ColumnM Anwar Griwal

قلمدان اور عیاشیاں! .. محمد انور گریوال

محمد انور گریوال

 

آج کل قلمدان کا بڑا چرچا ہے، ایک ہنگامہ برپا ہے کہ وزیر اعظم نے دسیوں مشیر تو بنا لئے، مگر درجن بھر سے زائد مشیر قلمدان سے محروم ہیں۔ آخر قلمدان کونسی ایسی چیز ہے، جس کے ملے بِنا کوئی مشیر اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے سے قاصر ہے۔کسی بھی سٹیشنری کی دکان پر جائیں اور قلمدان خرید لائیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عام آدمی جو بہت ہی اچھا قلمدان اپنے لیے خریدے گا، سرکار کے خریدے ہوئے قلمدان کی قیمت اس سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔ اتنا تو اُس کا حق بنتا ہے، آخر سرکاری قلمدان نے ایسے ایسے قیمتی فیصلے کرنے اور اُن پر عمل کروانا ہوتا ہے، ان کے دفتر کے الگ سے لوازمات ہیں، ’’صاحب‘‘ کی اور ہی اہمیت ہے، پروٹوکول کے الگ تقاضے ہیں۔ اِس صورت حال میں جو چیز سامنے آئے گی وہ کس قدر قیمتی اور نایاب ہوگی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ قلمدان پر ہی کیا موقوف سرکاری وسائل سے اور سرکاری ضرورت کے لیے جو چیز بھی خریدی جاتی ہے ، وہ ذرا اعلیٰ پائے کی اور اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے۔ خاص طور پر افسران کے استعمال کی چیزوں کی قیمتیں تو اُس کے گریڈ کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں۔ اب صدرِ پاکستان کو ہی دیکھ لیجئے، ایوانِ صدر میں آویزاں کرنے کے لیے ان کا پورٹریٹ بھی لاکھوں میں بنتا ہے۔ اگر وہ عام آدمی کا ہو تو محض چند ہزار میں بہترین پورٹریٹ بن جاتا ہے۔
قلمدان ، جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے، ایسے لگتا ہے جیسے قلم رکھنے کے لیے کوئی خاص جگہ ہو، اِس وقت تو ذہن پر زور دینے کے باوجود مجھے ’’پان دان ،اُگال دان یا کُوڑا دان‘‘ وغیرہ ہی یاد آرہے ہیں۔ عجیب بات ہے، بعض اوقات کوئی اہم بات بھی ذہن سے ایسے بے موقع اُتر جاتی ہے کہ بندہ دیکھتا ہی رہ جاتا ہے، اور دوسرے بندے پہلے بندے کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں، بعض لوگوں کو لقمہ دینے کی عادت ہوتی ہے، مگر اُن کا لقمہ معیاری نہیں ہوتا۔ خیر ’’دان ‘‘ کی بجائے ’’دانی‘‘ والے کئی لفظ میرے دماغ میں گھوم رہے ہیں، مثلاً ’نمک دانی، سُرمے دانی، مچھر دانی وغیرہ۔اگر ہم سابقوں اور لاحقوں میں ہی الجھے رہے تو بات الجھ جائے گی،جبکہ میں ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہتا۔
کیا خبر کہ قلمدان موجود ہوں، مگر حکومت عمران دور کے قلمدان استعمال ہی نہ کرنا چاہتی ہو، شاید اس کا یہ بھی خیال ہو کہ اگر عمران خان دور کے قلمدان استعمال کئے تو فیصلے بھی اُنہی کے مزاج کے سرزد ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ اپنے ہاں جو کوئی بھی سرکاری اور حکومتی مقام پر بیٹھتا ہے، تو ماحول کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالتا ہے۔ خواہ اس سرگرمی میں کروڑوں روپے قومی خزانے سے ہی کیوں نہ اڑا دیئے جائیں۔ نہ انہیں پہلے والوں کی کرسی پسند آتی ہے نہ واش روم۔ یہی عالم قلمدان کا بھی ہو سکتا ہے، کہ ہم اُس قلم سے کیوں لکھیں جس سے سابق حکومت کے مشیروں نے کچھ لکھنے کی جسارت کر رکھی ہو، حالانکہ لکھنے والے کا ہاتھ بھی اپنا ہوتا ہے اور کبھی کبھی دماغ بھی۔
