Column

کوئی فرق نہیں پڑتا؟ …. کاشف بشیر خان 

کاشف بشیر خان

پاکستان میں عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کرنے کے لیے جو دھما چوکڑی پی ڈی ایم یعنی اپوزیشن نے مچائی ہوئی تھی، اس میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور یہ کالم لکھتے وقت تک ملکی سیاسی حالات نے بہت ڈرامائی کروٹ لے لی ہے اور جو نظر آرہا تھا وہ اب ہے نہیں۔ عمران خان کو یہ کریڈٹ ضرور دینا چاہیے کہ قریباً چار سال مرکز، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومتیں ہونے کے باوجود اس نے ماضی کی طرح اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تحریک انصاف کی تمام حکومتوں کو اپنی آئینی معیاد پوری کرنے دی جاتی لیکن پاکستان کو جونک کی طرح چپکی ہوئی کرپٹ سیاسی اشرفیہ کو یہ کب گوارہ تھا کہ پاکستان میں رائج غلیظ سیاست (جو خریدوفروخت اور بکنے بکانے پر مشتمل ہے) کو تبدیل کیا جائے۔

تحریک عدم اعتماد آنے سے پہلے میں لکھتا چلاآ رہا ہوں کہ شریف فیملی اور آصف علی زرداری کی ڈوریاں بیرون ملک سے ہلائی جارہی ہیں۔عالمی حالات تیزی سے بدلنے اور سی پیک کی تیزی سے تکمیل کے تناظر میں پاکستان کی جو سٹریٹیجک اہمیت ہے ، اس کو عوام تک پہنچانا صحافیوں کی ذمہ داری ہے لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج تمام چینلز پر بیٹھے نام نہاد اینکرز اور دانشوروں کے پلے(سوائے سطحی باتوں اور سیاسی جماعتوں اور مافیاز سے مالی فوائد حاصل کرنے کے)ایسی کوئی معلومات ہی نہیں اور نہ ان’’سوڈو‘‘دانشوروں و صحافیوں نے کبھی عالمی حالات اور تبدیلیوں بارے تحقیق اور مطالعہ کیا۔سی پیک کے معاملے میں صرف امریکہ ہی ہمارامخالف نہیں بلکہ ہماری دیوار سے لگا بھارت، دبئی، عمان اور ایران بھی ہماری اس’’خدائی مدد‘‘پرناخوش ہیں۔ پاکستان کی حالت یہ ہے کہ افغانستان اور بھارت کی صورت میں ہم تین اطراف سے دشمنوں کے گھیرے میں ہیں۔اس بدترین سرحدی صورتحال میں جو عناصر خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے اور بھارت سمیت دوسرے ممالک سے دوستی اور ٹریڈ کی بات کرتے ہیں ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے، یا پھر ان کی حب الوطنی مشکوک کہی جا سکتی ہے۔ ریاست ہمیشہ پہلے اور دوستیاں اور کاروبار بعد میں آتے ہیں۔ اس بدترین اسٹریٹجک صورتحال میں پھنسے پاکستان کو بیرونی ایجنڈے سے بچانا اور اپنا دامن بچا کر دنیا بھر کے ساتھ چلنا نہایت مشکل ترین امر ہے۔بظاہر ہمارا دوست اور ہمیں دہائیوں سے اپنا اتحادی کہنے والا امریکہ اس وقت بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں بندھا ہوا ہے لیکن وہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کی اہمیت جانتے ہوئے پاکستان پر اپنا تسلط قائم رکھنے کی پالیسی پر گامزن چلا آرہا تھا۔ پاکستان کی پالیسیوں پر اپنے تسلط کو قائم رکھنے میں اس نے ہمارے ہی ماضی کے حکمرانوں کو استعمال کیا اور جب کارگل پر قومی غیرت بیچنے والے نواز شریف کو مشرف حکومت میں طیارہ ہائی جیکنگ وغیرہ کے کیسیزمیں سنگین سزائیں عدالتوں نے سنائیں تو یہ امریکہ ہی تھا جس نے سعد حریری کو آگے لا کر راتوں رات نواز شریف کو فیملی سمیت ملک سے بھگا دیا تھا۔ 2007 میں ملک میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کی تحریک کی آڑ میں افراتفری پھیلانے والا اور جنرل مشرف کے خلاف فنڈنگ کرنے والا امریکہ تھا لیکن یہ فنڈنگ بذریعہ نواز شریف وغیرہ کی گئی اور پھر جب بینظیر بھٹو امریکہ کی وساطت سے حکومت سے ڈیل کر کے پاکستان میں واپس آئیں تو یہ امریکہ ہی تھا جس نے ماضی میں 10سال پاکستان واپس نہ آنے اور سیاست نہ کرنے کا معاہدہ جنرل مشرف سے کرنے
