادیاگیا ہے کہ فوری انتخابات کسی صورت نہیں کرائے جائیں گے جس کے بعد وہ مطالبہ تو جاری رکھیں گے لیکن فوری انتخابات کی طرف جانے والا راستہ اختیار نہیں کریں گے، فوری انتخابات کا راستہ نہایت مختصر ہے یہ نہایت سرعت سے طے کیا جاسکتا ہے، وہ آج صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی توڑنے کا اعلان کردیں تو انتخابات ناگزیر ہوجائیں گے۔ عمران خان اور ان کے کچھ ساتھیوںکے خلاف ریفرنس تیاری کے آخری مراحل میں ہے جو پارٹی کی لیڈر شپ کے لیے سوہان روح ہے، اب ان کی طرف سے تلخیاں ختم کرنے اور بیٹھ کر بات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا جارہا ہے اب ان کی طرف سے ہر شخص کو ہر سیاست دان کو ایمنسٹی دینے کی بات کی جارہی ہے یہ سب کچھ ملک و قوم کی بہتری اور پاکستان کو عظیم پاکستان بنانے کے لیے کیا جارہا ہے، اس کے نتیجے میں ماضی کا عظیم پاکستان اور ماضی کے عظیم پاکستانی مزید ذلیل ہوں گے، قوم امیر آدمی اور غریب آدمی کے لیے یکساں قانون اور ہر شخص کو قانون کے نیچے لانے کے دل فریب وعدے ڈھونڈتی رہ جائے گی۔ دریں اثنا سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا ۔ اس مرتبہ بنجارا پھینی ناک والا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button