قلمدان کے ضمن میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ مشیروں کو اِس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ سوچنے والی بات ہے، کہ وزراء تو کچھ احکامات وغیرہ پر دستخط کرنے کے مجاز ہیں، مگر اِن بے چارے مشیروں وغیرہ نے کونسے احکامات جاری کرنے ہیں؟ اُن کے پاس اختیارات ہی کون سے ہیں ؟ یہ تو ہمارے سیاستدانوں نے اپنی سہولت کے لیے قانون بنا رکھے ہیں کہ وزیر ہوگا، وزیرِ مملکت ہوگا، مشیر ہوگا، معاون خصوصی ہوگا اور پارلیمانی سیکریٹری بھی ہوگا۔ یہ سب کیا کریں گے؟ یاسب کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا صاف ، سیدھا اور سادا جواب یہی ہے کہ یہ
محدود وزراء کے بعد تمام عہدے رشوت ہیں، جو اِن معزز ارکانِ اسمبلی کو عنایت کئے جاتے ہیں، تاکہ یہ لوگ متعلقہ حکومت کے ساتھ وفاداری نبھاتے رہیں اورجب حکومت ہی مختلف جماعتوں کے اتحاد پر مبنی ہو تو پھر یہ مجبوری اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہ تمام عہدے عوام کا خون نچوڑنے کے کام آتے ہیں، اِن تمام مشیروں اور معاونین وغیرہ کو سرکاری دفاتر، نوکر چاکر، پٹرول، اے سی، مراعات مہیاکر دی جاتی ہیں۔ انہیں اور کیا چاہیے؟
خیال تھا عمران خان صاحب اپنے دورِ حکومت میںقوم کی اِن فضولیات سے جان خلاصی کروا دیں گے، انہوں نے اگرچہ وزراء کی تعداد تو کچھ کم رکھی میں مشیروں اور معاونین کے باب میں وہ دوسری حکومتوں سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے کہ زیادہ تر غیر منتخب لوگوں کو اِن عہدوں پر فائز کردیا۔ بچت کا وعدہ کیا مگر ایفا نہ کر سکے۔یہ مشیر اور معاون توصرف سیاسی رشوت کا نام ہے،کیا پاکستان میں کبھی کوئی ایسا حکمران بھی آئے گا، جو اپنی کرسی کے لیے نہیں ، عوام کے لیے سوچے گا؟ موجودہ معاشی بحران میں کیا حکومت کا فرض نہیں بنتا کہ وہ کابینہ کی تعداد کم رکھے ، اِن مشیروں، معاونوں اور پارلیمانی سیکریٹریوں سے قوم کو محفوظ رکھے، حکمرانوں اور بیوروکریسی کی ظالمانہ اور غاصبانہ عیاشیوں کو ختم کرے، مفت کے پٹرول اور دیگر مراعات کو ختم کرے؟ یہ کیا کہ چھیالیس یونٹ کا بجلی کا بل تو نو ہزار روپے سے زائد ہو اور حکومتوں اور بیوروکریسی کی عیاشی میں ایک روپے کی کمی بھی نہ کی جائے؟ عوام کا نوحہ اور ماتم تو اپنی جگہ کہ وہ بھی اِنہی سیاستدانوں کا آگے لاتے ہیںمگر روزِ حشر عوام کے خون سے عیاشیوں پر پلنے والے حکمران اور بیوروکریسی ضرور جوابدہ ہوگی کہ آخر عوام کا حق کھا کر ہی انہوں نے عیاشیاں کی ہیں۔ اُدھر مشیروں کو تمام مراعات قلمدان کے بغیر بھی حاصل ہیں تو قلمدان کی کیا ضرورت ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button