Column

آزادی کا جشن یا تحفظ؟

آزادی کا جشن یا تحفظ؟

آج ہم اپنی ملکی وقومی آزادی کا 75 واں جشن منا رہے ہیں جبکہ حقائق چیخ چیخ کربتا رہے ہیں کہ ہمیں آج کے دن اپنی مجموعی قومی و ریاستی محرومیوں اور بداعمالیوں پر 75 واں یوم سوگ اور یوم احساس زیاں منانا چاہیے۔ کوئی بھی محب وطن پاکستانی یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیوں بھئی ہم سوگ کیوں منائیں اور احساس زیاں کا شکار کیوں ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزاد اور خودمختار ریاست کا مالک و مختار بنایا ہے اور اس سوہنی دھرتی پر ہم مکمل آزادی کے ساتھ بس رہے ہیں۔ تو اس کا جواب ہے کہ ہماری مجموعی بدحالی اور پریشانیوں کی متعدد وجوہات اور ناقابل تردید اسباب ہیں جو خود سرکاری سرپرستی میں منظم اور ہمہ گیر کوششوں کے نتیجے میں بد سے بدتر صورت اختیار کررہے ہیں اور ظلم اور بداخلاقی اس نشان کو چھو رہی ہے۔ جہاں پر کارواں کے دل سے احساسِ زیاں بھی رخصت ہو جاتا ہے۔ بلامبالغہ وطن عزیز میں ہرسُو بدعنوانی کا راج ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ یہ بدعنوانی قریباً ہر سطح پر اور ہر شعبہ حیات میں طرزِ حیات بنتی جارہی ہے، حتیٰ کہ غیر جانبدار اور بین الاقوامی سطح پر اعدادوشمار اکٹھا کرنے والے قابل اعتماد عالمی ادارے بھی پاکستان کو دنیا کے دو یا تین سب سے زیادہ بدعنوان ملکوں میں شمار کر چکے ہیں۔ مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ سبھی اسلامی شعائر اور معاشرے کی مسلّمہ اقدار و آدابِ کو پامال کرنے میں مصروف ہیں۔ تعلیم کے نظام نے صرف علم ہی کی رسوائی کا سامان نہیں کیا بلکہ اخلاق کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ ہماری خوبصورت اور قابل فخر قومی روایات دم توڑ رہی ہیں اور فحش پسندی اور آزاد روی کا سیلاب اُمڈ رہا ہے۔ بچشم سر دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
دوسرا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ملک و ملت کے ہر اس ادارے کو تباہ کیا جا رہا ہے، جو قوم کی اخلاقی و قانونی کشتی کو لنگر کی طرح تھام کے رکھتا ہے۔ دستور ہو یا قانون، پارلیمنٹ ہو یا انتظامیہ، عدلیہ ہو یا پولیس، سول سروس ہو یا بلدیاتی نظامِ حکومت، تعلیم ہو یا ذرائع ابلاغ، حتیٰ کہ قوم کا آخری سہارا، یعنی ہمارا پروقار، منفرد اور نمایاں خاندانی نظام بھی تباہ کیا جا رہا ہے۔ پھر یہ کہ دور غلامی میں بھی ہمارے آبا واجداد نے جن اداروں کو بڑی محنت اور قربانی سے استعمار کے اقتدار کے باوجود محفوظ رکھا ہوا تھا، آج ان اداروں کی بھی اخلاقی بنیادیں ہل کر رہ گئی ہیں اور دیواریں گر رہی ہیں۔
ظلم تو یہ ہے کہ ملک کے اعلیٰ اور مجموعی دماغ کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے پالیسی سازی کے سارے عمل اور فیصلہ کرنے والے تمام اداروں اور افراد کو بیرونی اثرات کا ایسے عادی بنا دیا گیا ہے جیسے کوئی نشئی نشے کے بغیر مضطر اور نڈھال ہو جاتا ہے، نتیجتاً اب ملک کی سیاسی اور نظریاتی آزادی تک خطرے میں پڑگئی ہے۔ معاشی پالیسیاں بیرونی اور عالمی استعمار کے کرتا دھرتا ساہوکاروں کے ہاتھوں گروی رکھ دی گئی ہیں۔ اب تو ہمارے ملک کی معیشت میں عالمی بنک اور عالمی مالیاتی فنڈ کا عمل
دخل اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ملک کا بجٹ ملک کی پارلیمنٹ کے زیر انتظام نہیں،ان اداروں کے احکام کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خود وزیراعظم کے معاشی مشیر تاجروں اور صنعت کاروں سے کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اگر آپ کو اپنی سفارشات کو منظور کرانا ہے تو آئی ایم ایف کے کارپردازوں سے بات کریں۔ یہی حال قانون سازی کا ہے۔ قانون بناتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ ملک و ملّت کا مفاد کیا ہے یا ہماری نظریاتی اساس کیا ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ امریکہ اور مغرب کس بات پر خوش ہوں گے اور کس پر معترض ہوں گے۔ مغرب کا پیدا کردہ بنیاد پرستی اور تشدد کا پراپیگنڈہ بھی زوروں پر ہے۔ اسی وجہ سے ہماری قومی قیادت کی جانب سے نہ صرف قسمیں کھائی جاتی ہیں کہ ہم بنیاد پرست نہیں بلکہ اس حلف کی بنیاد پر ہی ملکی داخلی اور سفارتی پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ القصہ سیاست و معیشت اور ثقافت و تمدن، ہر میدان میں ہم اپنی آزادی اور حاکمیت پر سمجھوتے کر رہے ہیں اور جو کچھ مسلمانانِ پاک و ہند نے اپنی جان، مال اور آبرو کی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا، اسے چند مفاد پرست اپنے مفاد کی خاطر مسلسل داؤ پر لگاتے چلے آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی ماضی کے کچھ آمروں اور ماضی اور حال کی کچھ نام نہاد جمہوری قوتوں کی حکمرانی کے طفیل پاکستان اور اہلِ پاکستان مصیبت اور غلامی میں مبتلا ہیں۔ 14 اگست 1947 کو وہ ملک جو پوری ملت اسلامیہ کیلئے نئی اُمیدوں اور ایک روشن مستقبل کا پیغام لے کر دنیا کے اُفق پر نمودار ہوا تھا، اسے اتھاہ تاریکیوں میں ڈبو دیا گیا ہے۔ اب صورتِ حال کا صحیح ادراک کرکے درست جانب سفر شروع نہ کیا گیا تو تباہی اور تاریکی کی شدت کا انکار، دراصل حقیقت کے انکار اورعاقبت نااندیشی کے مترادف ہوگا۔گو کہ معاملات خرابی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حالات کیسے ہی خراب کیوں نہ ہوں، مومن کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مخلص انسانوں کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گا، جن کے خون اور عصمتوں کی قربانی سے یہ ملکِ عزیز وجود میں آیا تھا۔ اس لیے بھی کہ تاریخ کا یہی فیصلہ ہے اور فطرت کا اٹل قانون ہے کہ تخریب اور تباہی کی خواہش مند قوتیں ایک خاص حد پر پہنچنے کے بعد خود ہی شکست و ریخت کا نشانہ بنتی ہیں اور خیر اور صلاح کی قوتیں بالآخر غالب ہوتی ہیں۔ جس طرح زوال اور انتشار ہماری تاریخ کی ایک حقیقت ہے، اسی طرح تجدید اور احیا بھی ایک درخشاں امید کی حیثیت رکھتی ہیں۔
عام پاکستانی یہ سوال کرسکتا ہے کہ آخر کار بہتری اور اصلاح کا راستہ کیا ہے۔ تجربات سے ثابت ہے کہ پاکستان میں نہ فوج کی مداخلت حالات کو درست کرسکتی ہے اور نہ تشدد کی سیاست ملک وقوم کے مفاد میں ہے۔ موجودہ حالات میں ملکی سیاست میں تصادم اور تلخی جس حد کو پہنچ گئی ہے۔ اس سے صرف سیاست ہی نہیں ملک کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا ہے، ایک طرف معاشی بدحالی اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے اور وسائلِ حیات کی قلت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے تو دوسری طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ جبکہ تشدد کی سیاست جلتی پر تیل کا کام کررہی ہے۔
ان حالات میں اس امر کی ضرورت ہے کہ ملک کے وہ تمام عناصر جو حالات سے غیرمطمئن ہیں، موجودہ تباہی اور تنزلی کے اسباب پر متفق ہیں، وہ مل جل کر موثر سیاسی جدوجہد کے ذریعے نظام کو بدلنے کوشش کریں۔ ملک میں ایک ایسی نئی قیادت اُبھرے جس کا دامن پاک ہو جو عوام میں سے ہو اور جو عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے اصل مقاصد، اس کی حقیقی منزل اور منزل کے حصول کیلئے ترجیحات طے کر لی جائیں اور ان ترجیحات کے بارے میں عوام وخواص میں یکسوئی ہو۔ وہ تمام دینی اور سیاسی عناصر جو اسلام، جمہوریت، عدلِ اور معاشی خودانحصاری پر یقین رکھتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے قریب آئیں اور اصولوں پر پختہ ایمان رکھنے والی باکردار قیادت کو قوم کے سامنے لائیں۔ ورنہ اگلے سال بھی ہم ان دنوں میں آزادی کا جشن منانے نہیں بلکہ اس آزاری کا تحفظ کرنے کی فکر میں مبتلا ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button