Column

آئینی حکمرانی یا نظریہ ضرورت ….. مظہر چوہدری

جدید جمہوری ریاست کے چار ستونوں مقننہ، انتظامیہ ، عدلیہ اور میڈیا میں عدلیہ کو اس لیے غیر معمولی حیثیت حاصل ہے کہ یہ ریاست کے دیگر تین ستونوں پر نگران ہوتی ہے۔ایک مغربی مفکر کے قول کے مطابق کسی ملک میں جمہوریت کو ماپنے کا پیمانہ عدلیہ ہے۔ کسی ملک میں عدلیہ جتنی آزاد ہوگی ، وہاں جمہوریت اتنی ہی کامیاب ہو گی۔ بادشاہت میں مقتدر اعلیٰ ہی خود سب سے بڑا جج ہوتا ہے جبکہ آمریت میں عدلیہ آمر کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے۔بادشاہت اور آمریت کے برعکس جمہوریت میں عدلیہ آزاد، بااختیار اور باوقار ہوتی ہے،جمہوری نظام میںعوامی حقوق،شخصی آزادیوں اور سماجی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عدلیہ کو مقننہ اور انتظامیہ کے کنٹرول سے آزاد رکھا جاتا ہے۔جمہوریت میں عوام کو ہر قسم کے دبائو سے آزاد رکھنا ضروری ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد اور خود مختار عدلیہ موجود ہو۔ برطانوی تاریخ دان اور مفکر لارڈ جیمز برائس کے مطابق کسی حکومت کی کارکردگی جاننے کے لیے عدالتی نظام کی کارکردگی کا مطالعہ کرلینا کافی ہے۔اگر عدلیہ کمزور ہو، کسی دبائو یا سیاسی مخاصمت کی وجہ سے غیر جانبدار نہ رہ سکے اوربلا امتیاز انصاف مہیا کرنے کے فرض اولین میں کامیاب نہ ہو سکے تو ملکی اقدار اور معاشرے کا نظم و ضبط تباہ ہو نے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے 120 ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں جمہوری نظام رائج ہے ۔پھر
جمہوری نظام کے اندر وحدانی اور وفاقی اطراز حکومت کی تقسیم ہے اور اس سے آگے پارلیمانی اور صدارتی نظام کی شکلیں ہیں۔وفاقی طرز حکومت میں آئین کی برتری مسلمہ ہونے کی وجہ سے عدلیہ مرکزی یا صوبائی مقننہ کے بنائے گئے کسی قانون کو آئین سے متصادم قرار دے کر مستردکر سکتی ہے لیکن وحدانی نظام میں عدلیہ کا قانون سازی میں مداخلت کرنا غیر جمہوری سمجھا جاتا ہے۔پاکستان ، امریکہ اور آسٹریلیاسمیت وفاقی اطراز حکومت والے ممالک میںقانون اور آئین کی تشریح ، دستور کے تحفظ اور عدالتی نظر ثانی جیسے اختیارات کے باعث عدلیہ کی آزادی و خودمختاری کی اہمیت و افادیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
جہاں تک پاکستان میں عدلیہ کے آزاد و خودمختار رہنے یا ہونے کا سوال ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی اور کسی حد تک حال میں ہماری عدلیہ آزادی
و خودمختاری سے تمام فیصلے نہیں کر سکیں۔مارشل لاء کی طویل تاریخ رکھنے والے ہمارے ملک میں فوجی حکومتوں کے دبائو اور پریشر میں آکر عدلیہ نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دیتی آئی ۔اس کے علاو ہ ماضی میں عدالتوں اور ججز پر سیاسی حکومتوں کا دبائو بھی رہا ہے تاہم 2009ء میں عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کے نتیجے میں عدلیہ پر اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایگزیکٹو کے اختیارات سنبھالنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ عدلیہ بحالی کا کریڈیٹ لینے والی نون لیگ اور اس کے مرکزی رہنماء پیپلزپارٹی کے منتخب وزیراعظم کو نااہل کرانے سمیت میمو گیٹ سکینڈل میں پیش پیش رہے ۔اس کے علاوہ جلد بحال نہ کرنے کی مخاصمت کی وجہ سے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی عدلیہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی پی پی حکومت کے خلاف سرگرم رہی۔سابق دور حکومت میں پہلے دھاندلی ایشو اور بعد ازاں پاناما کیس کی صورت میں عمرا ن خان کی تحریک انصاف عدلیہ پر نون لیگ کی حکومت اور اس کے مرکزی رہنمائوں کے خلاف کارروائی کرنے پر دبائو ڈالتی رہی۔تجزیہ نگاروں کے ایک گروہ کے مطابق مقتدر حلقوں کے دبائو پرعدالت نے نوازشریف اور اس کے خاندان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیاجبکہ ایک دوسرے گروہ کے مطابق عدالتوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ
شریف خاندان کے دبائو کے آگے جھکنے سے انکار کرکے عدلیہ کی آزادی و خودمختاری کی جانب ایک بڑا قدم بڑھایا ہے۔اعلیٰ عدلیہ میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کے پیچھے کسی غیر مرئی طاقت کا دبائوہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو تاریخ ہی کرے گی تاہم یہ حقیقت ہے کہ ماتحت عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک ہمارے ججز مقتدر حلقوں، سیاسی جماعتوں اور بااثر طبقات کے دبائو کو یکسر مسترد نہیں کر سکے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت رول آف لاء انڈیکس میں پاکستانی عدلیہ کانچلے نمبروں (126) پر موجود رہنا ہے۔
ان دنوںتحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے آئینی یا غیر آئینی قرار پانے کے حوالے سے عدلیہ کی آزادی و خود مختاری زیر بحث ہے اور ماہرین کے مطابق اگر عدالتی فیصلہ دو ٹوک حکومت کے حق میں ہوا تو پھراپوزیشن کے خلاف آرٹیکل 5کی وجہ سے غداری کا مقدمہ درج ہو سکتا ہے لیکن اگر عدالت ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکومت کے خلاف فیصلہ سناتی ہے تو پھر عمران خان کے ساتھ ساتھ کئی’’بڑے‘‘بھی زیر عتاب آ سکتے ہیں۔تجزیہ نگاروں کے مختلف گروہ تاریخی اہمیت کے حامل اس کیس کا نتیجہ اپنی اپنی خواہشوں کے مطابق کرانے کے لیے پر تول رہے ہیں ۔ کچھ تجزیہ نگار محض اس وجہ سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر قانونی قرار دینے کے حق میں نہیں کہ ایسے فیصلے سے فوری انتخابات کی بجائے ملک غیر معینہ عرصے تک غیر یقینی صورت حال کا شکار رہ سکتا ہے۔ایسے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تحلیل شدہ اسمبلی بحال ہونے کی صورت میں نئے سرے سے اجلاس بلانے، عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے اور اس کے بعد نیا قائد ایوان منتخب کرانے میںایک تو کافی وقت لگ جائے گا اور دوسرا نئی حکومت ڈانواں ڈول معاشی صورت حال اور دیگر مسائل سے صحیح طرح نمٹ نہیں سکے گی کہ 2023کے عام انتخابات کا طبل بج جائے گا۔اس کے مقابلے میں ایسے تجزیہ کاروں کی بھی کمی نہیں جو ملکی تاریخ کے اس اہم ترین کیس میں ماضی کی طرح نظریہ ضرورت یا سیاسی مصلحتوں کے تحت گول مول اور درمیانہ فیصلے کی بجائے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button