CM RizwanColumn

عدلیہ پر بے جا تنقید؟ … سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

پاکستان کی تاریخ میں معزز عدالتوں نے ایسے بہت سے فیصلے کیے ہیں جن کے ملک کی سیاسی اور جمہوری تاریخ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ قانونی ماہرین کے نزدیک پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اچھے اور برے دونوں طرح کے فیصلے موجود ہیں لیکن ماضی میں سیاسی اور جمہوری نظام کو تقویت دینے والے فیصلوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ان میں کئی فیصلے ایسے بھی ہیں، جن کو ابتدائی طور پر ایک عام اور معمول کے فیصلے کے طور پر دیکھا گیا لیکن بعد میں انہیں عدلیہ کی غلطیوں سے تعبیر کیا گیا۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے کہ ماضی میں عدالتیں درمیانی راستہ اپناتے ہوئے سب کو خوش رکھنے والے فیصلے سناتی رہی ہیں جس کی وجہ سے ملک میں قانون کی حکمرانی کا تقدس مجروح ہوتا رہا لیکن حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے قومی اسمبلی میں تحریک اعتماد کے حوالے سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو مسترد کیے جانے کا جو فیصلہ سامنے آیا ہے وہ اپنی نوعیت کا اہم اور منفرد فیصلہ ہے، جس کے ملک کے جمہوری اور سیاسی مستقبل پر بہت اچھے اور مثبت اثرات رونما ہوئے ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں بھی ہوں گے۔ اس فیصلے سے قبل عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے واضح طور پر سب کو سن کر سختی کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق پارلیمنٹ کی آئینی اور قانونی حیثیت کو مقدم رکھنے کا اصول تسلیم کروایا۔ بلا مبالغہ اس فیصلے کی وجہ سے ملک میں جاری آئینی بحران کا خاتمہ ہو گیا ہے، نظریہ ضرورت جسے ماضی میں وکلا تحریک میں انتہائی کاری ضرب لگی ،نہ صرف اس کا ازالہ ہوا بلکہ اس فیصلے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں قانون اور اصول کی بالادستی کے لیے سرگرم متعدد سٹیک ہولڈرز کی موجودگی میں اب آئین اور قانون سے انحراف پر مبنی فیصلے کرنا آسان نہیں رہا ہے اور آئندہ بھی ایسی قابل صد ستائش روایات کا اعادہ ہوتا رہے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر بہت زیادہ اثر انداز ہونے والا تاریخ کا پہلا اور اہم فیصلہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے سپیکر مولوی تمیز الدین کے کیس میں سامنے آیا۔ جب فیڈرل کورٹ کے جسٹس منیر کی سربراہی میں بننے والے بینچ نے نظریہ ضرورت کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کی طرف سے قومی اسمبلی کی تحلیل کے فیصلے کی توثیق کی ۔ کئی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ نظریہ ضرورت پر مبنی اس فیصلے نے مستقبل میں کئی آمروں کے لیے سیاسی مداخلت کی راہیں کھول دی تھیں اور عمر کے آخری دنوں میں جسٹس منیر بھی اس پر افسوس کا اظہار کیا کرتے تھے۔

