Column

جمہوریت کے چہرے پر برص …… قادر خان یوسف زئی

قیام پاکستان کے بعد آئین سازی ایسا مرحلہ تھا جو طویل عرصے تک متفقہ نہ بن سکا اور اس پر تجارب نے مقاصد ِپاکستان پر گہری ضرب لگائی ۔رائج آئین اپنی ظاہری شکل میں مملکت کی تمام سیاسی جماعتوں کا ایسا متفقہ آئین بننے کے باوجود مسلسل تختہ مشق بنا رہا ۔ آئین شکنوں نے قوانین کو روندنے کے لیے اپنے تئیںرخش ِ مشین پر اس انداز سے نکلے کہ نہ باگ پر ہاتھ تھا نہ رکاب پر پائوں ۔ وہ ایسا سرپٹ اطراف و اکناف میں پہنچا کہ تمام آئینی اقدار کو روندتا چلا گیا ۔ اس سے اختلاف نہیں کہ آئین پر مکمل طور پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے عوام ہی جبر و استبداد اور سلب و نہب کا بے دریغ نشانہ بنے۔ ایسی قوتیں مملکت پر مسلط ہوئی کہ ان کا استعمار ناقابل شکست نظر آتا ہے۔ ہر الیکشن میں بظاہر سیاسی جماعتوں نے کامیابیاں حاصل کیں لیکن ان کا خمیر آمریت کی مٹی سے اٹھایا گیا تھا ، اس لیے منتخب ہونے کے بعد بعض حکومتیں استعمار کی علامت کہلائی جانے لگیں ۔
جمہوریت میں پارلیمان نظام کو ختم کرنے کے لیے مختلف ادوار میں قیاس آرائیوں سے بڑھ کر کوشش کئے جانے سے کوئی بے خبر نہیں لیکن انہیں سیاسی پسپائی کا سامنا رہا اور اس کی بنیادی وجوہ میں بھی وہی استعماری قوت بلا شرکت غیر مالک ٹھہرا جس کی قوت فیصلہ کے آگے سیاسی طاقتیں سرنگوں اور ان کی قوت دھری کی دھری رہتی ہیں ۔ تبدیلی کے جن کو پوری طرح بے آبرو ہو کر نکلنا پڑا ۔ جب تبدیلی کا خناس نکلے گا تو ملک بھی بدلے گا اور دنیا بھی ، کیونکہ جس مقصد کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا ، آج تک اس اساس پر قدم ہی نہیں بڑھائے گئے، لہٰذا تبدیلی کا ہر مرحلہ کسی نہ کسی موڑ پر ناکام رہے گا ۔ نظریہ ضرورت کے فلسفے نے ہمیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایک سیدھے سوال کو اس قدر گمبھیر بنا دیا گیا کہ سوال ہی پر ابہام نے عوامی اضطراب کو بڑھادیا ہے۔ اجارہ داریوں کے خاتمے کے لیے ہر کوشش میں استعمار کا خناس اور بڑھا ہے ، بعض قوتیںاس مادر استعمار کے تن ِ بے جان میں جان رفتہ لانے کی دیوانہ وار کوشش کررہے تھے کہ تبدیلی کے سونامی کی تباہ کاریوں کو اپنامدمقابل بنتے دیکھا تو رخ کو پھر بدل لیا ، اب حالت یہ ہے کہ جیسے ملک کوئی دم میں کسی بین الاقوامی جنگاہ بن گیا ہو ، آئین کو گھسیٹ کر اس طرح روندا گیا کہ جیسے اداروں کی آبرو کا آئینہ پاش پاش کرکے ہی دم لے گا۔
کوئی دو رائے نہیں کہ قانون سازوں نے اُس طرح سنجیدگی کا مظاہرہ نہیںکیا جو ان کا فرض تھا ، ابہام و خامیوں نے ایسے مواقعوں کی حوصلہ افزائی کی کہ پائے استعمار کو لنگ نہ کرسکے اور اس دروازے پر جاپہنچے جو مقفل ہے اور نظریہ ضرورت کے دروازے پر حواری دیو ِ استعمار ناچے اور خوب خوب ناچے ، اتنا ناچے کہ ناچ ناچ کر پاگل ہوئے اور پاگل ہو ہو کے ناچے کہ بس ناچے ہی چلا جارہا ہے ، مخفی قوتوں نے فروعی مفادپرستی کی کھڑاویں پہنیں اور ماضی کے استعماری تجربوں کو نئی شکل میں لانے کے لیے سب کچھ سبو تاژ کیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے استعماری پیشرو وقت آنے پر بغل میں جوتے داب کر بھاگ جاتے ہیں اور کچھ لمحات کے لیے لگتا ہے کہ اپنی خود داری کی حیثیت پر قناعت کرکے ،بے منت آزادنہ طور پر قومی نشو و نما پر توجہ مرکوز کرکے عافیت اور مصلحت کا تقاضا سمجھا جائے گا ، زمینی حقائق کی بے پناہی کا اعتراف جب کیا گیا تو وہی اعتراف ، خرابی بسیار کے بعد استعمار کی دم سیدھی تو کیا کرتے ، لٹک کر دونوں ٹانگوں میں رہنے ضرور لگی ۔ فروعی مفادات نے پوری قوت سے پنجے گاڑ رکھے ہیں ، ہم میں استعماری قوت کا سامنا کرنے کی ہمت کی کمی ہے ۔ اس لیے میدان استعمار میں تنہائی مقدر بن جاتی ہے اور اس تنہائی سے ہر قسم کا محاذ سکڑنے کے بجائے اور پھیلتا جاتا ہے۔
آئینی اور غیر آئینی جنگ میں گہرائی اور گہرائی میں محاذ ، ناقابل تصور سرحدوں کو چھورہاہے ، مستقبل کا یہ تجزیہ اور تصور سر شام صبح درخشاں کی باتیں کرنے کے مترادف ہے لیکن جیسے یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ
صبح ہو کے رہے گی اسی طرح یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ابھی استعمار کی ساری رات درمیان ہے اور رات بھر تاریکی میں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہوگی تو کہیں جاکر اس کے سینہ نیزہ و تار سے نور کی کرن پھوٹنے کی آس پیدا ہوگی ، ہمیں سمجھنا ہوگا کہ موجودہ صورت حال سہ گونہ ہے ، خود سے بھی لڑا جارہا ہے اور دوسروں سے بھی ، یہ خارجی جنگ بھی ہے اور داخلی بھی ، زمینی اور خلائی تفریق کے بغیر ایسے حالات سے ہمارا سامنا ہونے کا خدشہ ہے کہ سیاسی سائنس کی تمام تر تباہ کاریوں کے اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ارباب ِ اختیار عوام کو اجنبی سمجھتے رہیں اور سیاسی اثر و روسوخ ، چالاکی اور دھاندلی سے ذرائع اختیار پر غاصبانہ قبضہ جماتے جائیں۔ عوام کو گوشہ محرومی اور قعر مذلت میں جھونک دیا گیا ، آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ عوام پر مزید عرصہ حیات تنگ کردیا جائے گا ، اُسے سانس بھی آزادی سے لینے کی اجازت نہ ہوگی ۔ ضروری ہے کہ سیاسی آزادی کو ناگزیر سمجھا جائے ، جو آئین ہے اس میں موجود خامیوں اور ابہام کو قانون ساز ہی دور کریں ، سیاست اور نظام کی موجودہ شکل پر جابرانہ تسلط کوکسی فروعی آئیڈلوجی یا نام نہاد حقیقت پسندی کانیا لبادہ پہنانے سے گریز کیا جائے ، فروعی مفاد پرستی کی بدترین شکل کو نظم سیاسی کے قالب میں ڈھال کر اپنے آپ کو آزاد ملک اور قوم کا درجہ دینے کے لیے توجہ مرکوز کرنا چاہیے، ایسا نہ کیا تو جمہوریت کے چہرے پر اس برص کے داغ کو پھیلنے کا موقع دینے میں غیر جمہوری قوتیں متفق اور کوشاں ہیں ۔ یہ خطہ ہمارے اسلاف نے امانت کے طور پر دیا تھا ، اس ملک کو کوئی بھی قوت مجبور نہ کرے کہ وہ امانت میں خیانت کرتے رہیں۔ بدقسمتی سے لاقانونیت اور غیر آئینی اقدامات کا برص بدستورپھیلتاجارہاہے ،سیاسی عدم استحکام سے معیشت پر مزید منفی اثرات نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں او ر لامحالہ اس کے نتائج سے عوام پر ہی کاری ضرب لگتی رہے گی ، کیونکہ سیاسی قوتیں غیر منظم اور غیر موثر ہوتی جار ہی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button