ColumnRoshan Lal

اعتزاز احسن سے ملاقات …. روشن لعل

روشن لعل

اعتزاز احسن سے ایک خاص واسطہ یہ ہے کہ راقم نے ووٹ ڈالنے کی عمر تک پہنچنے کے بعد 1988 کے عام انتخابات میں اپنی زندگی کا پہلا ووٹ ان کے حق میں استعمال کیا تھا۔ سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اعتزاز احسن کے حلقہ نیابت کا رہائشی ہونے کی وجہ سے کئی مرتبہ انہیں انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا مگر کبھی کوئی موقع ان سے براہ راست گفتگوکاسبب نہیں بن سکا۔ گزشتہ دنوں ممتاز شاہ صاحب نے یہ سبب پیدا کر دیا۔ روزنامہ مشرق (کوئٹہ )کے چیف ایگزیکٹو ممتازاحمد سید (المعروف ممتاز شاہ)کا شمار اعتزاز احسن سے دیرینہ تعلق رکھنے والے سینئر صحافیوںمیں ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں ممتاز شاہ صاحب نے فون پرکہا کہ اعتزاز احسن نے اپنے فارم ہائوس پر کچھ صحافیوں سے ملاقات کا اہتمام کیا ہے، اگر میں جانا چاہتا ہوں تو ان کے ساتھ چلوں، وہاں اعتزاز احسن سے پوچھیں گے کہ وہ ملکی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔یہ فون سن کر فوراً ذہن میں خیال آیا کہ شاید اعتزاز احسن نے شاہ صاحب جیسے کچھ سینئر صحافیوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا ہوگا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے کچھ بالکے بھی ساتھ لے آئیں اور شاید شاہ جی اپنے  بالکے کی حیثیت سے مجھے وہاں لے جانا چاہتے ہیں۔ ایک تو شاہ صاحب کے احترام کی وجہ سے انہیں انکار کرنا ممکن نہیںتھا  اور دوسرا  میں نے یہ سوچ کر ان کی دعوت قبول کر لی کہ ہو سکتاہے اعتزاز احسن جیسے سینئر سیاستدان سے ملکی سیاست کے حوالے سے ابھی تک منظر عام پر نہ آنے والی کچھ باتیں سننے کو مل جائیں۔
خیر شاہ صاحب کے حکم کے مطابق میں طے شدہ وقت پر ان کے گھر پہنچ گیا جہاں سے ہم نے ایک ساتھ اعتزاز احسن کے فارم ہائوس پر جانا تھا۔ شاہ صاحب کے گھر جاکر یہ علم ہوا کہ ان کے ساتھ ان کے بالکوں کی کسی لمبی چوڑی ٹیم نے نہیں بلکہ صرف ان کے بیٹےسید علی ممتاز ایڈووکیٹ،روزنامہ آواز کے ایڈیٹر خالد فاروقی صاحب اور راقم نے جانا ہے۔ شاہ صاحب کی قیادت میں اس مختصر سی ٹیم کے ساتھ جب ہم اعتزاز احسن کے فارم ہائوس پہنچے تو یہ انکشاف ہوا کہ وہاں ہم چاروں کے علاوہ صرف دو مزید لوگ مدعو ہیں جن میں سے ایک معروف لکھاری اور سماجی شخصیت فرخ سہیل گوئندی اور دوسرے کوئی سینئر صحافی ہیں۔
مذکورہ سینئر صحافی اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے وہاں نہ پہنچ سکے لہٰذا آئندہ تین گھنٹے تک صرف
ہم پانچ مہمان، اپنے میزبان اعتزاز احسن کے ساتھ ملکی سیاست کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے گفتگو کرتے رہے۔
اعتزاز احسن نے کھانے اور پینے کے جن لوازمات کے ساتھ ہم پانچ مہمانوں کی تواضع کی وہ ایک پرتکلف اہتمام تھا۔ کھانے ، پینے کے دوران جاری رہنے والی گفتگو کے شروع میں ہی ممتازشاہ صاحب نے اعتزاز احسن کے سامنے یہ سوال رکھ دیا کہ ان کی نظر میں ہمارے ملک کی سیاست کا مستقبل کیا ہے۔ اعتزاز احسن نے اس سوال کاانتہائی مختصر اور  بہت دلچسپ جواب دیا۔ اعتزاز صاحب نے جو کچھ کہا اسے یہاں ضرور بیان کیا جائے گا مگر اس سے پہلے یہ اقرار ضروری ہے کہ تمام تر گفتگو کے دوران ان کا رویہ انتہائی جمہوری رہا ۔ اعتزاز احسن کے پائے کے لوگوں سے براہ راست گفتگو کے سابقہ اکثر تجربات کے برعکس وہاں یہ دیکھنے کو ملا کہ کسی بھی موقع پر انہوں نے ہیڈ ماسٹر بننے یا دیگر شرکا پر اپنی رائے تھوپنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ بے نظیر بھٹو شہید کے دست راست رہ چکے اعتزاز احسن کے ساتھ گفتگو کے دوران راقم کو ان کے پیپلز پارٹی سے حالیہ تعلق کے حوالے سے اندازہ لگانے کے علاوہ یہ جاننے کا بھی موقع ملا کہ کس احساس کے تحت انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا۔
