Column

 امریکہ و بھارت کا پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ  …. حبیب اللہ قمر  

حبیب اللہ قمر
امریکہ اور بھارت نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے مبینہ ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ حال ہی میں بھارتی وزیرخارجہ ایس جے شنکر اور وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے امریکی ہم منصبوں سیکرٹری خارجہ انتونی بلنکن اور سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات کی، جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ بیان دونوں ملکوں کے درمیان ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کے ایک حصے کے طور پر جاری کیا گیا۔ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ یقینی بنائے کہ اس کے زیر انتظام کوئی علاقہ دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اسے فوری، پائیدار اور ٹھوس کارروائی کرنی چاہیے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت و امریکہ کے درمیان ہونے والے ٹو پلس ٹو مذاکرات کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف کیے گئے دعوے بدنیتی پر مبنی ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ۔ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے مشترکہ بیان میں پاکستان کے غیر ضروری تذکرے کو مسترد کرتے ہیں۔ اس اعلامیہ میں ختم کی جاچکی اور غیر موجود اکائیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کی دہشت گردی کے خلاف ترجیحات کا رخ نامناسب ہے۔
امریکی و بھارتی عہدیداران کا حالیہ بیان بلاشبہ نئی دہلی کو خوش کرنے کی کوشش ہے اور یہ ایسے موقع پر جاری کیا گیا ہے جب حال ہی میں پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم ہوئی ہے اور اس کا الزام بھی امریکہ پر ہی لگایا جارہا ہے کہ اس کی طرف سے دھمکی آمیز پیغام پران کی حکومت ختم کرنے کا یہ سارا کھیل کھیلا گیا ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دوہرا رویہ اختیار کیا ہے۔ وہ بظاہر تو پاکستان سے بہتر تعلقات کی باتیں کرتا ہے لیکن اس کا واضح جھکائو انڈیا کی جانب ہی رہا ہے اورپاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں میں بھارت سرکار کو امریکی آشیرباد حاصل رہی ہے۔ اس موقع پر بھی جب پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف نے ابھی اپنا عہدہ سنبھالا ہی ہے کہ بھارت و امریکہ کی طرف سے ڈومور کا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ بھارتی وزیر خارجہ ،وزیر دفاع اور بھارت کے اتحادی ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اور سکیورٹی مسائل پر مذاکرات کا ایک فارمیٹ ہے جس میں بھارت اپنے چاراسٹریٹجک شراکت داروں امریکہ، روس، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے۔
گیارہ اپریل کو مذاکرات سے قبل ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ورچوئل ملاقات بھی ہوئی جس کے بعد ٹو پلس ٹو مذاکرات کے بعد یہ مشترکہ بیان سامنے آیا ہے۔ دونوں ملکوںنے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی کی جانب سے ممنوعہ قرار دی گئی کشمیری تنظیموں حزب المجاہدین، لشکر طیبہ ، جیش محمد ودیگر کے خلاف ٹھوس کارروائی پرزور دیاہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہندوستانی ذمہ داران نے امریکی عہدیداروں سے ملاقات میںایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے مطابق تمام ممالک کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف بین الاقوامی معیارات کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیاہے۔حقیقت ہے کہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ ہوں یا ایف اے ٹی ایف کا فورم ، انڈیا نے پاکستان کے خلاف ہر سطح پر بھرپور سفارتی مہم شروع کر رکھی ہے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے دنیا کو گمراہ کیا جارہا ہے
۔دونوں ملکوں کے جاری کردہ حالیہ مشترکہ بیان میں ممبئی حملوں اور پٹھان کوٹ کی تو بات کی گئی ہے لیکن بالاکوٹ میں کی گئی ناکام کارروائی کا کہیںذکر نہیں کیا گیا جس سے امریکہ کی جانبداری کھل کر واضح ہو رہی ہے۔
دیکھا جائے تو بھارت نے پاکستان اور دیگر ملکوں میں دہشت گردی کو اپنی ریاستی پالیسی بنا رکھا ہے۔ وطن عزیزپاکستان میں عوامی مقامات پر دھماکے ہوں یا افواج پاکستان اور دیگر اداروں پر حملے ، سب میںبھارت سرکار اور اس کی ایجنسیاں ملوث رہی ہیں۔ امریکی ادارے فارن پالیسی، اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس سمیت مختلف ادارے یہ رپورٹیں شائع کر چکے ہیں کہ بھارت نے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے تحریک طالبان، جماعت الاحرار اور دوسری بعض تنظیموں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے اور یہ کہ انڈیا سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میںملوث ہے ۔ اسی طرح داعش اور بھارت کے گٹھ جوڑ سے متعلق بھی بہت کچھ لکھا جاتارہااور ابھی تک لکھا جارہا ہے۔ ایک بین الاقوامی جریدے نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ بھارت داعش کا مضبوط گڑھ بن چکا ہے اور انڈیا میں داعش کے ستاسی کیمپ قائم ہیں مگر ان ساری رپورٹوں اور ٹھوس ثبوت پیش کئے جانے کے باوجود امریکہ، اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ایف اے ٹی ایف نے بھارتی پروپیگنڈا پر مبنی معلومات کی بنیاد پر ہی پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال کر مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے لیکن دوسری جانب حالات یہ ہیں کہ امریکی وزارت خزانہ نے انڈیا کے چوالیس بنکوں کے منی لانڈرنگ میںملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت جاری کئے مگر بھارت کے حوالے سے فیٹف کی آنکھوںپرابھی تک پٹی بندھی ہوئی ہے۔جب بھارت کسی بھی دوسرے ملک کی طرح فیٹف قوانین کا پابندہے تو پھر اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ پاکستان میں مختلف تنظیموں کے خلاف پہلے یواین کی سلامتی کمیٹی 1267 کی قراردادکے تحت کارروائی کے لیے دبائو بڑھایا جاتا تھا اور اب ایف اے ٹی ایف کی بنیاد پر پابندیوں کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔
ایف اے ٹی ایف کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھی اس وقت صحیح معنوں میں انڈیااور امریکہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکا ہے۔اکتیس سال قبل1989ء میں جی سیون ملکوں کی طرف سے تشکیل دیے گئے اس ادارے کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات اور لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونے والی دولت کی نقل و حرکت مشکل بنانا تھا مگر صورتحال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔غیر قانونی سرمایہ اورلوٹ مار کے اربوں روپے ملک سے باہر لیجانے والے لوگ ساری دولت فیٹف کے رکن ملکوں کے بینکوں میںہی جمع کرواتے ہیں لیکن اس میں چونکہ ان کا اپنا فائدہ ہے اس لیے ملک کی معاشی بنیادیں کمزور کرنے والے ان سیاستدانوں،جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کو کالا دھن سفید کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس وہ مسلم تنظیمیں، ادارے اور شخصیات جو اسلام اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے رفاہی و فلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کے لیے ہر ممکن حد تک دبائو بڑھایا جاتا ہے۔پاکستان میں جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کا جرم اس کے علاوہ کیا ہے کہ انہوںنے ہمیشہ دکھی انسانیت کی خدمت کی اور کشمیر و فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر غاصب قوتوں کے مظالم اور دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کی ہے؟حافظ محمد سعید اور ان کی جماعت کے دیگر رہنما آج جیلوں میں کیوں قید ہیں؟ان کے اور ان کی تنظیم کے خلاف تو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کا کوئی الزام بھی ثابت نہیں ۔ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں انہیں واضح طور پربے گناہ قرار دے چکی ہیں اور صاف طور پر کہا گیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو جتنے بھی ڈوزیئر پیش کئے وہ محض ہندوستانی میڈیا کے پروپیگنڈا پر مبنی ہیں ۔پاکستان کی اعلیٰ عدالتوںنے ہر مرتبہ ان کے حق میں فیصلے دیے لیکن اس کے باوجود آئے دن بیرونی طاقتوں کی طرف سے یہ حکم نامہ بھیج دیا جاتا ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی ان تنظیموں کے ذمہ داران کو سزائیں سنائی جائیں۔ حکومت پاکستان نے بیرونی مطالبات پر ہی محب وطن تنظیموں کے سینکڑوں تعلیمی ادارے، مدارس، ایمبولینسیں، ہسپتال ، ڈسپنسریاں اور دیگر ادارے اپنے قبضہ میں لے کر کروڑوں روپے مالیت سے چلنے والے سب رفاہی و فلاحی منصوبہ جات مکمل طور پر ختم کر دیے ہیں لیکن بیرونی قوتوںکے مطالبات بڑھتے جارہے ہیں اور اب ایک مرتبہ پھر انہی تنظیموں اور شخصیات کے خلاف مزید کارروائی کا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نو منتخب پاکستانی حکومت بھارتی و امریکی دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جرأتمندانہ رویہ کا مظاہرہ کرے اور امریکی عہدیداران سے واضح طور پر کہہ دیا جائے کہ وہ ملکی مفادات کے خلاف بھارت و امریکہ کے کسی مطالبہ کو تسلیم کرنے کے پابند نہیں۔ کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا پاکستان کی ریاستی پالیسی ہے اور اس جرم میں پاکستان کی تنظیموں اور شخصیات کے خلاف مزید اقداما ت نہیں اٹھائے جاسکتے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ موجودہ حکومت نے اگراس حوالے سے کسی قسم کی کوئی کمزوری دکھائی تو امریکہ و بھارت کی طرف سے بھی ڈومور کے مطالبات دن بدن بڑھتے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button