ColumnHabib Ullah Qamar

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب .. حبیب اللہ قمر

حبیب اللہ قمر

وزیراعظم شہباز شریف ان دنوں سعودی عرب کے دورہ پر ہیں اور ان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے خصوصی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ برادر ملک پہنچنے پر گورنر مدینہ فیصل بن سلمان آل سعودکی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیاگیا۔وفد میںوفاقی وزراء بلاول بھٹو، مریم اورنگ زیب، خواجہ محمد آصف، چوہدری سالک حسین، شاہ زین بگٹی، خالد مقبول صدیقی، سابق فاٹا کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑو یگر شامل ہیں۔ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ وزیراعظم شہبازشریف کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی نومنتخب حکومت آتی ہے تو پاکستانی حکام کی طرف سے سب سے پہلے برادر ملک کا ہی دورہ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یقیناً دونوں ملکوں کے مابین تاریخی،برادرانہ اورقابل فخر تعلقات ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ کے دوران دونوں ملکوں کی قیادت میں زبردست گرمجوشی دیکھنے میں آئی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ کے دوران سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کاچھ سے آٹھ ارب ڈالر کا بڑا ریلیف پیکیج ملنے کی امید ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیکیج کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے کے لیے انتہائی کم شرح سودپر3 ارب ڈالرمل سکتے ہیں۔ ادھار تیل، ایل این جی اور یوریا کھاد کی سہولت بھی میسر ہوسکتی ہے اورسعودی عرب کی گارنٹی پر سعودی بینکوں سے سستے قرضوں کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔اسی طرح کہا گیا ہے کہ پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ ساتھ کرونا کے دوران بے روزگار ہونے والے پاکستانیوں کی نوکری بحالی کے امور پر بھی بات ہوسکتی ہے جبکہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری بڑھانے، پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورہ کے دوران سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری جیسے تعلقات کو فروغ دینے سمیت سعودی عرب میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی آمد پر سعودی عرب کی طرف سے جس امداد کا اعلان متوقع ہے اس پر پہلے سے ہوم ورک جاری تھااور متعلقہ حکام وزیر اعظم کے دورہ سے قبل ہی سعودی حکام سے رابطے میں تھے تاکہ امدادی پیکیج کے حوالے سے حتمی بات چیت کی جاسکے۔ سعودی عرب کی طرف سے امداد کا اعلان پاکستان کی تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کے لیے تازہ ہوا کاجھونکا ثابت ہوگا۔نامور معاشی ماہرین کی جانب سے امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں بتدریج کمی آسکتی ہے۔پاکستانی روپے کی مسلسل بے قدری نے ملکی معیشت کو شدید نقصانات سے دوچار کیاہے۔اس وقت جتنی مہنگائی ہو چکی ہے ، اس پر ہر شہری پریشان ہے اور عام آدمی کے لیے گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ آٹا، چاول، گھی، چینی اور دالوں سمیت اشیائے ضروریہ بہت زیادہ مہنگی ہو چکیں ،ڈیزل کی قلت ہے اور بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے، یعنی مہنگائی کا یہ جن دن بدن بے قابو ہوتا جارہا ہے جس پر پاکستانیوں کا پریشان اورتشویش میں مبتلا ہونافطری عمل ہے۔ ایسے مشکل ترین حالات میں سعودی عرب کی جانب سے امدادی پیکیج کا وعدہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہو گا ، خاص طور پر جب پوری دنیا میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور کرونا وبا کے سبب برادر ملک کو بھی پریشانیوں کا سامنا ہے، اس کے باوجودان کا یہ اعلان کرنا پاکستان سے بے لوث دوستی اور محبت کا واضح ثبوت ہے۔
