ColumnNasir Naqvi

سیاسی فروش گاہ ….. ناصر نقوی

ناصر نقوی
لوگوں کا خیال ہے کہ ہم سیاسی بحران سے سپریم کورٹ کی مدد سے بچ نکلے ہیں لیکن حقیقت میں ابھی بھی آئینی بحران موجود ہے،سابق وزیر اعظم نے اپنا ایک اہم وعدہ اقتدار چھوڑتے ہی پورا کر دیا ہے  کہ وہ باہر نکل کر اور زیادہ خطرناک ہوجائیں گے اور  حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ وہ خطر ناک ہوچکے ہیں پاکستان ہی نہیں ، دنیا بھر میں پی ٹی آئی کے کارکن اور حامی سڑکوں پر ہیں لندن میں نواز شریف کی رہائش کے باہر بھی ہنگامہ آرائی موجود ہے اور ردعمل میں جمائما خان کے گھر کے باہر بھی تماشا لگ گیا ہے۔ دنیا بھر سے یوتھیوں نے احتجاج کر کے اپنے قائد عمران خان کا سوال دہرایا ہے کہ رات کے بارہ بجے عدالت کیوں لگی؟سوال کا جواب تو سپریم کورٹ نے خود دے دیا ہے لیکن میری جانب سے صرف یہ عرض ہے کہ بارہ بجکر پانچ منٹ پر لگنے والی نہ عدالت لگی اور نہ ہی ججز نے کوئی فیصلہ ایسا دیا جو کسی کے حق یا خلاف ہو۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب منتخب ارکان پارلیمنٹ، سپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر سمیت وزیر اعظم قانون اور آئین کو بالائے طاق رکھ کر من مرضی کرنے لگیں تو پھر آئینی تشریح کرنے والی عدالت عظمیٰ کی نیند تو اڑے گی اور جب عدالتی دروازے کھلنے کے ردعمل میں سات دن کا محدود پروسس مکمل ہوا عدالت کے دروازے بھی بند ہو گئے اور پارلیمنٹ موقعے کی نزاکت کا اندازہ لگاتے ہو ئے اگلی صبح تک چلتی رہی ، ماشااللہ ہماری پارلیمنٹ تو دن دھاڑے نہیں چلتی ، بار بار کورم ٹوٹتا اور بنتا رہتا ہے ، اہم ترین اجلاس ملتوی بھی کر دیئے جاتے ہیں لیکن یہ تمام تر انہونی حالات کی نزاکت کے باعث ہوئی اگر اس قسم کا ایکشن نہ ہوتا تو پارلیمنٹ کی لڑائی میں بیچ بچاؤ کے فارمولے پر تیسری قوت کی مداخلت کا دروازہ کھل سکتا تھا۔
عدالت آئین کی پاسداری کے مطابق سات روزہ محدود مدت اور اپنے فیصلے پر توہین عدالت سے بچانے آئی تھی اور یہ کام عدالتی دروازے کھلنے اور قیدیوں کی وین بھیجنے سے ہی ہو گیا پھر بھی اگر کسی کو سمجھ نہیں آئی تو اس کے لیے صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اس سنجیدہ موضوع پر ایک غیر سنجیدہ بات بھی سن لیں شاید اتر جائے تیرے دل میں میری بات ۔ مذاق ہی مذاق میں ۔۔۔
اداکار سلطان راہی ایک فلم میں آدھی رات کو
عدالتی دیوار پھلانگتے پکڑا گیا ۔ اس سے اس حرکت کی وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگا میں انصاف لینے آیا ہوں، اسے جواب دیا گیا کہ عدالت تو دن کے وقت لگتی ہے۔
سلطان راہی نے اس وقت ایک تاریخی جملہ کہا واہ۔ ظلم 24 گھنٹے تے انصاف صرف دن نوں ؟ اے کتھے دا قانون اے؟
لیکن سنجیدہ بات یہی ہے کہ عدالت عظمیٰ اپنی بات منوانے آئی تھی اگر غیر آئینی سلسلہ ہٹ دھرمی سے جاری رہتا تو قانون اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا ، تاخیری حربے کرنے والے سپیکر قومی اسمبلی کو جونہی معاملات بگڑتے نظر آئے انہوں نے عمران خان کے کندھے پر رکھ کر استعفیٰ فائر کر کے جان بچالی ورنہ توہین عدالت پر گرفتاری ہو جاتی دراصل جب کبھی سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے ، سیاسی فروش گاہ بھی سج جاتی ہے ،مال ودولت اور سنہرے خوابوں سے خریدو فروخت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے،