کئی قانونی ماہرین ڈوسو کیس کے فیصلے کو بھی ملک کے سیاسی اور جمہوری مستقبل کے حوالے سے اہم سمجھتے ہیں۔ اس کیس کے ذریعے ایوب خان کے مارشل لا کے نفاذ اور اس کے نتیجے میں ایک منتخب حکومت کے خاتمے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس منیر نے اس مقدمے میں سکندر مرزا اور ایوب خان کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو دوبارہ ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت درست قرار دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بھی بعد میں ہونے والے غیر جمہوری اقدامات کو آئینی جواز مہیا کرنے کا باعث بنا۔ اسی طرح جونیجو حکومت کی برطرفی کے کیس کا فیصلہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔جنرل ضیاالحق کی طرف سے توڑی جانے والی جونیجو حکومت کو بحال تو کر دیا گیا تھا لیکن کہاگیا کہ چونکہ اب الیکشن کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں اس لیے اب نئے انتخابات کی طرف جایا جائے۔پاکستان کی عدالتی تاریخ میں
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا مقدمہ بھی ایک اہم اور یاد رکھا جانے والا مقدمہ ہے۔ یہ درست ہے کہ بھٹو کو پھانسی کی سزا والے فیصلے نے بھی پاکستان کی سیاست پر بہت اہم اثرات مرتب کیے لیکن یہ کوئی آئینی مقدمہ نہیں بلکہ کرمنل کیس تھا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس فیصلے کے بہت برسوں بعد قانونی ماہرین نے بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو عدالتی قتل قرار دیااور یہاں تک کہ جسٹس نسیم حسن شاہ نے اپنی کتاب میں تسلیم کر لیا تھا کہ یہ فیصلہ کرنے کے لیے ان پر بہت زیادہ دباؤ تھا، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ملک کے سارے اہم مقدمات سیاسی و جمہوری حلقوں کے خلاف ہی تھے۔ 1988 میں محترمہ بینظیر بھٹو کے اس مقدمے کا فیصلہ بھی بہت اہم ہے، جس میں شدید دباؤ کے باوجود سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملی تھی۔ اس کیس میں عدالت نے ملک میں انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اسی طرح سابق آرمی چیف اوربعدازاں چیف ایگزیکٹو آف پاکستان پرویز مشرف کو موت کی سزا اور قبل ازیں عدلیہ اور فوج کے ٹکراؤ جیسے معاملات بھی ملکی تاریخ کے کوئی قابل فخر واقعات نہیں لیکن ان سب سے ایک ہی سبق اخذ ہوتا ہے کہ ریاستیں اور ملک غلطیوں اور غلط آئینی وقانونی تجربات سے ہی سیکھ کرمعقولیت اور تہذیب کی منزل کی طرف گامزن رہتے ہیں۔
بعض قانونی ماہرین جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کے فیصلے کو بھی بہت اہم قرار دیتے ہیں جس میں ایک خصوصی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی آمر کو آئین شکنی کے الزام میں ایسی سزا سنائی گئی ۔ بہت سے قانونی ماہرین جسٹس ارشاد حسن خان کی طرف سے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کے حق میں سنائے جانے والے فیصلے، افتخار محمد چودھری کی طرف سے ججوں کی برطرفی کے خلاف سنائے جانے والے فیصلے، پانامہ سکینڈل کیس میں ملک کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو ہٹایا جانااور وزیراعظم بھٹو کی حکومت کے خلاف بیگم نصرت بھٹو کو ریلیف نہ مل سکنے اور نوے کی دہائی میں 58 ٹو بی کے ذریعے حکومتوں کی برطرفی پر آنے والے فیصلے بھی سیاسی اور جمہوری اعتبار سے دور رس اثرات کے حامل قرار دیتے ہیں۔سابق صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کو گھر بھیجا تو اس فیصلے کے خلاف عدالت نے نواز شریف کی حکومت بحال تو کر دی لیکن پھر مقتدر حلقوں کی مداخلت پر دونوں کو گھر جانا پڑا ۔ بعض ماہرین کے نزدیک ان فیصلوں میں دیگر قوتوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کے تازہ فیصلے سے ایک واضح اور زور دار پیغام سامنے آیا ہے کہ کوئی سپیکر یا ڈپٹی سپیکر بھی اپنے وسیع تر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو مفلوج نہیں کر سکتا۔ یہ پیغام بھی گیا ہے کہ اگر کسی نے غیر آئینی طریقے سے جمہوری نظام کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کی تو اس کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ ملکی آئینی اور جمہوری تاریخ میں یہ ایک اچھی پیش رفت ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں کئی اچھے فیصلوں کے آنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ یقینی طور پر اسی طرح کے فیصلوں سے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول بنے گا جس میں غیر جمہوری رویوں کے سہولت کار بننے کی ماضی کے سٹیک ہولڈرز کی روش کا خاتمہ ہو گا۔
دنیا کی ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی عدالت کے ہر فیصلے کو سو فیصد پسندیدگی کبھی بھی نصیب نہیں ہوتی نہ ہوئی ہے اور نہ ہوگی لیکن ’’شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے‘‘کے مصداق کسی بھی عدالتی فیصلے کو پسند یا ناپسند کرنے والے بالآخر اپنے آپ کو سچ یا جھوٹ میں سے کسی ایک پلڑے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ پورا ملک جانتا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے کو التوا کا شکار کرتے ہوئے جس روز ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اپنی جماعت کے سربراہ وزیر اعظم کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کو محض ایک مفروضہ پر مبنی الزام کی بنیاد پر سبوتاژ کرنے کی غیر آئینی کوشش کی تھی تو ملک بھر کے آئینی اور قانونی حلقے سکتے میں آگئے تھے اور دوست دشمن سبھی انگشت بدنداں تھے کہ بھلا ایک سپیکر اپنے وسیع تر اختیارات کو اس طرح بھی خود اپنی ہی رولنگ سے ایسے روند سکتا ہے۔ جب تمام آئینی اور قانونی ماہرین سکتے میں آگئے اور جمہوری روایات کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والی ملک کے سب سے بڑی اور مقدس عدالت کے واضح احکامات کو اس طرح پس پشت ڈال کر پارلیمانی روایات کا جنازہ نکالا گیا تو یقیناً عدالت رات کو بارہ بجے کھلنا اور قانون کو اپنا راستہ لینا ہی تھا۔ اس پر خوش کن اور جمہوریت کے لیے امید افزاء امر یہ کہ فوجی قیادت نے بھی انتہائی انصاف پسندی اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس تاریخی طور پر مبنی بر حقائق فیصلہ کے نفاذ کے لیے مثبت کردار ادا کیا اور ملک ایک بحران سے بچ گیا۔ اس ساری صورتحال پر تنقید اور ناپسندیدگی کا اظہار کرنے والے بعض سوشل میڈیا پر واویلا کرنے والے عاقبت نااندیش پھر بھی باز نہ آئے اور رات بارہ بجے عدالت کھلنے کی توصیف کرنے کی بجائے تنقید کررہے ہیں تو یہ سراسر زیادتی ہے۔ اپنی قابل درستگی تاریخ کو اگر موجودہ عدالتی حکام نے درست اور قانون کی حکمرانی کی جانب سفر پر گامزن کیا ہے تو اس کو محض پارٹی وابستگی یا ذاتی اور گروہی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کی نذر نہیں کرنا چاہیے بلکہ اعلیٰ عدلیہ کی توصیف کرنی چاہیے کہ نظریہ ضرورت کے سابقہ پرتعفن اصول کو دفن کردیا گیا ہے۔ ایسے میں عدلیہ پر خوامخواہ کی تنقید ہمیں کوئی مہذب اور شائستہ قوم ثابت نہیں کررہی۔ ہمیں عدلیہ پر رات بارہ بجے عدالت کھولنے پر ہر گز اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی سوشل میڈیا ٹرینڈ کا شکار ہو کر اس پر طنز کررہا ہے تو وہ ملک کے آئینی مستقبل سے کھلواڑ کررہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button