سعودی عرب کی طرف سے سٹیٹ بینک میں اربوں ڈالر جمع کروانا پاکستان کے لیے قرض نہیں ہے بلکہ یہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر کرنے کے لیے ہے تاکہ پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قیمت کو سہارا دیا جاسکے ۔گزشتہ دور حکومت میں تین مرتبہ محسن ملک سعودی عرب نے پاکستان کی امداد کا اعلان کیا، جب سابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالا اور ملک ڈیفالٹ کی حدوں کو چھورہا تھاتواس وقت بھی برادر ملک نے آگے بڑھ کر پاکستان کی مدد کی اورتین ارب ڈالر امداد دے کر وطن عزیز کو مشکل صورت حال سے نکالا تھاجب کہ اس کے بعد بھی دو ارب ڈالر کی امداد دی گئی جس میں سے ایک ارب ڈالر واپس کر دیا گیا اور باقی رقم ابھی تک پاکستان کے ڈیپازٹ میں جمع ہے۔ اس وقت آئی ایم ایف کی جانب سے بھی پاکستان کو قرض فراہمی کے لیے کڑی شرائط رکھی گئی ہیں اور حکومت کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ مختلف شعبوں میں دی گئی سبسڈی ختم کرے اور قیمتوں کے ریٹ اور زیادہ بڑھائے ۔آئی ایم ایف کی جانب سے اس نوعیت کے مطالبات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارے بین الاقوامی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور پاکستان کو جان بوجھ کر معاشی ابتری کی صورت حال سے دوچار کرنے کے لیے یہ سارا ڈرامہ رچایا جارہا ہے۔ آئی ایم ایف جیسے ادارے یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں روپے کی قدر مستحکم ہوکیوں کہ وہ پاکستان کو پھلتا پھولتا اور غیر ملکی قوتوں کے کلچ سے نکلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کی کوشش ہے کہ وطن عزیز کو اپنا دست نگر بنا کر رکھا جائے تاکہ نہ تو یہاں معیشت بہتر ہو اور نہ عوام کے لیے آسانی کا کوئی راستہ پیدا ہوسکے۔ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں کی پابندیاں بھی انہی سازشوں کا حصہ ہیں۔ حکمرا ن اگر پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں سے جان چھڑانا ہو گی۔ اسی طرح فیٹف جیسے اداروں کی پابندیوں کو بھی جوتے کی نوک پر رکھنے کی ضرورت ہے۔اہل اقتدار جب تک اس معاملے میں جرأت مندانہ رویہ اختیار نہیں کریں گے یہ مسائل کسی صورت حال نہیں ہوں گے۔
سعودی عرب کی امدادسے کسی حد تک معیشت میں بہتری آئے گی لیکن ملکی ترقی کے لیے مستقل بنیادوں پر جاندار پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور نیا امدادی پیکیج بھی پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی کوششوں کا مظہر ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دوستانہ تعلقات کی تاریخ ستر برس سے زائد عرصہ پر محیط ہے اور برادر ملک ان اولین ملکوں میں سے ہے جنہوں نے پاکستان کی خودمختاری اور اس کی سرحدوں کو تسلیم کیا۔ہماری ملکی تاریخ میں کوئی ایسا موقع نہیں جب سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا نہ ہوا ہو۔ نامور تجزیہ نگار درست کہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یکساں مذہبی، ثقافتی اور تاریخی اقدار پر استوار، گہرے برادرانہ مراسم ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیاہے اور آنے والے وقت میں بھی ان شاء اللہ دونوں ملک ایک دوسرے کے دست و بازوبن کر رہیں گے۔ آخر میں وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکام کے مسجد نبوی پہنچنے پر پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کا ذکر بھی یہاں ضروری سمجھتا ہوں۔پاکستانی وفد کے اراکین جب مسجد نبوی پہنچے تو بعض پاکستانیوں کی جانب سے چور، چور کے نعرے بلند کیے گئے ۔
اس دوران بعض لوگوں نے وفد کے اراکین کا پیچھا کیا اور مسلسل نعرے لگاتے رہے۔ حقیقت ہے کہ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مسجد نبوی میں اس طرح کے نعرے لگانے اور حرمین کے تقدس کو پامال کرنے کی کسی طور اجازت نہیں دی جاسکتی۔سیاسی پارٹیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے کارکنان کی اس حوالے سے تربیت کریں تاکہ آئندہ سے اس قسم کے غیر اخلاقی واقعات سے بچا جاسکے۔ مسجد نبوی جیسے مقدس مقام پر اس طرح کی نعرے بازی سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے بھی اس کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اورواقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے بڑے پیمانے پر جرمانے اور سزائیں سنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علماء کرام کا یہ کہنا درست ہے کہ مسجد نبوی میں احتجاج کی صورت میں حرم شریف کی جس طرح پامالی کی گئی ہے یہ اسلام میں بالکل جائز نہیں ۔ سعودی عرب میں عام لوگوں کی جانب سے بھی اس عمل کو انتہائی ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ سبھی سیاسی پارٹیاں مسجد نبوی میں پیش آنے والے اس واقعہ کا نوٹس لیں گی اور اپنے کارکنان کواس انتہا تک جانے سے روکا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button