گفتگو میں شریک لوگوں میں سے جب ایک صاحب
نے سوشل میڈیا پر بیان کیا گیا اپنا یہ موقف پیش کیا کہ آئندہ دور پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ صرف تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کی سیاست کا دور ہوگا تو ان کی اس بات سے اعتزاز احسن سمیت کسی نے بھی اتفاق نہ کیا ۔ وہاں سب کی کم و بیش یہی رائے تھی کہ صرف حالیہ سیاسی طلاطم کو مد نظر رکھ کر ملک کے سیاسی مستقبل کے متعلق کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی۔ وہاں یہ بات بھی ہوئی کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہونے کے بعد ان کے حامی ملک کے مختلف شہروں میں برجستہ اور اپنے طور پر سڑکوں پر نکل آئے لیکن یہ برجستگی اس بے ساختگی کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے جس کی مثال 1977 میںبھٹو کے چاہنے والوں نے اس وقت قائم کی تھی جب ضیا مارشل لا کے دوران بھٹو ضمانت پر رہائی کے بعد لاہور ایئرپورٹ پر آئے تھے۔
پیپلز پارٹی کے تاریک سیاسی مستقبل کی پیشگوئی کرنے والے صاحب نے اپنے موقف کے حق میں پیپلز پارٹی کا اپنی اساس یعنی محنت کش طبقے اور ان کے مسائل سے دوری کو جواز بنا کر پیش کیا۔ اس موقف کے جواب میں راقم نے سب کے سامنے یہ بات رکھی کہ محنت کے شعبہ میں رونما ہو چکی ریڈیکل تبدیلیوں کو مد نظر رکھے بغیر کسی بھی سیاسی جماعت کے محنت کشوں کے نزدیک یا دور ہونے کے متعلق کوئی رائے قائم نہیں کی جانی چاہیے۔ وہاں راقم نے گزشتہ دنوں وفات پانے والے ایک مزدور لیڈر طارق لطیف کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس مزدور رہنما طارق لطیف کی وفات بڑی مشکل سے ایک چھوٹی سی خبر بن سکی وہی طارق لطیف کسی دور میں اتنا بڑا مزدور لیڈر تھا کہ جب چاہے لاہور بند کرا سکتا تھا۔ مزدور رہنما ہونا مرتے دم تک طارق لطیف کی پہچان رہی مگر آخری دنوں میں محنت کش طبقہ میں چند لوگوں کے علاوہ اسے جاننے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ اعتزاز احسن، جو خاموشی سے اپنے مہمانوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سن رہے تھے وہ طارق لطیف کے نام پر یکایک گویا ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ سی این ایس میں ٹاپ کرنے کے باوجود جب انہوں نے سول سروس کو لات مار کر وکالت اور سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز طارق لطیف اور شہید مزدور لیڈر عبدالرحمٰن کے گروپ کے ساتھ مل کر کیا تھا ۔اس گروپ کیساتھ کام کرتے ہوئےپسماندہ بستیوں اور دیہاتوں میں جا کر اور محنت کشوں کے سٹڈی سرکل لے کر انہوں نے جو تجربات حاصل کیے ان سے بھی ہمیں آگاہ کیا۔
اعتزاز احسن کے پیپلز پارٹی سے حالیہ تعلق کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو میرا اندازہ یہ ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی کے اندر وہ اب بہت کم محسوس کیے جاتے ہیں مگر ان کے اپنے اندر اب بھی صرف اور صرف پیپلز پارٹی ہی ہے۔ تحریر کے آخر میں یہ بتانا ضروری ہے کہ ملک کے سیاسی مستقبل کے متعلق اعتزاز احسن نے مختصراً جو کچھ کہا اس کا لب لباب یہ ہے کہ ارتقائی روایات کے برعکس یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کوسامنے رکھ کر اس ملک کے سیاسی مستقبل کی نہیںبلکہ صرف سیاسی ماضی کی پیش گوئی جاسکتی ہے۔
 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button