Column

ایک قومی ہیرو سے معذرت …… روشن لعل

جس قومی ہیرو کا یہاں ذکر ہونے جارہا ہے ، راقم نے اس سے ایک نہیں بلکہ دو معذرتیں کرنی ہیں۔ پہلی معذرت کے اظہار کے لیے کیونکہ تفصیلی بیان درکار ہے اس لیے اس کا ذکر بعد میں کیا جائے گا جبکہ دوسری معذرت کے لیے صرف یہی کہنا کافی ہے کہ اس کی ضرورت پہلی معذرت کرنے میں دیر کی وجہ سے پیش آئی۔ جس طرح دوسری معذرت کے لیے تحریر کو وسیلہ بنایا گیا ہے اسی طرح پہلی معذرت کا تذکرہ بھی کسی تحریر میں بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا مگر یہ کام ملک کے سیاسی حالات میں آئے روز رونما ہونے والی نت نئی تبدیلیوں پر لکھنے کی وجہ سے بروقت نہ ہو سکا۔ نت نئی تبدیلیاں جب ہمیشہ کی طرح پلیٹ فارم پر کھڑی ایسی ٹرین ثابت ہوئیں جسے انجن لگانے کی بجائے صرف بوگیاں تبدیل کرنے پر اکتفا کیا جارہا ہے تو یہ دیکھتے ہوئے پھر یہی سوچا کہ جو جامد منظر باربار دکھایا جارہا ہے اسے تو کسی وقت بھی قلمبند کیا جاسکتا ہے مگر ماضی کے جو خوبصورت مناظر ذہنوں سے محو ہوتے جارہے ہیں کیوں نہ ان کی یادوں کو ترو تازہ رکھنی کی سعی کی جائے۔
جس زندہ سلامت قومی ہیروکو یاد کرنے کے لیے یہ تمہید باندھی گئی ہے اس کی اعلیٰ کارکردگی کی یادیں میرے اپنے ذہن سے تو کبھی محو نہیں ہوسکتیں مگر افسوس کہ میری اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹی اور اس کی عمر کے کئی نوجوانوں کو یا تو اس قومی ہیرو کے متعلق کچھ علم نہیں یا وہ بہت کم جانتے ہیں۔ تاسف اس بات پر بھی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک مجھے یہ احساس ہی نہیں ہو سکا کہ میرے بچے جنہیں دنیا جہاں کی اہم شخصیات، واقعات اور مقامات سے متعلق آگاہی کا زعم ہے ان کی معلومات پاکستان کے لیے خدمات سرانجام دینے والے ہیروز کے بارے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس تاسف کا پس منظر یہ ہے کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بطور ایگزیکٹو کام کرنے والی میری انجینئر بیٹی جب چھٹیاں گزارنے گھر واپس آئی تو ائیر پورٹ پر ملتے ہی اس نے سب سے پہلے ایک شخص کا نام لے کر پوچھا کہ کیا میں اسے جانتا ہوں۔ میرا جواب تھا کہ اس شخص کو پاکستان میں کون نہیں جانتا ہوگا۔ اس پر بیٹی نے اپنے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اور کیا، دو گھنٹے پہلے تک تو اسے بھی اس شخص کے متعلق کچھ علم نہیں تھا۔ تفصیل پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ہوائی جہاز میں اسے جو سیٹ ملی وہ اس پر بے نیازی سے بیٹھ گئی مگر چند سیکنڈ بعد اسے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ بیٹھا شخص وہاں موجود اکثر مسافروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وہ شخص ہر اس مسافرکے لیے اپنے چہرے پر سجی مستقل مسکراہٹ کے ساتھ تشکر ظاہر کر رہا تھا جو اپنا سر خم کر کے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے اس کے قریب سے گزر رہا تھا۔ بیٹی کا کہنا تھا کہ بعض مسافروں نے تو اس بندے کی عزیزہ تصور کرتے ہوئے اپنی عقیدت کے کچھ پھول اس پر بھی نچھاور کر دیئے۔ جہاز کے ٹیک آف سے پہلے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بیٹی کے مطابق سیٹ بیلٹ باندھنے کے بعد اس نے جب ساتھ بیٹھے شخص سے یہ احمقانہ سوال کیا کہ وہ کون ہے اور کیوں سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے تو اس نے بڑی مشکل سے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کر ڈالا کہ کیا آپ واقعی میں مجھے نہیں جانتی …سوری کی اضافت کے ساتھ…نہ جاننے کا اقرار سن کر… اس بندے نے میری بیٹی کی طرف دیکھے بغیر کہا کہ چاہے آپ مجھے نہیں جانتی ہو مگر آپ کے والدین مجھے ضرور جانتے ہوں گے… میں ایک زمانے میں پاکستان کی طرف سے ہاکی کھیلتا رہا ہوں… اپنے والدین کو پوچھئے گا کہ کیا وہ کسی ’’حسن سردار‘‘ کو جانتے ہیں ۔
