ColumnImtiaz Ahmad Shad

75برس بیت گئے ۔۔ امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

جس طرح قوم افراد کا مجموعہ کہلاتی ہے بالکل اسی طرح قوم کی مجموعی زندگی کے کئی پہلو افرادی زندگی سے مطابقت رکھتے ہیں۔ فرد75 سال کا ہو جائے تو یہ اس کے کل جیون کے سرمائے کا عرصہ کہلاتا ہے جس میں انسان پلٹ کر اپنی زندگی کے حصول، کامیابیوں، ناکامیوں کا تجزیہ کرتا ہے اور عمر کے آخری حصے کو خدا کی امان میں سونپ کر ہر ممکن بہتری کی کاوش انجام دینے کی سعی کرتا ہے۔ کسی بھی قوم کی زندگی کے 75سال بھی کسی حد تک ایسے ہی رویے کے پہلے حصے کے طلبگار ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت آ جاتا ہے کہ جب کوئی بھی قوم سات دہائیوں سے زائد کے مجموعی سفر کابے لاگ تجزیہ کرتی ہے اور احساس سود و زیاں حاصل کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔فرد کی عمر جوں جوںبڑھتی ہے وہ تجربات حاصل کرتا جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ بڑے سے بڑے مسائل کو اپنے تجربات کی بنیاد پر بآسانی حل کر لیتا ہے۔جب ریاست کے ماہ و سال بڑھتے ہیں تو وہ مزید پختہ ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کے باشندے ریاست کی مضبوطی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان 1947 میں دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی دوسری نظریاتی ریاست ہے اس ریاست نے ان75 سالوں میں کیا کھویا کیا پایا ہے اس کا دل اس کی رگ رگ دکھتی محسوس ہو تی ہے جب اس کی موجودہ صورت حال پر غور کریں۔ پاکستان پر مسلط حکمران طبقے نے اپنے آپ کو مضبوط بنایا اپنے بچوں کیلئے حکمرانی کے تاج شاہی کو آسان بنانے کیلئے جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹا۔ جمہوریت کی آڑ میں پاکستان کے معصوم لوگوں کو لالی پاپ دے کر خود اپنی تجوریوں کو خوب بھرا۔

جمہوریت کے ہر چمپئن نے سیاست اور ریاست دونوں کو اپنے گرد گھمانے اور اپنی ذات کو نمایاں کرنے میں ہر ممکن کوشش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 75سال بعد بھی دو وقت کی روٹی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔وطن عزیز کی سیاسی رجیم نے مانگنے کے جس سفر کا آغاز 3مئی 1950 سے کیا وہ نا ختم ہونے والا سفر آج بھی جاری ہے۔فرد ہو یا ریاست اس کا ماضی اس کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے جس سفر کا آغاز کیا72 سال بعد بھی اس کے اثرات پوری شدت کے ساتھ بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان اور ان کی بیگم رعنا لیاقت علی خان، 3 مئی 1950ء کو امریکہ کے سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچے جہاں خود امریکی صدر ہیری ٹرومین نے ائرپورٹ پر ان کا بھر پور استقبال کیا ۔لیاقت علی خان کو امریکی صدر کے ذاتی طیارے میں پاکستان سے لے جایا گیا تھا۔ وہ 3 مئی سے 26 مئی 1950ء تک امریکی حکومت کے سرکاری مہمان رہے۔ تین ہفتوں کے اس سرکاری دورے میں انہیں امریکہ بھر میں گھمایا پھرایا گیا اور ہر جگہ ان کا پر تپاک استقبال ہوا ۔ یہ معلوم نہیں کہ مہمان کو میزبان نے جس مقصد کیلئے بلایا تھا، وہ پورا بھی ہوا یا نہیں بہر حال اگلے پانچ ہفتے تک وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان اپنی بیگم کے ساتھ امریکہ میں اپنی ذاتی حیثیت سے مقیم رہے اور 12 جولائی 1950 کو کینیڈا اور برطانیہ سے ہوتے ہوئے وطن واپس پہنچے جہاں ان کا بھر پور استقبال کیا گیا۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ اس سے قبل 8جون 1949ء کو روس کے صدر جوزف سٹالن نے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو دورہ روس کی دعوت دی تھی۔ وہ اس پر رضامند بھی تھے لیکن سرد جنگ کے عروج کے دور میں پھر دوسرے فریق امریکہ نے انہیں دعوت دے ڈالی اور وہ روس کا دورہ منسوخ کر کے امریکہ یاترا پر روانہ ہو گئے تھے۔بطور قوم ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں یہ فیصلہ کن موڑ تھا۔تاریخی واقعات کے تسلسل سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ قائد ملت، شہید ملت شاید کبھی نہ بنتے اگر وہ، وہی شرائط مان لیتے جو بعد میں داعی انقلاب جنرل ایوب خان نے مان لی تھیں۔

