Column

ماسٹر سٹروک یا کیچ آئوٹ ۔۔۔۔۔۔ مبشر انور

مبشر انور

لمحوں میں کیا کایا پلٹ ہو گئی،کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کیسے عدم اعتماد کی تحریک کو ہی قومی اسمبلی کی کارروائی سے خارج کر دیا جائے گا۔اسمبلی کی کارروائی کو مد نظر رکھتے ہوئے، سب اراکین کا یہ خیال تھا کہ قومی اسمبلی میں ہونے والی واحد کارروائی ،عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی، جس کے لیے اپوزیشن اپنی بھرپور تیاری اور حامی اراکین کے ساتھ قومی اسمبلی میں موجود تھی۔ اسمبلی کی کارروائی شروع ہوتے ہی اراکین کی تعداد ،ٹی وی سکرینوں پر ظاہر ہورہی تھی،صاف نظر آ رہا تھا کہ عددی اعتبار سے اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہے ،177 کے مقابلے میں حکومت کے حامی اراکین کی تعداد 162دکھائی دے رہی تھی۔ ووٹنگ ہوتی تو واضح تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نہ صرف شکست سے دوچار ہوگی بلکہ اسے سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گالیکن ایک دن پہلے وزیر قانون بننے والے چودھری فواد حسین نے موقع ملتے ہی،جو تقریر کی،اس نے سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ ڈپٹی سپیکر نے وزیر قانون کے اٹھائے گئے نکات کو اہمیت دیتے ہوئے رولنگ دے دی کہ مجوزہ عدم اعتماد کی تحریک بیرون طاقتوں کے زیر اثر لائی گئی ہے اور آئین کے آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی ہے،لہٰذا وہ اس عدم اعتماد کی تحریک کو خارج کرتے ہیں۔