کچھ بکتے ہیں کچھ جھکائے جاتے ہیں اور جو ان دونوں کیٹگری میں نہیں آتے انھیں طاقت ور گروپ اغوا کر کے حبس بے جا میں رکھ لیتا ہے۔ پہلے عوامی دور میں جب اپنے پرائے ہوئے تو انہیں دلائی کیمپ میں
پہنچا کر تاریخی تماشہ رچایا گیا پھر ایک اور دور آیا تو صرف برتری حاصل کرنے کے لیے اپنے پرائے اکٹھا کرکے انہیں چھانگا مانگا لے جایا گیا لیکن اس مرتبہ حکومتی باغیوں کو لاہور کے نجی ہو ٹلوں میں سہولتیں فراہم کر کے کام نکالا گیا ۔جس کا نقصان یہ ہوا کہ منحرف ارکان کی جان کھانے کے لیے لاہوری یوتھئے ہوٹل کے باہر پہنچ گئے، اگر پولیس کی بھاری نفری کوئی تاخیری حربہ استعمال کرتے تو اچھا بھلا دنگا فساد وہاں بھی دیکھنے کو ملتا لیکن مقامی انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہونے دیا۔
خطرناک عمران خان پشاور کراچی کے بعد لاہور میں بھی پاور شو کر چکے اب ان کا بیانیہ ہے کہ غلامی یا آزادی، وہ دعویدار ہیں کہ انہوںنے ایک غیور پاکستانی بن کر امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اڈے دینے سے انکار کیا، راستے دو ہی تھے، غلامی یا آزادی میں غلامی اختیار کر کے اپنے بزرگوں اور شہدا ئے وطن سے غداری نہیں کر سکتا تھا لہٰذایبلسوٹلی  ناٹ کا نعرہ لگایا جو امریکہ بہادر کو پسند نہ آیا اور اس  اس نے سازش کر کے اپنے غلاموں کی سہولت کے ذریعے میری حکومت ختم کرادی جبکہ ان کے وزیر باتدبیر فواد چودھری کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات خراب ہو گئے تھے، ٹھیک کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی ورنہ حکومت میں ہوتے، جب ان سے پوچھا گیا کہ تعلقات کب سے خراب تھے، تو مسکراتے ہوئے بولے وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ۔
حالانکہ بطور وزیر اطلاعات وہ کہا کرتے تھے کہ سب اچھا ہے، اپوزیشن جھوٹ بولتی ہے اور آخری لمحات میں جب سیاسی فروش گاہ میں میلے کا سما تھا اس وقت بھی ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ان کی تجویز پر آرٹیکل پانچ کا ڈنڈا مار کر سب تہس نہس کر دیا اور حکمت عملی کے تحت وزیر اعظم نے قوم سے فوراً خطاب میں اسمبلیاں بھی توڑنے کی صدر سے درخواست کر دی اور صدر صاحب نے بھی فوری حکم فرما دیا، ایسا لگا سب کچھ پہلے سے لکھ رکھا تھا انہیں نہیں معلوم تھا کہ عدالت عظمیٰ اس ساری کارروائی کو کالعدم بھی قرار دے سکتی ہے اور پھر وہی ہوا ، دوسری طرف فرزند پنڈی ڈیوٹی فل شیخ رشید احمد کی بڑھکیں تھیں ۔ انہوں نے بھی ہوا میں تیر چلا کر عمران خان کو پیروں پر کھڑے رہنے کا مشورہ دیا ۔ وزیر داخلہ کی حیثیت  سے حضرت نے یہ پھلجھڑی بھی چھوڑ ی کہ اگر اپوزیشن نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو اسے دس سال انتظار کرنا پڑے گا لیکن جونہی کھیل ختم ہوا تو ایسے عمرے کی ادائیگی کے لیے چلے گئے جیسے وہاں شکرانے کے نفل ادا کرنے ہوں کہ اے اللہ ۔ میں نے اپنی ڈیوٹی انجام دے دی ، تو نے مجھے کامیاب کیا میں شکر گزار ہوں ۔
