Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnImran Riaz

انتخابی نتائج کے بعد آئندہ کے سیاسی آپشنز ۔۔ عمران ریاض

انتخابی نتائج کے بعد آئندہ کے سیاسی آپشنز

عمران ریاض

پنجاب بھر نے بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں سمیت بڑے بڑے تجزیہ کاروںکو غلط ثابت کر دیا یہاں تک کہ خود جیتنے والی تحریک انصاف کے اندازے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے اب ایسی صورت حال میں تو ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ نون لیگ کو اتنی بری شکست سے کیوں دوچار ہونا پڑا 1985 سے لیکر اب تک کوئی سیاسی جماعت نون لیگ کی پنجاب میں سیاسی حیثیت کو چیلنج نہیں کر پائی تھی جبکہ تحریک انصاف نے نون لیگ کو صرف چیلنج ہی نہیں کیا بلکہ اسے تاریخی شکست دے کر پنجاب کی سیاسی ملکیت اپنے نام کرلی ہے پنجاب کی گزشتہ 35 سالہ سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہے نون لیگ کی حالیہ شکست کا جائزہ اگر لیا جائے تو وجوہات نمایاں ہیں سب سے پہلی وجہ تو شہباز حکومت کی طرف سے پٹرول کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے نتیجے میں مہنگائی کا جو طوفان آیا اس کا عوام نے شدید ردعمل دیا شہباز شریف کے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا کہ اگر ہم مشکل اقدامات نہ اٹھاتے تو پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا اور عوام مہنگائی کا ملبہ عمران خان کی پونے چار سالہ حکومت اور شہباز شریف کی تین ماہ کی حکومت پر تقسیم کرنے کی بجائے ساراملبہ شہباز حکومت پر ڈال دیا

دوسری وجہ شکست عمران خان کا بیرونی سازش کا وہ بیانیہ جو انہوں نے پورے زور سے بیچا اور لوگوں نے خریدا یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ بیانیہ کتنا سچ پر مبنی ہے اور کتنا نہیں بہرحال حقیقت یہ ہے امریکہ مخالف یہ بیانیہ خوب بکا اور عمران خان عوام میں اپنے لیے مظلومیت کے جذبات ابھارنے میں مکمل کامیاب رہے جبکہ عمران خان کے مقابلے میں نون لیگ کا سرے سے کوئی بیانیہ تھا ہی نہیں، نون لیگ کی پوری الیکشن کمپین دفاعی انداز کی تھی جبکہ عمران خان جارحانہ کمپین کررہے تھے یہ بات بھی بہر کیف اپنی جگہ حقیقت ہے، مریم نواز، عمران خان کے قد کاٹھ کی لیڈر تو بہرحال نہیں اس چیز کا فائدہ یقیناً تحریک انصاف کو پہنچا حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوا کر نون لیگ مورثی ہونے کا پورا پورا ثبوت فراہم کردیا گیا عام لوگوں نے نون لیگ کے اس فیصلے کو سراہا نہیں ہر ایک کا کہنا یہی تھا کہ شریف خاندان کے باہر وزارت اعلیٰ اور وزارت عظمیٰ کیوں کسی اورکو نہیں دی جاسکتی اس فیصلے نے نون لیگ کے جمہوری امیج پر سوال کھڑے کر دئیے جس کا فائدہ تحریک انصاف نے خوب اٹھایا ویسے میں تو ذاتی طورپر حمزہ شہباز کے مزاج کو نہیں جانتا لیکن عام تاثر یہی ہے کہ وہ گھمنڈی سے مغرور قسم کے جوان ہیں جو لوگوں سے آدھا ہاتھ بھی نہیں ملاتے بہرحال حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنانا نون لیگ کا کوئی عقلمندی کا جمہوریت پسندی کا فیصلہ نہیں تھا۔

