Column

مداخلت اور سازش کا فرق …. روشن لعل

روشن لعل

آج کل یہاں ’’مداخلت‘‘ اور ’’سازش‘‘ جیسے لفظوں کو ایک دوسرے میں گڈ مڈ کر تے ہوئے اس خاص جہالت کو مزید پختہ کیا جارہا ہے جو خاص طور پر اس ملک کے نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک عرصہ پہلے سمودی گئی تھی۔ واضح رہے کہ مداخلت کے انگریزی زبان میںمعانی ’’Interference‘‘ اور’’Intervention‘‘ جبکہ سازش کا مطلب ’’Conspiracy‘‘ ہے ۔ راقم نے جس قدر ممکن تھا انگریزی ڈکشنریاں کھنگال لیں مگر کہیںبھی ’’Conspiracy‘‘ اور’’Interference‘‘ کو ہم معنی (synonym) نہیں پایا ۔ اسی طرح کسی اردو لغت سے یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ سازش اور مداخلت باہم مترادف لفظ ہیں۔ یہاں مداخلت اور سازش کے فرق سے متعلق جو چھوٹی سے تمہید باندھی گئی ہے اس کا پس منظر چند ہی دنوں میں گھس پٹ چکا وہ بیانیہ ہے جس میں عمران حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو امریکی سازش قرار دیا گیا تھا۔ اس بیانیے کو گھسا پٹا ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل پیش کرنے کی بجائے اب صرف کہنا ہی کافی ہے کہ جو لوگ کل تک ’’امریکی سازش‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے وہ اگر اب سازش ثابت کرنے کی بجائے محض لفظ ’’مداخلت‘‘ کو اپنے مقاصدکے لیے استعمال کرنے پر زور لگا رہے ہیں توصاف ظاہر ہے کہ وہ خود ہی سازش کے بیانیے سے منحرف ہو چکے ہیں۔

