تازہ ترینخبریںفن اور فنکار

کنگنا رناوت ’قومی زبان‘ کے تنازع میں اجے دیوگن کی حمایت میں بول پڑیں

بالی ووڈ کی کوئین کہی جانے والی متنازع اداکارہ کنگنا رناوت ’قومی زبان‘ کے تنازع میں اجے دیوگن کی حمایت میں بول پڑیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کنگنا رناوت نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ اجے دیوگن کی ہندی زبان پر بحث غلط نہیں ہے، آئین کے مطابق یہی ہماری قومی زبان ہے۔

وہ ہندی قومی زبان کی بحث میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے دو قدم آگے بڑھ گئیں اور کہا کہ ’ہندی کے بجائے سنسکرت کو قومی زبان ماننا چاہیے‘۔

بالی ووڈ کوئین نے ان خیالات کا اظہار اپنی نئی فلم ’دھاکڈ‘ کے ٹریلر اجراء کے موقع پر کیا، ایونٹ میں ان سے فلم، انڈسٹری اور دیگر بحثوں سے متعلق کئی سوالات پوچھے گئے۔

حال ہی میں اجے دیوگن اور کنڑا اداکار کچا سدیپ کی’ہندی قومی زبان ہے یا نہیں؟‘ کی سوشل میڈیا وار نے طوفان کھڑا کردیا، جس کے بعد کئی سیاستدان بھی اس بحث کا حصہ بن گئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کنگنا رناوت نے فلم کے ٹریلر سے متعلق ایونٹ میں ہندی اور انگریزی زبانوں سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ انہیں اپنی زبان پر بہت ہی فخر ہوتا ہے۔

کنگنا رناوت نے مزید کہا کہ نوآبادیاتی تاریخ چاہے کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہو، خوش قسمتی یا بدقسمتی سے انگریزی وہ کڑی بن گئی، جس پر آج بھی ملک کے اندر بات ہوتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں اب ہندی، سنسکرت یا تامل میں سے کسی کے متعلق فیصلہ کرنا ہوگا، جو زبان ملک کو جوڑے، ہمیں وہی فیصلہ کرنا چاہیے۔

بالی ووڈ کوئین نے بات آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ آئین کی رو سے ہندی ہی قومی زبان ہے، اسی لیے اجے دیوگن نے اسے قومی زبان کہا تو وہ غلط نہیں تھے، میں تو کہوں گی کہ سنسکرت کو قومی زبان ہونا چاہیے۔

انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہندی، جرمنی، انگریزی، فرانسیسی جیسی بڑی زبانیں بھی سنسکرت سے پیدا ہوئی ہیں، پوچھتی ہوں یہ اسکولوں میں لازمی کیوں نہیں ہے۔

کنگنا رناوت نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ بھارت کے اسکولوں میں انگریزی یا ہندی زبان استعمال ہوتی ہے یا نہیں، سرکاری ریا ستیں سرکاری مقاصد کے لیے الگ الگ زبانیں استعمال کرتی ہیں۔

لفظی جنگ کچا سُدیت کے اس بیان سے لگی کہ ’ہندی کبھی بھی مرکزی زبان نہیں رہی‘، جس کے بعد اجے دیوگن آگے آئے اور کہا کہ ہندی تو قومی زبان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button