تازہ ترینخبریںدنیا سے

بنیادی اشیا عوامی دسترس سے باہر, سری لنکا میں ایمرجنسی نافذ

 سری لنکن حکومت نےملک میں جاری احتجاج کا دائرہ وسیع ہونے کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق معاشی بحران سے دوچار سری لنکا میں گزشتہ روز عوام نے صدرکے گھر کے باہر احتجاج کیا جو پرتشدد صورت اختیار کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے جہاں حکومت کے پاس تیل کی درآمد کے لیے غیر ملکی کرنسی کا بحران ہے جب کہ تیل کے بحران کے باعث ملک کو بجلی کی بھی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عوام نے صدر گوتابیا راجہ پاکسے کے ذاتی گھر کے باہر احتجاج کیا جس دوران مظاہرین نے گھر کے باہر لگے اور بیرکس ہٹادیے چند گاڑیوں کو بھی آگ لگادی، مظاہرین کے احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز نے ان پر آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا جس سے ماحول مزید کشیدہ ہوگیا۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جب کہ 53 مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا جن میں کچھ میڈیا کے نمائندگان بھی شامل ہیں۔

ملک میں پرتشدد احتجاج کے باعث ایمرجنسی کے بعد فوج کو تعینات کردیا گیا ہے جسے بغیر کسی وارنٹ گرفتاری کے اختیارات بھی سونپ دیے گئے ہیں۔

سری لنکا میں جاری بدترین معاشی بحران نے چائے اور ڈبل روٹی جیسی بنیادی اشیا کو بھی عوامی دسترس سے باہر کردیا ہے۔

سری لنکا اس وقت اپنے تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح 17 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جس کے باعث وہاں کے شہریوں کی زندگی انتہائی اذیت ناک ہوگئی ہے، بنیادی اشیائے ضروریہ بھی مہنگئی ہونے کے باعث عوام کی دسترس سے باہر ہوچکی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سری لنکا میں لوگوں کیلیے ایک کپ چائے اور ڈبل روٹی کا انتظام کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیا ہے کیونکہ ان دنوں وہاں چائے کے ایک کپ کی قیمت 100 روپے تک پہنچ گئی ہے جب کہ ڈبل روٹی کا پیکٹ خریدنے کیلیے شہریوں کی جیب میں 150 سری لنکن روپے ہونا ضروری ہیں۔

سری لنکا میں بدترین معاشی بحران کے باعث سری لنکن روپے کی قدر بھی انتہائی گرچکی ہے جو مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔

گزشتہ ماہ مارچ میں ہی سری لنکن روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 46 فیصد تک گر گئی ہے اور ایک ڈالر 201 سری لنکن روپے سے بڑھ کر 295 سری لنکن روپے کا ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں جاری بدترین معاشی بحران نے وہاں کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل بھی داؤ پر لگادیا ہے۔

خزانہ خالی ہونے کے باعث سری لنکن حکومت ملک بھر میں امتحانات ملتوی کرچکی ہے جس کے باعث 45 لاکھ سے زائد طلبہ وطالبات رواں سال امتحانات نہیں دے سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button