قائد تبدیلی نیا پاکستان ریاست مدینہ خان اعظم بین الاقوامی سازش کا خط لہرا کر اقتدار سے نکلے اور پھر سازش کی مداخلت کی بحث چل نکلی ،چودھری صاحب نے تو اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کا بھانڈا پھوڑ کر عالمی سازش بے نقاب کردی جبکہ خان اعظم کے پرانے ساتھی حامد خان اور دیگر اقتدار کیلئے عوامی طاقت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے سہارا اور مدد لینے پر ناراض ہوئے تھے یعنی ان کا موقف تھا کہ اقتدار میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ سے آیا جائے ورنہ کچھ نیا نہیں ہوسکے گا لیکن خان صاحب آج جس اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بول رہے ہیں ان ہی کے پالتو گھوڑے پر سوار ہو کر ایوان اقتدار پہنچے اور اب اسی گھوڑے کی دولتی کھا کر تخت سے نیچے آگرے ہیں اسی طرح پہلے ان کا بیانیہ تھا کہ صدر ٹرمپ میرے دوست ہیں خوب گزری جب مل بیٹھے دیوانے دو اب ہوشمند بائیڈن نے ٹرمپ کی یاری میں گھاس نہیں ڈالی تو امریکہ سامراج ہو گیا گذشتہ سات دہائیوں میں وہ تمام حکمرانوں کا یار رہا،البتہ تعلقات آمرانہ دور میں زیادہ اچھے رہے اسی لیے پاکستانی عوام امریکہ کو پسند نہیں کرتے لیکن اس کی حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں  پاکستان پر امن ملک ہے اس کی پالیسی ہمیشہ سے برابری کی سطح پر رہی کوئی پالیسی کی تبدیلی میں کچھ بھی کہہ سکتا ہے پھر بھی یہ بات سچی ہے کہ صدر ٹرمپ تک عمران خان کی حکمت عملی بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح دوستانہ ہی تھی ایسا لگتا ہے کہ جو بائیڈن کے نولفٹ کے بورڈ نے عمران خاں کو چکر اکر رکھ دیا ورنہ  ان کے تو شہباز گل جیسے امشیران بھی امریکی تھے۔
خان اعظم کو اقتدار کا چسکا لگ گیا ہے اس لیے اب پہلو بدل بدل کر اقتدار کی بھول بھلیوں میں راستہ ڈھونڈ نے کی جستجو میں سر دھن رہے ہیں اپنے خلاف امریکہ کی سازش کا شورو غوغا کرنے کے بعد امریکی اہلکاروں سے بنی گالہ میں ملاقاتیں ہو رہی ہیں پھر بھی قوم کو جذباتی کرنے کے لیے غلامی یا آزادی کا نعرہ لگایا گیااور تبدیلی سرکار کے حمایتی اندھی تقلید میں لگ گئے ہیں یک طرفہ ٹریفک چل رہی ہے شاید یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے جب تک خان اعظم پکڑے نہیں جاتے اس لیے کہ تحریک انصاف میں خان صاحب نے کسی دوسری  شخصیت کو پر کشش بننے ہی نہیں  دیا یعنی شخصی آمریت، اس سلسلے میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی خاصی امیر نظر آتی ہیں متحدہ اپوزیشن کی حکمرانی میں افواہوں کا بازار بھی گرم رکھنے کی کوشش جاری ہے اور سوشل میڈیا بھی مختلف ناراضگیوں کو ہوا دے رہا ہے اب نیا بیانیہ یہ سامنے آیا ہے کہ 34 رکنی وفاقی کابینہ  میں 33 شخصیات ضمانت پر ہیں اور 34 ویں وزیر بحثیت وکیل ضمانت کرانے والے ہیں دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ یہ الزام تحریک انصاف لگا رہی ہے جس کے وزیر اعظم عمران خان،صدر عارف علوی اور شاہ محمود قریشی،  پرویز خٹک،  شفقت محمود، اسد عمر جیسے اہم وزراء بھی مختلف مقدمات میں ضمانت پر ہی تھے۔ ان حقیقتوں کے برعکس سیاسی فروش گاہ میں ابھی مذید اہم لوگوں کی قیمتیں لگنا باقی ہیں کیونکہ جلد نہ سہی بادیر الیکشن تو ہونا ہی ہے لہٰذا ایک مرتبہ پھر منتخب ہونے کی صلاحیت رکھنے والوں کی بولی نظریہ ضرورت کے تحت لگے گی وہی نظریہ ضرورت جسے عدالت عظمیٰ نے دن رات ایک کر کے دفن کیا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button