ColumnImtiaz Ahmad Shad

غلطیوں سے سبق سیکھیں .. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

باہمی مشاورت،برداشت اور بہترین حکمت عملی کسی بھی کامیاب رہنماکی نمایاں خوبیاں ہوا کرتی ہیں۔ جو شخص ان خوبیوں کو سمیٹ کر فلاح انسانی کے لیے میدان میں اُترتا ہے، خلق خدا اس کو راہبر چن لیتی ہے۔اگر اس لیڈر میں یہ خوبیاں قائم رہیں اور ان کو بروئے کار لانے کی صلاحیت موجود ہو تو وہ ملک و ملت کو اقوام عالم میں وہ مقام دلا سکتا ہے جس کا خواب علامہ محمد اقبالؒ نے بر صغیر کے مسلمانوں کو دکھایا۔تاریخ پاکستان کا ہر طالبعلم جانتا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھااس کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی تھیں اور مقصد یہ تھا کہ یہاں پر ایک ایسی ریاست بنے گی جس میں اسلامی اصولوںکے مطابق معاملات حل ہوں گے۔ یہ بات عیاں ہے کہ اس ملک کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں غریب مسلمانوں نے دی تھیں اس لیے کہ انگریز کے دور غلامی میں ان کے حقوق برائے نام تھے ،مراعات یافتہ طبقہ انگریزوں کے دور حکومت میں بھی عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتا تھا اور آج بھی یہی صورت حال ہے۔ جب بھی پاکستان کے اندر کسی سیاست دان نے غریب عوام کی بہتری کے لیے نعرہ لگایا تو عوام نے ایسے لیڈر کا ساتھ دیا ،یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ لیڈر اقتدار ملنے کے بعد کس حد تک عوام کی امیدوں پر پورا اترا،یا عوام کو بھول کر ذاتی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنانے پر لگ گیااور اقتدار کے مزے لوٹتا رہا۔

اس وقت پاکستان کی صورت حال دیکھ کر ہر محب وطن پاکستانی فکر مند ہے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں نے معاشرے میں عدم برداشت کی ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ ملک خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے کسی کی بھی اس ملک میں عزت محفوظ نہیں ۔ ہر جانب سے نفرت اور غصے کی ایسی بمباری ہورہی ہے کہ الامان الحفیظ، حالانکہ اسلام تو بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔پاکستان کے دشمن اس سارے سیاسی کھیل کو دیکھ کر خوشیاں منا رہے ہیں کہ پاکستان تباہی کی طرف خود جارہا ہے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ہندوستان کے اخبارات میں اداریے لکھے جا رہے ہیں کہ پاکستان بہت جلد اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے،خاکم بدہن اس تباہی سے نکلنے کا اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔یہاں تک لکھا جارہا ہے کہ برادر اسلامی ممالک پاکستان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔

یہ کوئی پرانی بات نہیں پاکستان جب ایٹمی قوت بنا تو ساری امت مسلمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ آخر مسلم ممالک میں سے ایک ایسا ملک تو ہے جو دفاعی طور پر ایک مضبوط ملک ہے جو دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنے پاوں پر کھڑا ہے مگر آج دوسروں پر انحصار کا یہ عالم ہے کہ آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر ہم اپنی عوام کو پانی کا گلاس تک فری نہیں دے سکتے۔ معاشی کمزوری کے باوجود یہ بات ہمارا دشمن بھی جانتا ہے کہ پاکستان کی افواج دنیا کی بہترین تربیت یافتہ آرمی ہے جو کسی بھی جارحانہ صورت حا ل کا مقابلہ کر سکتی ہے۔اگر پاک فوج میں یہ صلاحیت نہ ہوتی تو دشمن کب کا ہماری کمزور معاشی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں حصوں بکھروں میں تقسیم کر چکا ہوتا۔اصل مسئلہ ہماری سیاسی قیادت کا ہے،بد قسمتی سے یہ دور اندیشی،قوت برداشت اور حکمت عملی ایسے بہترین اصولوں سے عاری ہیں۔ پاکستان میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں ان کو پاکستانی عوام کی حمایت حاصل ہے کسی کو زیادہ ہے کسی کو کم اب ان پارٹیوں کے لیڈروں کو چاہیے تھا کہ وہ مل بیٹھ کر اس ملک کی بہتری کے لیے کچھ سوچتے،گرتی ہوئی معاشی صورتحال کو سنبھالتے،

