ColumnM Anwar Griwal

گرمی،چولستان اور ہمارا کردار! …  محمد انور گریوال

 محمد انور گریوال

گرمی کی لہر ،کہ روح تک کو جھُلسا کر رکھ دے، تپش ،کہ جسم میں سرائیت کر جائے، لُو، کہ جسم سے آر پار ہو جائے۔ حضرت انسان تو ہائے وائے کر لیتا ہے، بلکہ کرتا ہی رہتا ہے، چرند پرند اور نباتات خاموشی سے گرمی کو سہتے ہیں، اپنے زبان میں وہ بھی اپنے خالق سے رحم مانگتے ہوں گے، وہ بھی آسمان کی طرف دیکھتے اور بارش کی آس لگاتے ہوں گے۔ مگر بے بسی کا عالم یہ ہے کہ کوئی بھی کچھ کر نہیں سکتا، یہ شدت تو ایک آفتِ سماوی کی مانند ہے، نہ کوئی اِسے روک سکتا ہے، نہ کسی میں روکنے کی طاقت ہے۔ بس یہ ہے کہ ہر ذی روح اپنی جان، اپنی خوراک اور اپنی فطرت کے دیگر تقاضے نباہے چلا جاتا ہے، تپتی دوپہر میں ہر کوئی گھروں اور سایہ دار جگہوں میں پناہ لیتا ہے، گرمی کو کم کرنے کے جتنے جتن ہو سکتے ہیں وہ اپنے تئیں کرتا ہے، انسان سایہ حاصل کرتا ہے، مشروبات سے گرمی کا توڑ کرتاہے، حسبِ استطاعت مصنوعی ٹھنڈی ہوا کا بندوبست کرتا ہے۔ گرمی کی موجودہ لہر میں شدت اس قدر ہے، کہ رات گئے تک تپش کم ہونے میں نہیں آتی، سڑکیں بھی گرم ہو چکی ہوتی ہیں اور سنگ و خشت سے بنی عمارتیں بھی گرمی کی معاونت کرنے پر تُل جاتی ہیں، یوں ہر چیز گرم ہو جاتی ہے۔