پارلیمانی نظام حکومت میں،بالعموم سپیکر کا عہدہ غیر جانبداری کا تقاضہ کرتا ہے، سارے ہاؤس کے نمائندگان اور ہاؤس کی تقدیس سپیکر کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور اس کے فیصلے یا رولنگز سے جانبداری کی بو نہیں آنی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ آئین کی بالا دستی کو یقینی بنانا بھی سپیکر کااولین فرض تصور ہوتا ہے۔ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے مجوزہ عدم اعتماد کی تحریک کو خارج کرنے کے بعد اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا،شروع میں تو اپوزیشن کو کچھ سمجھ ہی نہیں آئی لیکن بعد ازاں قاسم سوری کی اس رولنگ پر عدالت عظمی نے ازخود نوٹس لے لیااور اب معاملہ عدالت عظمیٰ میں ہے۔اسمبلی کے مخصوص طریقہ کار کو مد نظر رکھیں تو اصولاً ڈپٹی سپیکر کو عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کروانی چاہئے تھی لیکن دوسری طرف جو حقائق عمران خان اورچودھری فواد حسین نے بتائے،جو قرائن سے ثابت بھی ہوتے نظر آتے ہیں(تاہم ان کے مستند ہونے کے لیے کسی عدالت کی مہر تصدیق ضروری ہے)کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن کے خواب چکنا چور کر دئیے۔
اس بحث سے قطع نظر کہ ڈپٹی سپیکر کے پاس آرٹیکل پانچ پر رولنگ دینے کا اختیار ہے یا نہیں کہ معاملہ اس وقت عدالت میں ہے،عالمی طاقتوں کے حکومتیں گرانے یا بنانے کے کردار پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ کئی مواقع پر عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات کی خاطر کئی ممالک میں حکومتوں کا دھڑن تختہ کیا اور اپنی مرضی کی حکومتیں بنوائی ہیں۔یہ تو ابھی کل کی بات ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے دورہ یورپ سے واپسی پر روسی صدر پوتن اور ان کی حکومت کے متعلق کیا الفاظ کہے تھے،ترکی میں انتخابات کے موقع پر کیا ارشاد فرمایا تھا،مشرق وسطیٰ میں کیا گل کھلائے جارہے ہیں،عراق میں کیا کیا جا چکا ہے،عرب سپرنگ کے نام پر مصر میں کیا کیا گیا ہے،افغانستان میں ریاستی مفادات کے تحت کیسی بہیمانہ جنگی کارروائی کی گئی ہے۔پاکستان میں امریکہ کیوں خاموش رہے گا؟بالخصوص جب اس کے مفادات کی نگہبانی میں رکاوٹ اتر آئے،یہ امریکہ کو کسی صورت منظور نہیں ،وہ بھی سنگین صورتحال میں کہ ایک طرف روس یوکرین کو سبق سکھا رہا ہو اور دوسری طرف چین نے نہ صرف بھارت بلکہ تائیوان کے معاملے پر بھی امریکہ کا ناطقہ بند کر رکھا ہو ،تو پاکستانی سرکار کے خلاف بروئے کار آنے میں کوئی مضائقہ نہیں،اور ایسے کھیل میں اصول نام کی کوئی چیز امریکہ کے مدنظر نہیں رہتی۔ ریاستی مفادات کا حصول ہی اولین ترجیح قرار پاتا ہے اور اس کے لیے امریکہ کے ایک ہاتھ میں گاجر اور دوسرے میں چھری رہتی ہے،حالانکہ یہ بھی فقط محاورے کی حد تک ہی ہے کہ امریکہ کی دوستی ،دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے اور امریکہ دوست بن کر جو نقصان پہنچاتاہے وہ کھلی دشمنی میں بھی نہیں پہنچا پاتا۔ یہاں یہ امر برمحل ہے کہ امریکہ ایک تاجر کے روپ میں سامنے آتا ہے اور کسی بھی ملک کے ساتھ اس کی ڈیل کھلی ہوتی ہے بعینہ ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف ہو،اس کے بعد اس کی شرائط انتہائی واضح ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری اشرافیہ عوام میں امریکہ پر شدید تنقید کرتے نظر آتے ہیں لیکن پس پردہ ان کی رضامندی سے ہی امریکی تمام اقدامات کرتے ہیں۔سابقہ حکمرانوں کی اس منافقانہ پالیسی کو امریکی عہدیداروں نے بارہا آشکار کیا ہے اور موجودہ تحریک عدم اعتماد کو بھی بہرطور امریکی آشیرباد کا شاخسانہ ہی قرار دیا جارہا ہے کہ گذشتہ چند مہینوں سے بیرون ملک اس عدم اعتماد کا تانا بانا بنا گیا اور پھر گذشتہ مہینے میں اندرون ملک سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ ممبران قومی اسمبلی کے ساتھ سفارتخانہ کے آفیسران کی ملاقاتیں ،اس کی گواہی دے رہی ہیں کہ وہی ممبران اسمبلی جو امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں سے ملے ہیں،اس تحریک میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
چودھری فواد حسین کی نشاندہی پر ڈپٹی سپیکر نے گو کہ رولنگ تو دے دی ہے کہ موجودہ تحریک عدم اعتماد بیرونی مداخلت کا شاخسانہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس رولنگ سے ایک غلط فہمی سامنے آ رہی ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی اس رولنگ سے تحریک عدم اعتماد میں شامل ممبران کی وفاداری ریاست کے ساتھ نہیں رہی۔ میری دانست میں شک کا فائدہ ان ممبران کو دیا جا سکتا ہے البتہ سیاسی قائدین کی حیثیت بہرطور اس وقت تک مشکوک ہے کہ جب تک وہ اس سے بری الذمہ نہیں ہو جاتے یا حکومت ان کی وفاداری کے خلاف ٹھوس شواہد عدالتوں کو پیش کر کے انہیں مجرم قرار نہیں دلوا دیتی۔ بہرحال عمران خان سے چھٹکارے کا کھیل انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کہ فی الوقت اپوزیشن کی ساری مشق،فقط ایک رولنگ کے باعث ،کھٹائی میں جاتی نظر آ رہی ہے، الٹا اپوزیشن کو اپنی صفائی بھی ثابت کرنی نظر آ رہی ہے۔اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں اور قرین قیاس یہی ہے کہ اس ہنگام میں نئے انتخابات کا ڈول ڈالا جا سکتا ہے تا ہم اس کا فیصلہ بھی عدالت عظمیٰ ہی کرے گی لیکن اپوزیشن جو مقاصد لے کر حکومت پر حملہ آور ہوئی تھی ،ابھی تک اسے ناکامی کا سامنا ہے۔ نئے انتخابات کی صورت میں ،عبوری حکومت کا اعلان ہو گا،انتخابی اکھاڑے میں اترنے سے قبل جو تبدیلیاں اپوزیشن کرنے کا خواب دل میں سجائے بیٹھی تھی،ان سے محروم رہ جائے گی اور تحریک انصاف حکومت کی تبدیلیوں کے ساتھ ہی نئے انتخابات میں اترنا پڑے گا،جس سے غالب امکان یہی ہے کہ اپوزیشن واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہو گی اور عین ممکن ہے کہ عمران خان گذشتہ انتخابات کی نسبت زیادہ نشستیں جیت کر اسمبلی میں موجود ہوں۔ بصورت دیگر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ ماورائے آئین اقدام قرارد ے کر معاملات تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی طرف جائیں گے ،اس صورت میں عمران خان اسمبلی میں اعتماد سے محروم ہو جائیں گے اور اپوزیشن اپنے مقاصد کے حصول میں آزاد ہو گی۔اس صورت میں معاملات مزید سنگین ہو تے نظر آتے ہیں کہ تحریک انصاف کے حامی،جو اس وقت تک عمران خان کے سرپرائز پر واری صدقے جا رہے ہیں ، اپوزیشن کے اعلان کے مطابق،آرٹیکل چھ کا مقدمہ بھی درج کروا سکتے ہیں۔ کپتان کے آخری بال پر کھیلا گیا شاٹ ،ماسٹر سٹروک ثابت ہوتا ہے یا کیچ ہوتا ہے ،اس کا فیصلہ چند دنوں میں متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button