مگر بد قسمتی سے انہیں ضد اور عناد سے ہی فرصت نہیں۔ اگر اسی طرح وہ ایک دوسرے کے ساتھ دست گریباں رہے تو یہ ملک تباہ و برباد ہوجائے گا۔ ایک زمانہ تھا کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ والے آپس میں اقتدار کے لیے لڑتے تھے لیکن انہوں نے شاید اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کر لیا ہے یا مفادات مشترکہ ہو چکے بہر حال ہر دو صورت میں ان کے رہنما اور کارکنان فی الوقت دست و گریباں ہونے سے گریز کر تے ہیں ۔لیکن اب ان کا مقابلہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ ہے۔ ملک کی بہتری تو اسی میں ہے کہ سارے سیاست دان مل بیٹھ کر ایسا پروگرام طے کریں جس سے ملک کے معاشی حالات ٹھیک ہوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے سے دشمنی بڑھے گی جس کا کسی کو بھی فائدہ نہیں۔ اسلامی اصولوں کے مطابق اس ملک کو اگر چلایا جائے تو سارے معاملات درست ہو سکتے ہیں موجودہ سیاسی دشمنی بھائی چارے میں بد ل سکتی ہے۔ اقتدار کا نشہ تو ہے لیکن ہر حکمران کو سوچنا چاہیے کہ ایک دن اس نے اپنی زندگی کا حساب وکتاب دینا ہے اس زندگی میں تو انسان انسانوں کو دھوکہ دے سکتا ہے جھوٹ کو سچ بنا کر
پیش کر سکتا ہے لیکن آخرت میں ایک ایسی عدالت ہے جس میں اعمال سچ کی بنیاد پر تولے جائیں گے وہاں پر تو ان حکمرانوں کی کوئی مدد نہیں کرے گا ۔

اس دن ہر آدمی کو اپنی فکر ہوگی اگر کوئی عوامی خدمت کے جذبے سے اقتدار حاصل کرتا ہے اور وہ نیک نیتی سے حکمرانی کے فرائض انجام دیتا ہے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن جو کرپشن کرکے مال ودولت اکھٹی کرتا ہے اس کا انجام بڑا برا ہے اب بھی وقت ہے کہ سارے سیاست دان عقل سے کام لیں ۔موجودہ حالات میںجو اقتدار میں بیٹھے ہیں اور جو اپوزیشن میں ہیں وہ سب پاکستان کی بقا کی خاطرصبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، اپنی زبانوں کو لگام دیں ،کارکنان کی اخلاقی تربیت کریں اور اس سیاسی دشمنی کو ملک وقوم کی بہتری کے لیے دوستی میں بدلنے کی کوشش کریں۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے تو کم از کم تنقید کو تہذیب کے دائرے میں تو ضرور رکھیں کیونکہ الفاظ اثر رکھتے ہیں۔ سیاسی لیڈروں نے ہی عام عوام کی تربیت کرنا ہوتی ہے اگر دشمنی پھیلائی گئی تو یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔موجودہ حکومت کو بھی یہ بات ذہن نشیں کرنا ہو گی کہ وہ جس تیزی سے بل پاس کر رہی ہے اور اپوزیشن کے بغض میں جلد بازی میں عوامی مفاد کے خلاف فیصلے کر رہی ہے کل الیکشن میں انہیں بھی عوام کا سامنا کرنا ہو گا۔اسی طرح عمران خان کو بھی جذبات سے ہٹ کر اخلاقیات کا دامن تھامنا ہو گا۔

گالی کلوچ نے نہ تو کسی سیاسی رہنما کو پہلے فائدہ دیا ہے اور نہ اب فائدہ ہو سکتاہے۔جلد یا بدیر الیکشن تو ہونے ہی ہیں۔ بطور سیاسی جماعت سب کو الیکشن کی تیاری کرنی ہے۔ صاحب اقتدار پر تو کبھی نصیحت اثر نہیں کرتی کیوں کہ تخت سے نیچے اس کی نظر نہیں پڑتی، بہرحال عمران خان کے لیے چند مشورے حاضر خدمت ہیں۔سب سے پہلے اپنے سخت لہجے میں نرمی لائیں تاکہ آپ کے فالورزاخلاقیات کا دامن تھام سکیں،اس کے بعد پنجاب پر خصوصی توجہ دیںکیونکہ آپ کے اس لانگ مارچ میں سب سے بری کارکردگی پنجاب کی قیادت کی رہی ہے۔ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے،ساڑھے تین سال آپ کی یہاں حکومت رہی ہے ،جنہوں نے حکومت کے مزے لیے ہیں ان میں سے اکثریت نے نہ تو عوام سے رابطہ کیا اور نہ ہی آپ کی اس کال کو سنجیدہ لیا، بلکہ بہت سے طرم خانوں نے تو خود گرفتاریاں دیں تاکہ شہیدوں میں نام آ جائے۔آخر میں اہم بات یہ ہے کہ آپ کی ذات میں باہمی مشاورت کا شدید فقدان ہے،ہر معاملے میں سولو فلائٹ کارگر ثابت نہیں ہوتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button