صحرا تو ویسے بھی گرمی کا استعارہ ہوتے ہیں، اور جب گرمی اپنے عروج پر پہنچ جائے تو صحرا کا کیا حال ہوتا ہوگا؟ اس کا حال وہی جانتا ہے، جس کا اُس سے واسطہ پڑتا ہے۔ صحرائے چولستان چھیاسٹھ لاکھ ایکڑ پر محیط ہے، پانی کا زیادہ تر دارومدار بارش پر ہے، بارانِ رحمت برسے تو دور دراز موجود ٹوبے ’’تار متار‘‘ ہو جاتے ہیں، جس سے انسانوں اور جانوروں کے لیے کچھ وقت کے لئے پانی دستیاب رہتا ہے، مگر بارش کا وقفہ کچھ زیادہ ہو جائے تو ٹوبے خشک ہو جاتے ہیں، ٹوبے خشک ہوئے تو زندگی کا سفر رُک جاتا ہے، اور چولستانی وہاں سے کوچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں چولستان جانے کا اتفاق ہو تو دیکھا جا سکتا ہے، کہ خس و خاشاک سے بنے روہیلوںکے ’’گھر‘‘ویران پڑے ہوتے ہیں، یہ موسموں کی تبدیلی کے ساتھ آباد اور ویران ہوتے رہتے ہیں۔ چند دہائیاں قبل حکومتوں نے کئی کلومیٹر دور سے پائپ لائن کے ذریعے قلعہ ڈیراور کے اطراف میں زیادہ آبادی والے علاقوں میں پانی کا اہتمام کیا تھا، جگہ جگہ برآمدہ نما عمارتوں سے سایہ کا بندوبست کیا گیا، جانوروں کے پانی پینے کا الگ انتظام تھا، انسانوں کے لیے علیحدہ ٹوٹیاں لگائی گئیں۔ چولستانیوں نے کچھ سُکھ کا سانس لیا۔
اِسے اپنی روایت ہی جانئے کہ کسی ترقیاتی کام کے انجام پذیر ہوتے ہی متعلقہ محکمہ اُسے طاقِ نسیاں پہ رکھ کر خوابِ خرگوش کے مزے لینے لگتا ہے، کرپشن کی کہانی تو ہر ترقیاتی کام کے ساتھ لازم و ملزوم ہے، مگر تعمیر کے بعد مرمت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، یوں خرابی تمام حدیں عبور کر لیتی ہے۔ یہ پائپ لائن بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی، برآمدے کھنڈر بن گئے، پانی ناپید ہونے لگا۔ ہوتا تو یہ کہ پانی کی دستیابی کو مزید بہتر کیا جاتا، ٹوبوں کے کنارے پختہ کئے جاتے، وہاں پائپوں کے ذریعے پانی پہنچایا جاتا، معاملہ دفتروں تک ہی محدود رہتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ چولستانیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹوبے صاف کرنا یا اس طرح کے دیگر پروگرام بنانا ترک کر رکھا ہے، اب ہر کام کے لیے اُن کی نگاہیں حکومتوں یا این جی اوز وغیرہ کی راہ تکتی رہتی ہیں۔  کاش تینوں فریق اپنا اپنا فرض نبھاتے تو کسی بہتری کی توقع ہوتی، افسوس ! ایسا نہیں ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ چولستانی در بدر ہیں، اُن کی بھیڑ بکریاں گرمی کی شدت برداشت نہ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار رہی ہیں، مگر مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں،
اگر ہے تو عمل کی محتاج۔ چولستان ،پانی کی کمی کے شدید مسئلہ کے باوجود قبضہ مافیا کے لیے جنت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، کوئی وقت تھا قلعہ ڈیراورسے بہت پہلے ہی صحرا شروع ہو جاتا تھا، اب قلعہ پہنچنے تک
فصلیں وغیرہ دکھائی دیتی ہیں، یہ لوگ مختلف ذرائع سے یہاں تک پہنچ چکے ہیں، سولریا ٹریکٹر کے ذریعے ٹیوب ویل لگائے جاتے اور زمین ہموار کرکے کاشت شروع کردی جاتی ہے، مگر غریب چولستانیوں کے لیے نہ تو وہاں کی زمینوں کی الاٹ منٹ کا بندوبست ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر سہولتوں کا بہتر انتظام۔
چولستان کی ریت کی تپش سے جنوبی پنجاب بھی گرمی کا شکار ہے، جنوبی پنجاب پر ہی کیا موقوف، گرمی تو وسطی پنجاب سے ہوتی ہوئی بالائی پنجاب تک اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ ملک میں شجر کاری کا سرکاری نعرہ بڑے جوش وخروش کے ساتھ لگایا جاتا ہے، مگر گزشتہ دو دہائیوں سے سڑکوں وغیرہ پر اس کے اثرات کسی حد تک دکھائی دیتے ہیں، مگر جہاں بڑے درخت ہوا کرتے تھے، وہاں اب چند فٹ کے پودے لگائے جاتے ہیں، سبزہ کی صورت تو دکھائی دیتی ہے، مگر زیادہ پھیلائو اور سایہ کی کہانی تشنہ تکمیل ہے۔ یہ سلسلہ بھی کسی حد تک شہروں کے اندر بڑی سڑکوں پر دکھائی دیتا ہے، جبکہ شہر سے باہر بڑی شاہراہوں پر کروڑوں درختوں کی گنجائش موجود ہے،
شاید ایسا قانون بھی ہے، جو حرکت میں کم ہی آتا ہے۔ موٹر ویز کو دیکھ لیں ، اطراف میں کروڑوں درخت لگائے جاسکتے ہیں، مگر ویرانیاں مسافروں کا منہ چڑاتی نظر آتی ہیں۔ نہروں پر درخت ہوا کرتے تھے، جو کہ ٹمبرمافیا نے محکمہ کی ملی بھگت سے وراثتی جائیداد کی طرح ہڑپ کر لیے، باقی بچے ہوئے درخت بھی منظر سے غائب ہو رہے ہیں۔ چھوٹی نہروں پر تو مکمل طور پر درختوں کا صفایا ہو چکا ہے، کیا نہروں پر ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ کروڑوں درخت نہیں لگائے جا سکتے؟ شہروں میں دفاتر، پارک، سڑکیں اور بھی بے شمار مقامات ہیں جنہیں سرسبز وشاداب کیا جا سکتا ہے، مگر سچی بات یہ ہے کہ کوئی بھی بااختیار افسر اِس معاملہ میں سنجیدہ نہیں، کارروائیوں میں البتہ تمام مختارانِ ملّت بہت حساس اور متحرک ہیں۔ہر سال خشک سالی کے بعد دریائوں میں برف کا پانی پگھلنے سے سیلاب آتا ہے، پانی تباہی پھیلاتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے، مگر ڈیم بنا کر پانی کو ذخیرہ کرنے اور ضرورت کے وقت کام میں لانے کا کسی کو خیال نہیں آتا۔
پاکستان کے شہری بھی اپنا فرض باتوں سے ہی نبھانے کے ماہر ہو چکے ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے وہ درختوں وغیرہ کے بارے میں اپنے اقوالِ زریں بیان کر کے ثوابِ دارین کے مستحق قرار پا جاتے ہیں، عمل کی نوبت البتہ کم ہی آتی ہے۔ یوں ہم لوگ گرمی کو روتے بہت ہیں، اس کی شدت کم کرنے میں اپنا کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button