23اور 24فروری 2022کو سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے روس کا دو روزہ دورہ کیا تو اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔پاکستان کی عمر 75 سال ہوگئی اس سال ہم ڈائمنڈ جوبلی منارہے ہیں غور کیا جائے تو آگے بڑھنے کی بجائے ہم پیچھے کی طرف رواں ہیں، اخلاقی معاملات ہوں یا سیاسی معاشی ومعاشرتی ہر طرف زوال کی ایک داستان نظر آتی ہے، تعلیمی نظام جس نے سوچ وفکر کی پرورش کرکے اسکی تزئین وآرائش سوچ وفکر میں موجود کنکر نکال کر ا سے پالش کرکے ہیرے جوہرات کی شکل دینا تھی وہ خود بے یقینی کی کیفیت سے گزر رہا ہے اورجو پڑھایا جارہا ہے عملی طور پر اس کاکوئی معاشرتی فائدہ نظر نہیں آرہا ۔تعلیم پہلے سے عام ہے، لیکن کرپشن دوغالا پن، بے راہ روی، چور بازاری، رشوت، اقراباپروری، جھوٹ، دھوکہ دہی، ریا کاری پہلے سے زیادہ معاشرے میں نظر آرہی ہے۔چالیس سال کی عمر ہو جائے تو سوچ، غور فکر میں پختگی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن! چلئے مان لیتے ہیں کہ قوموں کی زندگی میں یہ سال بہت کم ہیں دنیا میں عروج کیلئے ایک وقت چاہیے ہوتا ہے۔

قوم سالہا سال محنت کرتی ہے پھر عروج ملتا ہے قوم منتظر ہو کہ کوئی اسے راہیں دکھائے لیکن راہ دکھانے والے خود محنت کی بجائے بیرونی امداد اور پھر ان کے اشاروں کے منتظر ہوں وہاں قومیں آگے کی بجائے پیچھے کی طرف سفر شروع کرتی ہیں۔ ان 75 سالوں میں پاکستان نے وہ قرض بھی ادا کئے جو اس پر فرض نہیں تھے۔ اسے تو ایک تجربہ گاہ کے طور پر حاصل کیا گیا تھاجہاں اسلام کے اصولوں کو آزمانا تھا ۔ افسوس ہم نے ہر اصول آزما لیا مگرجس کیلئے بنایا تھا اسے جگہ نہ مل سکی۔ اسلامی اصولوں کو پس پشت ڈال کر نت نئے تجربے کئے گئے اور کئے جارہے ہیں جن سے نہ تو کوئی حاصل حصول ہوا اور نہ ہو گا۔کیا اس سر زمین کو جو شہدا کے خون سے رچی بسی ہے ہم اپنی سستی اور کاہلی کی نذر کردیں گے؟وہ لالی پاپ جو75سال سے ہمیں دیاگیا ہے، چوستے رہیں گے؟حکمرانوں نے ہمیں روٹی کے چکر میں ڈال کر خود نہ صرف اپنی تجوریاں بھر لی بلکہ بیرونی بنک بھر دئیے اوربحیثیت قوم ہم لالی پاپ منہ میں لے کر گہری میٹھی نیندسوتے رہے۔ کیا ہم مزید75سال ضائع کر دیں گے یا کچھ ہوش کے ناخن بھی لیں گے؟ ۔

ایک بار عوام کو ہمت اور حوصلے سے کام لینا ہو گا۔ اپنے ذاتی فائدوں اور تعلق کو ایک طرف رکھ کر صرف اور صرف اپنی سر زمین کیلئے اپنے رہنماوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر نا ہو گا، تاریخ بدل سکتی ہے ۔ریاست پاکستان کسی صورت عام ریاست نہیں اس کی بنیادوں میں شہدا کا خون شامل ہے اور آج بھی میرے وطن کے محافظ جانوں کے نذرانے بڑے فخر سے پیش کر رہے ہیں۔ کیا ہمارے بزرگوں نے پاکستان کی آزادی کے وقت خواب میں بھی یہ سوچا ہوگا کہ پاکستان میں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جو اقتدار کی غرض سے ملک کی آزادی کو گروی رکھ دیں گے؟۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button