تحریک انصاف کے منحرف لوگوں کو ٹکٹس دینے سے نون لیگ باہمی انتشار کا شکار ہوگئی نون لیگ کے وہ امیدواران جنہوں نے 2018 میں انہی امیدواروں کیخلاف ہی الیکشن لڑا اب انہیں جتوا کر وہ ہمیشہ کے لیے اپنے لیے پارٹی ٹکٹ کے دروازے کیوں بند لیتےلہٰذانون لیگ کی مقامی قیادت تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی مخالفت کرتی رہی اور نون لیگ کے ووٹر سپورٹرز نے بھی پارٹی قیادت کے اس فیصلے کو دل سے قبول نہ کیا سول انتظامیہ نے ضرورت سے زیادہ غیر جانبداری دکھائی عام طور پر حکومتی امیدواروں کو لوکل سطح پر جس طرح کے کچھ فائدے میسر ہوتے ہیں اس الیکشن میں وہ بھی حاصل نہ تھے،

عمران خان کی ریاستی اداروں کیخلاف جارحانہ پالیسی کی وجہ سے تمام ریاستی ادارے ڈرے اور سہمے سے ہوئے تھے جہاں تک نیوٹلز کا تعلق ہے تووہ بھی ضرورت سے زیادہ ہی نیوٹرل رہے بلکہ وہ بھی دفاعی پوزیشن پر چلے گئے میرے نزدیک یہ ہیں وہ چند موٹی موٹی وجوہات کہ جن کی بنا پر نون لیگ کو شکست کا سامنا کرنا پڑااب تھوڑا سا جائزہ ان انتخابی نتائج کے اثرات کا لیتے ہیں جوکہ آئندہ کی ملکی صورتحال پر اثرانداز ہونے جا رہے ہیں عمران خان نے تو فوراً نئے انتخابات کا مطالبہ پورے زور وشور سے دہرا دیا ہے

اسٹیبلشمنٹ کو بھی عوامی موڈ کا اندازہ ہوگیا ہے حکومتی اتحادی کی اخلاقی پوزیشن بھی کمپرومائزڈ ہوچکی ہے پنجاب کی حکومت حکومتی اتحاد کے ہاتھ سے گئی سو گئی اب تو مرکزی حکومت کا اخلاقی جواز بھی ختم ہو گیا ہے لیکن اگر موجودہ اتحادی حکومت اس وقت جبکہ عمران خان کی کی شہرت اپنی بلندیوں کی انتہا کو چھو رہی ایسے اسمبلیاں توڑکر نئے انتخابات کی طرف جاتی ہے تو آئندہ عام انتخابات میں عمران خان کو دوتہائی اکثریت پلیٹ میں ڈال کر دینے کے مترادف ہے اگر اتحادی حکومت اسمبلیاں نہیں توڑتی تو دو ووٹوں پر کھڑی اس حکومت کے دو ممبران کو توڑنا اب کوئی مشکل کام نہیں اور نہ ہی شہباز شریف کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا پراسیس کرنے کی ضرورت ہے صدر مملکت وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں گے جو کہ یقیناً اس صورتحال میں تو شہباز شریف نہیں لے سکیں گے تو حکومت تو اس صورت میں ختم ہو جائے گی اس وقت جو ملکی فضا ہے وہ نئے عام انتخابات کی طرف جاتی نظر آرہی ہے لیکن یہ انتخابات کس وقت ہوں یہ سب سے بڑا سوال ہے تحریک انصاف کو تو فوراً انتخابات ہر لحاظ سے فائدے میںہیں جبکہ موجودہ حکومتی اتحادیوں کے لیے سیاسی طور پر انتہائی نقصان دہ، ویسے مجھے یہ حکومتی اتحاد مزید چلتے دکھائی بھی نہیں دے رہا، میرے خیال میں یہ اتحاد اپنی طبعی موت مر چکا ہے اور آج کے فیصلے آئندہ انتخابات پر گہرے اثرات ڈالیں گے،

نون لیگ کو چاہیے کہ ضمنی انتخابات کی شکست کا سوگ منانے کی بجائے اب آئندہ انتخابات کا سوچے کہیں وہ بھی گنوا بیٹھے ،شہباز شریف کی وزیراعظم بنے کی خواہش کہیں پوری نون لیگ کو آئندہ پانچ سال بھی اقتدار سے باہر نہ کردے چھوٹی سی خواہش کی اتنی بھاری قیمت کبھی شہباز شریف نے سوچا بھی تھا کہ نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!