اپنی بیٹی سے یہ سب کچھ سننے کے بعد مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں حسن سردار کے متعلق اس کی لاعلمی پرکیا رد عمل ظاہر کروں۔ اس وقت بے اختیار میں میرے منہ سے یہ نکلا کہ پاکستان کے حسن سردار کا کبھی عالمی ہاکی میں وہی مقام ہوا کرتا تھا جو آج کل فٹ بال کی دنیا میںارجنٹینا کے لیونل میسی کا ہے ۔ لیونل میسی تو اپنے ملک کو عالمی سطح پر کوئی اعزاز نہیں دلوا سکا مگر حسن سردار نے اپنی اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے بمبئی ہاکی ورلڈ کپ، دہلی ایشین گیمز اور لاس اینجلس اولمپکس ہاکی میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل حاصل کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا ۔یہ سب کچھ کہنے کے بعد میں نے سوچا کہ حسن سردار اگر ابھی تک مسافر لائونج سے باہر نہیں نکلے تو مجھے ان سے اپنی بیٹی کی لاعلمی پرمعذرت کر نے کے لیے ان کا انتظار کرنا چاہیے۔
کافی
دیر انتظار کے بعد بھی جب حسن سردار مسافر لائونج س
باہر نکلتے نظر نہ آئے تو ائیر پورٹ کے عملہ نے پوچھنے پر بتایا کہ وہ وہاں سے جا چکے ہیں۔ حسن سردار کے ائیر پورٹ سے باہر نکل جانے کا سن کر ذہن میں فوراً یہ خیال آیاکہ ان سے متعلق اپنے احساسات کے اظہار کا واحد طریقہ یہ ہے کہ نہ صرف اپنے کالم کے ذریعے ان سے معذرت کی جائے بلکہ میری بیٹی جیسے جو نوجوان ان کے بارے میں نہیں جانتے انہیں بتایاجائے کہ پاکستان آج کل ہاکی کے جن عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے ترستارہ جاتا ہے حسن سردار کی وجہ سے ہماری ٹیم بارہا ان مقابلوںکے وکٹری سٹینڈ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
پاکستان 1982 کے بمبئی میں منعقدہ جس ورلڈ ہاکی کپ ٹورنامنٹ کا فاتح بنا ،حسن سردار اس ٹورنا منٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے ۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے مخالف ملکوںکی ٹیموں کے خلاف 31گول کیے جن میں سے11 گول حسن سردار کے تھے۔ اسی برس پاکستان نے دہلی میں منعقدہ ایشین گیمز کے ہاکی ایونٹ میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ ایشین گیمز کے ہاکی ایونٹ کا اہم ترین میچ ٹورنامنٹ کا فائنل تھا۔اس فائنل میچ میں انڈیا ، پاکستان کے مد مقابل تھا۔ اس میچ میں پاکستان ہاکی ٹیم نے انڈین تماشائیوں کے سامنے انڈیا کو ایک کے مقابلے میں سات گول سے شکست دی تھی ۔ ان سات گولوں میں حسن سردار کی ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی۔ اسی طرح1984کی اولمپک گیمز کے ہاکی ایونٹ میں پاکستان کے گولڈ میڈل حاصل کرنے میں حسن سردار کی کارکردگی یہ رہی کہ انہوں صفر ، صفر سے برابر رہ جانے والے پاک ، برٹش میچ کے علاوہ پاکستان کی مد مقابل ہر ٹیم کے خلاف گول کیے تھے۔
یہاں حسن سردار کی کارکردگی کوسراہتے اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بار بار ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ حسن سردار جیسے قومی ہیرو ز کے نام اگر نوجوانوں کے ذہنوں پر نقش نہیں ہو سکے تو کیا یہ صرف ان نوجوانوں کا قصور ہے یا اس میں میڈیا اور اداروںکی کوتاہی بھی شامل ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک طرف تو حسن سردار جیسے قومی ہیروز کو یہاں آسانی سے فراموش کر دیا جاتا ہے مگر دوسری طرف محض سیاسی مقاصد کے تحت کچھ لوگوں کو ضرورت سے بھی زیادہ ہیرو بنانے کی کوششیں دیکھنے میں آتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button