سازشی تھیوری کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹنے کے بعد اب امریکی سازش کے بیانیے پر مزید بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مگر لوگوں کو مزید گمراہی سے بچانے کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان سمیت اقوام متحدہ کے کسی بھی ملک میں جب کوئی بندہ حکمران بننے کے لیے سیاست کا آغاز کرتا ہے تو یہ بات طے ہوتی ہے کہ اسے اپنی ریاست کے معاملات میں امریکہ ہی نہیں بلکہ کچھ دوسرے ممالک کی مداخلت بھی برداشت کرنا پڑے گی۔ اس بات کی وضاحت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 27(3) کے تحت صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ سلامتی کونسل کے دیگر مستقل رکن روس، چین برطانیہ اور فرانس کو بھی ویٹو (vote)کا حق حاصل ہے ۔ اقوام متحدہ کی ہر رکن ریاست میں کوئی بندہ چاہے جس بھی طریقے سے حق حکمرانی حاصل کرے ، اسے سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے ویٹو کے حق کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ ویسے تو سلامتی کونسل کے مستقل اراکین میں مجموعی طور پرویٹو کا سب سے زیادہ استعمال امریکہ نے کیا مگر 1992 کے بعد روس اس حق کے استعمال میں امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے ۔
امریکہ نے نہ صرف ویٹو کا حق سب سے زیادہ بلکہ سب سے پہلے بھی استعمال کیا۔ امریکہ نے سویز نہر کے تنازعہ کے دوران 1956میں سب سے پہلے مصر کے خلاف یہ حق استعمال کیا تھا۔ امریکہ کی مصر کے معاملات میں یہ کھلی مداخلت تھی ، اس مداخلت کو خاص طور پر مسلم ممالک میں سخت ناپسند کیا گیا تھا مگر ناپسندیدگی کے باوجود کوئی بھی ملک اسے بے ضابطہ نہیں قرار نہیں دے سکا تھا۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں لیکن اس حوالے سے یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی ہر مداخلت منفی نتائج کی حامل ہوتی ہے ۔ پاکستان جیسے ممالک کا تو یہ حال ہے کہ کئی مواقع پر ان کے حکمران خود بڑی طاقتوں سے اپنے معاملات میں مداخلت کی درخواست کرتے پائے گئے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد جب دنیا میں تیزی سے نوآبادیوں کا خاتمہ شروع ہوا تو ا س کی بڑی وجہ عالمی معاملات میں امریکی مداخلت تھی۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد امریکہ ہی وہ ملک تھا جس نے یورپی نوآبادیوں کی آزادی کی آواز بلند کی ۔ تاریخ سے واجبی سے واقفیت کھنے والا کوئی بندہ آج اس بات سے انکار نہیں کرسکے گا کہ جب ہندوستان کی آزادی اور اس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام ممکن ہوا تو گو کہ اس کی بڑی وجہ داخلی جدوجہد ہی
تھی مگر اس آزادی کا ایک محرک امریکہ کا برطانیہ اور دیگر سامراجی ملکوں پر اپنی نوآبادیوں کو آزاد کرنے کا دبائو بھی تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکہ نے یورپی نوآبادیاںآزاد کرنے کے لیے جوبہتر کردار ادا کیا بعدازاں اس سے کہیں زیادہ برا کردار جدید نوآبادیاتی نظام قائم کرنے کے لیے اور آزاد ہونے والی نوآبادیوں کو اپنے شکنجے میں جکڑے رکھنے کے لیے ادا کیا۔ اس شکنجے کو مضبوط رکھنے کے لیے امریکہ جب چاہے اقوام متحدہ کے آرٹیکل27(3) کے تحت ملنے والا ویٹو کا حق کا استعمال کرکے دیگر ملکوں کے معاملات میں مداخلت کر جاتا ہے۔
امریکہ یا سلامتی کونسل کے دیگررکن ملک اگر دنیا کے دیگر ملکوں کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں تو ان کے پاس ایسی مداخلتوں کا جواز صرف ویٹو پاور ہی نہیں بلکہ ان ملکوں کے حکمرانوں کی اپنے معاملات میں مداخلت کی درخواستیں بھی ہوتی ہیں۔ اگر ہم اپنی بات کریں تو پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا حکمران گزرا ہو جس نے امریکہ سے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست نہ کی ہو۔ ایسی درخواستوں کو اپنے معاملات میں امریکی مداخلت کی دعوت کے علاوہ کیا کوئی دوسرا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کی درخواست کرنے کی آخری مثال عمران خان نے اس وقت قائم کی تھی جب انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ کا دورہ کیا تھا ۔ اس دورہ کے موقع پر عمران نے اپنی خوش فہمی کو پاکستانی عوام کے سامنے خوشخبری بنا کر یہ کہتے پیش کیا تھا کہ ٹرمپ اپنا کردار (مداخلت) ادا کرتے ہوئے بہت جلد مسئلہ کشمیر حل کرادے گا کیونکہ وہ  نریندر مودی کو اس مسئلے کے حل کے لیے آمادہ کر چکا ہے۔
یہاں کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ راقم نے سطور بالا میں جو کچھ بیان کیا  اس میں’’ Interference ‘‘اور’’ Intervention ‘ کو خلط ملط کردیا ہے۔ جو لوگ ایسا سوچ رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ پاکستان میں ایک خاص جماعت کے لوگوں کے علاوہ کسی میںاتنی ہمت نہیں کہ وہ مختلف لفظوں کو خلط ملط کر سکے ۔ اگرچہ انگریز ی کے مذکورہ دونوں لفظوںسے مرادمداخلت ہی لی جاتی ہے مگر ان دونوں میں یہ فرق ہے کہ اگر Interference کو کسی کے معاملات میں ’ ’بے جا مخل ‘‘ ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو Intervention کو ’’ بیچ بچائو‘‘ کے لیے کی گئی مداخلت کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ ’’Interference ‘‘ اور ’’Intervention ‘‘ کے اس فرق سے انکار ممکن نہیں مگر یاد رہے کہ جب امریکہ کو کوئی ’’مداخلت‘‘ کی دعوت دیتا ہے تو پھر یہ امریکہ کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ Intervention تک محدود رہے یا پھر کسی بھی حد تک Interference کر جائے۔
Conspiracy اور Interference  کے درمیان  فرق بیان کرنے سے شروع ہونے والی بات نہ جانے کہاں سے کہاںتک پہنچ گئی ۔ ہو سکتا ہے کہ مذکورہ باتوں سے کسی کی آگاہی کا کوئی سامان پیدا ہو جائے یا کوئی پہلے سے آگاہ انسان راقم کی اصلاح کردے ،مگر افسوس کہ گمراہی کے پیروکاروں سے ایسی کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button