تازہ ترینخبریںپاکستان سے

پاکستان کی عظمت و بلندی کا وہ سفر شروع ہوگا جس پر دنیا فخر کرےگی

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ کل اپوزیشن کو سرپرائز ملے گا، سننے میں آرہا ہے ان میں پریشانی بڑھ رہی ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ملک میں ایک انتشار نظر آ رہا ہے، ہو کیا رہا ہے؟ ملک کے فیصلے یہاں کے عوام نے کرنے ہیں یا چند بے ضمیر سیاست دانوں نے، وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ افغانستان کے فیصلے افغان کو کرنے چاہییں۔

اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم کے مطابق ملک کی پالیسی وہ ہونی چاہیے جو اس کے مفاد میں ہو، ہم آج جس کی بات کر رہے ہیں اس اصول کی وزیر اعظم نے دوسروں کے لیے بات کی، ہم سے ڈو مور کا کہا جاتا تھا، کہا جاتا ہم کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، عالمی ایجنسیز کے سربراہ وزیر اعظم کو فون کر کے شکریہ ادا کرتے ہیں، پاکستان کی نیک نامی ہو رہی ہے کیوں کہ پاکستان امن میں ساتھی بننے کو تیار ہے جنگ میں نہیں، کہا گیا کہ پاکستان نے جو پالیسی اپنائی اس سے یورپ اور دیگر ملک ناراض ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے صدر نے کہا آپ امن کے لیے کردار ادا کریں، کوئی پاکستانی سوچ نہیں سکتا تھا کہ یورپ میں جنگ چھڑی ہوگی، یوکرینی صدر کہتا ہے امن میں کردارادا کریں، بوٹ  پالش کرنے والے کہتے ہیں کیا ضرورت تھی ابیسلوٹلی ناٹ کہنے کی، عمران خان وہ بات کرتا ہے جو ملک کے مفاد میں ہوتی ہے،آپ دیسی ہی نہیں بلکہ ولایتی بوٹ بھی پالش کرنے کو تیار ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ شہباز شریف آپ نے قوم کو بھکاری کہا آپ بھکاری ہوں گے قوم نہیں، شہباز شریف آپ کو ہمت کیسے ہوئی قوم کو بھکاری کہنے کی، کل تحریک انصاف کے ایم این ایز بھر پور انداز میں قومی اسمبلی میں پہنچیں گے، وقت آگیا کہ قوم وہ بننے جا رہی ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 2022 پاکستان کی عظمت و بلندی کا وہ سفر شروع ہوگا جس پر دنیا فخر کرےگی، ملکی فیصلوں کا حق بے ضمیر لوگوں کو نہیں دیا جاسکتا، کل ان کو سرپرائز ملے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button