تازہ ترینخبریںصحتصحت و سائنس

کیا دوپہر میں بچوں کا سونا ان کی صحت کیلئے مفید ہے یا نہیں؟

دوپہر کی نیند صرف بالغ افراد کی ذہنی صحت کے لیے مفید نہیں بلکہ بچوں کے لیے بھی وہ بہت فائدہ مند ہے۔

درحقیقت 5 سال تک کی عمر کے بچے اگر دوپہر کو کچھ وقت تک سونے کے عادی ہوتے ہیں تو یہ ان کے مطالعے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

بچوں میں نیند، یادداشت کی نشوونما اور پڑھنے کی صلاحیتوں کے درمیان تعلق پر زیادہ کام نہیں ہوا۔

مگر میکوائر یونیورسٹی کی تحقیق میں ابتدائی شواہد پیش کیے گئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیلولہ کرنا 5 سال کی عمر کے بچوں کے لیے الفاظ کے تلفظ کو سمجھنے کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے جو بعد ازاں مطالعے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اس تحقیق میں ایسے بچوں کو شامل کیا گیا تھا جن کی عمر ابھی اسکول جانے کی نہیں ہوئی تھی اور یہ دیکھا گیا کہ دوپہر کی نیند ان کی آواز کے تلفظ کو سیکھنے اور اسے شائع شدہ الفاظ کی شناخت کرنے میں کس حد تک مددگار ثابت ہوتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ کچھ دیر کے قیلولے سے بچوں کے لیے کسی نئے ٹاسک کی تفصیلات کو استعمال کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دریافت کیا کہ دوپہر کی نیند سے بچوں کی الفاظ کے تلفظ کو سمجھنے کے دماغی عمل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ اس علم کو نامانوس الفاظ کو پڑھنے کے لیے استعمال کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق میں 3 سے 5 سال کی عمر کے 32 بچوں کو شامل کیا گیا اور انہیں دوپہر کی نیند کو معمول بنانے میں مدد فراہم کی گئی۔

ہر بچے نے 2 سے 4 ہفتوں کے 7 سیشنز میں شرکت کی۔

محققین نے بتایا کہ اگر دوپہر کی نیند الفاظ کے تلفظ کو سمجھنے میں مفید ہے تو قیلولہ کرنے والے بچے سیکھنے کے ٹاسک اور نامانوس الفاظ کو پڑھنے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ چونکہ یہ تحقیق لیبارٹری کی بجائے ڈے کیئر سینٹر میں ہوئی تو وہ نیند کے مختلف اثرات کی جانچ پڑتال نہیں کرسکے۔

مستقبل میں مزید تحقیق میں اسی پر کام کیا جائے گا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل چائلڈ ڈویلپمنٹ میں شائع ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button