Column

فیس سیونگ کا راستہ ….. علی حسن

علی حسن

تحریک عدم اعتماد کا کوئی تو نتیجہ نکلنا ہے، اگر اس پر اراکین کی حتمی گنتی ہوتی ہے، اور اب تو عمران مخالف سیاسی جماعتوں نے پنجاب حکومت کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔ کئی ماہ سے حکومت بچائو اور حکومت گرائو کا کھیل جاری ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں ہر چیز کا پہیہ رکا ہوا ہے جس کا معیشت پر یقینا اثر پڑ رہا ہے لیکن دولت مند سیاست دانوں کو اپنے کھیل اور سرگرمیوں سے مطلب۔ انہیں کیا پرواہ کہ غریبوں کے گھر میں چولہا جلے گا یا نہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت جس کے اراکین کی تعداد مانگ تانگ کر پوری کی گئی ہے،ٹھہرتی ہے یا جاتی ہے اس سے عوام کی اکثریت کا صرف اتنا تعلق ہے کہ ان کی روزی روٹی کا کیا ہوگا۔ تحریک کامیاب ہوتی ہے تو عمران خان کے سیاسی مخالفین اپنی کامیابی کا جشن منائیں گے اور اس سے فارغ ہو کر حکومتی عہدوں کے لیے گتھم گتھا ہو جائیں گے، پاکستان کی ماضی کی سیاسی تاریخ تو یہ ہی بتاتی ہے۔

قومی اسمبلی کا پیر کو ہونے والا اجلاس قریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو حکومتی بینچز پر تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمان میں سے کوئی بھی ایوان میں نظر نہیں آیا، جبکہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین میں سے بھی کوئی چہرہ اجلاس میں موجود نہیں تھا۔گنتی کا عمل شروع ہوا تو حزب اختلاف کے 161 اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر عدم اعتماد کی قرار داد پیش کرنے کی اجازت لی۔ایوان میں موشن کے حق میں کھڑے اراکین اسمبلی کی گنتی کے دوران حکومتی نشستوں پر موجود تحریک انصاف کے چند ایک ایم این ایز متواتر نعرے بازی کرتے رہے۔ان نعرے بازی کرتے حکومتی ارکانِ پارلیمان کو پاکستان مسلم لیگ نون کی مریم اورنگ زیب بار بار ہاتھ کے اشاروں سے اپوزیشن بینچز پر آنے کی دعوت دیتی رہیں۔ تحریک کی کامیابی کے لیے 172اراکین کی موجودگی چاہیے۔
تحریک عدم اعتماد کے پیش ہونے سے ملک کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ وزیر اعظم نے عوام سے رابطہ کے لیے جو جلسے کئے ہیں اور ان میں لوگوں نے شرکت کی اور عوام دو واضح حصوں میں تقسیم ہو گئی ہیں۔ لوگوں کی بھاری تعداد نے ملک میں ہونے والی کرپشن کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے۔ ملک میں امیر و غریب کی تقسیم کی بجائے کرپشن کے حوالے سے ہونے والی تقسیم بھی قابل تعریف ہے ۔ اسی دوران قاف لیگ کو وزیر اعظم کا پیغام کہ نون لیگ اگر پنجاب
حکومت دیتی ہے تو شامل ہو جائیں۔ حکومت سے یہ کوتاہی ہوئی کہ پنجاب میں عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل ہی وزیر اعلیٰ کو اسمبلی توڑ دینے کا فیصلہ کرلینا چاہیے تھا۔ عمران خان نے پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے لیے قاف لیگ کے پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ نامزد کر دیا ہے اور عثمان بزدار نے استعفیٰ بھی دے دیا ہے وہ اپنی حکومت توڑنے کا اعلان بھی کریں گے۔ حکومت ٹوٹ جائے گی تو تحریک عدم اعتماد خود بخود غیر موثر ہو جائے گی۔ اس طرح پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت محفوظ رہتی ہے اور وزیر اعظم خود بھی ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو بظاہر ناکام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ قاف لیگ اب وزیر اعظم کی حمایت کرے گی۔ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قاف لیگ کے ساتھ ابھی بھی بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش ہے، حکومت ہچکولے کھاتی کشتی ہے۔ ایم کیو ایم کے ساتھ بھی حکومت کی گفتگو جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ انہیں بھی ایک اور وزارت پورٹ اور شپنگ دینے کی پیش کش کی گئی ہے لیکن ایم کیو ایم کے ذرائع نے تردید کر دی ہے ۔ یہ ہے ہماری جمہوریت کے چمپئن حضرات کی کارستانی ۔ پیر28 مارچ کو قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد پیش کر دی ہے اور قائد حزب اختلاف نے تحریک کی قرار داد پیش کی۔ باقائدہ تقاریر کا سلسلہ 31 مارچ  سے شروع ہوگا۔
آصف زرداری کو بہت جلدی ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم جلد ہی شہباز شریف کو وزیراعظم بنائیں گے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے حکومت کے خلاف جاتے ہوئے تحریک عدم اعتماد میں حزب اختلاف کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے خالد مگسی کو مخاطب کرنے ہوئے کہا کہ خالد بھائی! بلوچستان کی مجھ پر مہربانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہے تو پاکستان ہے، ہم بلوچستان سے منسٹر لیں گے۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے کام کریں گے۔ آصف زرداری نے تو ثناء اللہ کو وزیر داخلہ کہہ کر مخاطب کیا۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بی اے پی کے چار ایم این ایز متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دیں گے، یہ فیصلہ انہوں نے بطور جماعت کیا ہے۔ بی اے پی بھی حمایت کرنے کے معاملے پر تقسیم ہے۔ ایک موقع پر اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک پیج پر لانے والے حالات ہیں، ہم کو دعائیں دو تمہیں دلبر بنادیا۔
مریم تو لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرکے آئی اس لیے تھیں کہ عمران خان کو بقول ان کے بائی بائی کہہ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم 31 مارچ تک قائم مقام ہوں گے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد عمران خان کو قائم مقام وزیراعظم قرار دیا اور کہا کہ تحریک کی کامیابی یا ناکامی تک عمران خان قائم مقام وزیر اعظم ہوں گے۔ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل ہی مریم نواز کا کہنا تھا کہ نتائج آچکے ہیں، اب جشن کا وقت ہے، جشن پورے ملک میں ہوگا۔
کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بے شک پورا پنڈ مر جائے مگر شہباز اور حمزہ لمبر دار نہیں بن سکیں گے۔ کسے خبر کہ لمبر دار کون بنے گا۔
ایک معروف چینل کے تجربہ کار اور با علم ذرائع کے ساتھ تعلقات رکھنے والے اینکر نے اپنے ایک ویلاگ میں انکشاف کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رسہ کشی اور کھینچا تانی جس کا نتیجہ ٹکرائو کی صورت میں نکلے گا،اسی وجہ سے فوج کے سربراہ (انہوں نے نام لیا )نے ایک فارمولا تیار کیا ہے جس کی نوک پلک درست کی جارہی ہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس ہو جائے اور وزیر اعظم عمران خان قبل از وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کر دیں ۔ یہ انتخابات آئندہ چھ یا سات ماہ کے دوران منعقد کرائے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فارمولا متحارب سیاسی قوتوں کی ’’فیس سیونگ‘‘ کے لیے ہے۔ دیکھیں کیا ہونے جارہا ہے۔ بظاہر آنے والے دن کوئی اچھا پیغام نہیں لا رہے ہیں۔ البتہ اگر اینکر کی معلومات درست ہیں تو پھرکوئی بہتر صورت نکل سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button