تازہ ترینتحریکخبریں

سپریم کورٹ نے 31 مارچ کی اسمبلی کارروائی کا ریکارڈ طلب کر لیا

سپریم کورٹ نے 31 مارچ کی اسمبلی کارروائی کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے، اور اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری کو ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اسپیکر رولنگ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کا آج دوسرا دن تھا، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے، پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے دلائل دیے، دلائل مکمل ہونے پر چیف جسٹس نے کہا آپ نے اچھے اور ٹو دی پوائنٹ دلائل دیے ہیں، ہمیں یہی توقع تھی۔

رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا آئین میں وزیر اعظم کو ہٹانے کا طریقہ کار درج ہے، وزیر اعظم استعفیٰ دے سکتے ہیں، اکثریت کھو دیں تو عدم اعتماد پر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے، جب قرارداد پارلیمنٹ میں آ جائے تو وزیر اعظم اسمبلیاں تحلیل نہیں کر سکتا۔

رضا ربانی نے کہا درپیش صورت حال میں وزیر اعظم اسمبلی نہیں توڑ سکتے تھے، عدالت ڈپلومیٹک کیبل کو طلب کرے، عدالت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے منٹس بھی طلب کر کے حقائق جانچے، اس طرح اسمبلی توڑنے کی کارروائی ابتدا سے ہی کالعدم ہے۔

رضا ربانی نے استدعا کی کہ عدالت اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دے، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے منٹس اور خط منگوایا جائے، عدالت اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دے کر اسمبلی بحال کرے۔

رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عدالت نے رولنگ درست قرار دی تو آئندہ تحریک عدم اعتماد نہیں آ سکے گی، آئین کی خلاف ورزی ہو تو عدالت جائزہ لے سکتی ہے، آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمانی کارروائی کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، اسپیکر کارروائی چلانے کے لیے جو فیصلہ کرے اسے تحفظ حاصل ہوگا، لیکن آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی اور رولنگ کا آپس میں تعلق نہیں بنتا، ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 5 کی تشریح کر کے ارکان پر اطلاق کر دیا، اس لیے اسپیکر کی رولنگ کا آرٹیکل 95 (2) کے تحت جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا عدم اعتماد پر ووٹنگ روکی نہیں جا سکتی تھی، عدم اعتماد مسترد کر کے ووٹنگ نہ کرا کر رولز 37 کی خلاف ورزی کی گئی، طریقہ کار کی خلاف ورزی پر اسمبلی کارروائی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی، حالات دیکھتے ہوئے صدر کو سمری واپس بھیج کر اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنا تھا، پارلیمانی نظام حکومت میں اسپیکر اکثریتی جماعت کا ہوتا ہے، رولز اسپیکر کو عدم اعتماد کی قرارداد ختم کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتے، تحریک کے بعد اس پر ووٹنگ مکمل ہونے تک اجلاس ملتوی نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا آپ نے اچھے اور ٹو دی پوائنٹ دلائل دیئے ہمیں یہی توقع تھی، رضا ربانی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا، جو متحدہ اپوزیشن کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں۔

آرٹیکل 6

رضا ربانی نے پیپلز پارٹی کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا تو آرٹیکل 6 کی بات کر دی، انھوں نے کہا چیف الیکشن کمشنر نے کہا 90 دن میں الیکشن کے لیے تیار نہیں، ان حالات میں ضروری ہے کہ آج ہی شارٹ آرڈر دے دیں۔

رضا ربانی نے کہا یہ جو ہوا ہے یہ سویلین کُو (بغاوت) ہے، پہلی بد نیتی یہ کہ 7 مارچ کو یہ خبر سامنے آئی، خبر سامنےآنے کے باوجود سینئر آفیشلز کو پروٹوکول دیتے رہے، دوسری بد نیتی یہ ہے کہ اجلاس بلانے میں ٹال مٹول کی گئی، 3 مارچ کو اجلاس ووٹنگ کے لیے بلایا گیا، لیکن وزیر قانون نے قرار داد پیش کی اور اجلاس ملتوی کر دیا گیا، یہ ایک اور بد نیتی تھی۔

رضا ربانی نے کہا 28 مارچ کو عدم اعتماد کی منظوری ہوئی مگر سماعت ملتوی کر دی گئی، ڈپٹی اسپیکر نے ارکان کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا، ڈپٹی اسپیکر نے یہ بھی اعلان نہیں کیا تھا کہ تفصیلی رولنگ جاری کریں گے، ڈپٹی اسپیکر نے کس بنیاد پر رولنگ دی کچھ نہیں بتایا گیا، ڈپٹی اسپیکر کے سامنے عدالتی حکم تھا نہ ہی سازش کی انکوائری رپورٹ، عدالت نے دیکھنا ہے کہ پارلیمانی کارروائی کو کس حد تک استثنیٰ ہے، جو کچھ ہوا اس کو سویلین مارشل لا ہی قرار دیا جا سکتا ہے، رضا ربانی نے کہا سسٹم نے از خود ہی اپنا متبادل تیار کر لیا جو غیر آئینی ہے، 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد کی منظوری ہوئی مگر سماعت ملتوی کر دی گئی۔

رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد مسترد کیے جانے میں بدنیتی پر مبنی 10 اقدامات کی نشان دہی کی، انھوں نے کہا اسپیکر قومی اسمبلی نے چیمبر میں رولنگ لکھ کر رکھ لی تھی، وفاقی وزیر نے بغیر کسی شہادت یا دستاویزی سپورٹ قرارداد پیش کی، اس طرح تحریک مسترد کرنے کا سارا عمل ابتدا سے ہی کالعدم قرار دیا جانا چاہیے، وزیر اعظم نے اسمبلی توڑنے کی سمری بھیجی جسے صدر نے سوچے سمجھے بغیر منظور کر لیا، عدم اعتماد پر ووٹنگ صرف وزیر اعظم کے استعفے پر ہی روکی جا سکتی ہے، صدر مملکت از خود بھی وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہ سکتے ہیں، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ تک وزیر اعظم اسمبلی بھی تحلیل نہیں کر سکتے۔

افشاں غضنفر کی انٹری

دوران سماعت افشاں غضنفر ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ اس کیس میں انھیں بھی فریق بنایا جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا ہم یہاں فریق بننے کی درخواستیں نہیں سن رہے، افشاں غضنفر نے کہا سارا مسئلہ جس کی وجہ سے بنا اس کو بلایا جائے۔

افشاں نے کہا اسد مجید جس نے لیٹر لکھا اس کو بلائیں، چیف جسٹس نے کہا بیٹھ جائیں ہم نے سیاسی جماعتوں کے وکلا کو سننا ہے، دوران سماعت ذوالفقار بھٹہ نے کیس کی سماعت سے پہلے لیٹر گیٹ کی تحقیقات کی استدعا کی، جس پر عدالت نے ذوالفقار بھٹہ کو بھی روسٹرم چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button