تازہ ترینخبریںفن اور فنکار

مرد و خواتین میں تولیدی کمزوری باعث شرمندگی نہیں ہوتی

اداکارہ ہانیہ عامر کا کہنا ہے کہ مرد و خواتین میں تولیدی صحت کی کمزوری باعث شرمندگی نہیں مگر نہ جانے کیوں ہمارے معاشرے میں اسے عزت و نفس سے جوڑ دیا گیا ہے۔

اداکارہ نے ’انڈیپینڈنٹ اردو‘ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ عید الفطر پر ریلیز ہونے والی ان کی فلم ’پردے میں رہنے دو‘ مرد میں تولیدی کمزوری کے معاملے پر بنائی گئی ہے جسے سماج نے شرمندگی سے جوڑ رکھا ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں بہت سارے چیزوں کو غلط انداز میں معیوب اور باعث شرمندگی قرار دیا گیا ہے، حالانکہ وہ چیزیں شرمساری کا باعث نہیں ہوتیں۔

ہانیہ عامر کے مطابق اسی طرح مرد و خواتین میں تولیدی صحت کے مسائل یا کمزوری کو شرمندگی سے جوڑنا غلط ہے، کیوں کہ وہ مسئلہ باعث شرمندگی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی فلم ’پردے مین رہنے دو‘ معیوب سمجھے جانے والے مسئلے پر بنائی گئی ہے، تاکہ لوگ اس پر بات کریں اور سوچیں۔

دوران انٹرویو انہوں نے اپنے فلمی کیریئر پر بھی بات کی اور بتایا کہ وہ چند سال کے وقفے کے بعد بڑے پردے پر دکھائی دیں گی، جس کے لیے وہ بہت پرجوش ہیں۔

ہانیہ عامر کے مطابق فلم ’جانان‘ میں علی رحمٰن ان کے کزن برادر بنے تھے جب کہ ’پردے میں رہنے دو‘ میں وہ ان کے شوہر بنے ہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ علی رحمٰن ان کے دوست رہے ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے کے دوران انہیں بہت مزہ آیا۔

ایک سوال کے جواب میں ہانیہ عامر نے کہا کہ اگرچہ وہ ٹوئٹر پر زیادہ متحرک نہیں رہتیں، تاہم اس کے باوجود ان کا نام آئے دن وہاں ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا ہے، جس سے انہیں پریشانی بھی ہوتی ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ بھی ایک نارمل انسان ہیں، انہیں بھی مسائل ہوتے ہیں مگر ٹوئٹر پر اپنا نام ٹاپ ٹرینڈ میں آنے کے فوری بعد وہ دوستوں اور اہل خانہ کی مدد سے ذہنی پریشانی سے نکل آتی ہیں۔

انہوں نے شائقین کو گزارش کی کہ وہ عید الفطر پر سینماؤں میں جاکر فلمیں دیکھیں اور سینما انڈسٹری کی سپورٹ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button