والے نواز شریف کو ملک واپس آنے کی اجازت بینظیر بھٹو کی معرفت دی تھی۔دبئی میں جنرل مشرف اور بینظیربھٹو کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے کردار لطیف کھوسہ،بریگیڈیئر غضنفر اورطارق عزیز آج بھی حیات ہیں اور میں ان ہونے والی ملاقاتوں کے بارے جو جانتا ہوں، وہ ان بازی گر سیاستدانوں کی اصلیت کو بری طرح بے لباس کرتا ہے۔ خیر بات ماضی کے الجھے اور چھپے ہوئے اوراق کو الٹنے تک پہنچ گئی۔ یہ کہانی پھر کبھی سہی۔
عمران خان کو جس طرح سے چاروں جانب سے گھیرا گیا تو وہ نہایت ہی خطر ناک اور افسوس کا مقام ہے کہ جن تمام سیاستدانوں کو جیلوں میں ہونا چاہیے تھا وہ بڑھ چڑھ کر پاکستان کی سیاست میں عمران خان کو گھر بھیجنے کے یک نکاتی ایجنڈا پر سرعام دندناتے ہوئے اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دکھائی ایسا ہی دے رہا تھا کہ یہ بھان متی کا کنبہ اپنی اس مکروہ کوشش میں کامیاب ہو جائے گا لیکن عمران خان کا 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ کے کامیاب انعقاد نے پاکستان کی سیاسی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور پھر ڈھکے چھپے الفاظ میں عوام کے سامنے بین الاقومی سازش کو آشکار کرنے کے بعد عوام کی جانب سے عمران خان کو بہت بڑی کامیابی و پزیرائی ملی، وجہ صرف اور صرف عمران خان کی حکومت ختم کرنے میں بیرونی ایجنڈے اور اربوں روپے کی فنڈنگ ہے۔ اس حقیقت کو جاننا بھی ضروری ہے کہ جس طرح شریفوں نے اور زرداری نے چار سال اسمبلیوں کو صرف اور صرف اپنی کرپشن چھپانے اور کھربوں روپے لوٹنے کے کیسوں سے جان چھڑوانے کے لیے نہ صرف استعمال کیا بلکہ یرغمال بنائے رکھا بالکل ویسے ہی جہانگیر ترین اور علیم خان کی عمران خان سے ناراضگی کی وجہ بھی عمران خان کی ان کی مبینہ کرپشن کے کیسوں میں ساتھ نہ دینے کی وجہ سے ہے۔ علیم خان اور جہانگیر ترین کے ماضی میں صوبائی اور مرکزی وزارت کے علاوہ کچھ ایسا نہیں کہ وہ اتنے اہم ہوں۔ اگر ان دونوں کو قومی یا صوبائی سیاست میں اہمیت ملی تو اس کے پیچھے بھی عمران خان کی بے انتہا مقبولیت اور عوام کی دیوانگی کی حد تک پذیرائی ہے۔
جو ترپ کا پتا عمران خان نے چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی دعوت دے کر کھیلا ہے اس نے شریف برادران اور زرداری کے ساتھ ساتھ ماضی میں الذوالفقار کے رکن و پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اور موجودہ اسمبلی میں قاف لیگ کے رکن قومی اسمبلی و وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے تمام’’اہتمام‘‘ کو چکنا چور کر ڈالا ہے۔ چودھری برادران بہت زیرک سیاستدان ہیں اور ان کو اپنی جماعت میں لگنے والی’’نقب‘‘کا علم ہو چکا تھا اس لیے انہوں نے اپنے بیٹے مونس الٰہی کی بات مانتے ہوئے عمران خان کا پھر سے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ چودھری برادران کا عمران خان کا ساتھ دینے کے فیصلے نے جہاں اپوزیشن کے غبارے کو بری طرح پنکچر کیا وہاں جہانگیر ترین اور علیم خان کو بھی’’سیاسی یتیم خانے‘‘ پہنچا دیاہے۔ چودھری برادران کے اس فیصلے میں چودھری مونس الٰہی کا کردار واضع ہے جنہوں نے اپنے بزرگوں کو شریف برادران کی ماضی میں بے وفائیوں اور زیادتیوں کو ان کا’’خاندانی وصف‘‘بتاتے ہوئے شریفوں پر اعتماد کرنے سے روکا۔ فرخ حبیب اور مونس الہیٰ کی دوستی بھی اس’’تجدید وفا‘‘ میں کارگر ثابت ہوئی لیکن عمران خان کی اس سیاسی چال نے لندن میں بیٹھے والیم ٹین والے نواز شریف اور زرکے بادشاہ آصف علی زرداری وغیرہ کے چہروں کی نہ صرف رونق چھین لی بلکہ ان کے چہروں پر اداسیوں، مایسیوں و ناکامیوں کے گھنے جنگلات کا نقشہ ثبت کر دیا جوکہ ہر کسی کے لیے پڑھنا بہت آسان تھا۔ پنجاب اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اور چودھری برادران کو پنجاب میں وزارت اعلیٰ نہ دینے کے لیے نواز شریف نے جو کھیل پنجاب میں عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا کھیلا اس نے نہ صرف اپوزیشن کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا بلکہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کو بھی قریباً ناکام کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں پنجاب میں مسلم لیگ نواز میں جو ٹوٹ پھوٹ ہو گی وہ بھی نوشتہ دیوار ہے۔ اس کالم کے قارئین تک پہنچنے تک سیاسی صورتحال کیا ہوتی ہے کچھ کہہ نہیں سکتے لیکن پیر کے روز ایم کیو ایم کے ترجمان کا بیان کہ’’اپوزیشن کے وعدوں پر یقین کرنے سے اس لیے ڈر لگتا ہے کہ وہاں بہت سے جماعتیں ہیں‘‘ اس امر کا عندیہ دے رہا ہے کہ متحدہ بھی حکومت کے ساتھ ہی رہے گی۔
عمران کے بدترین مخالف بھی اقرار کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ عمران خان کا اسلام آباد میں کیا گیا جلسہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا اور وہ عوام کو اپنی حکومت ہٹانے میں بدترین بیرونی سازش کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ آج چین میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے ہم منصب چینی اور روسی وزراء خارجہ سے اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں جو تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم ہے۔ اس ملاقات میں مستقبل کے روس، چین اور پاکستانی بلاک بارے منصوبہ سازی ہو رہی ہے۔ اس ملاقات کے بعد امریکہ کی موجودہ پی ٹی آئی حکومت کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں ویسے ہی شدت آ سکتی ہے جیسے وہ روس پر یورپی یونین کی لگائی پابندیوں کے بعد تجارت کی ادائیگیاں روسی روبیل اور چینی کارڈ کے ذریعے کرنے پر ڈالر کی ممکنہ تباہی پر روس میں حکومت کی تبدیلی کی بات کر رہا ہے۔ پاکستان اس وقت کسی بھی تبدیلی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور مجھے یقین ہے کہ عمران خان نے اسلام آباد میں جو قوم کو بیدار کرنے کے تناظر میں جلسہ منعقد کیا ہے اس کے پیچھے کیوبا، شمالی کوریا، وینزویلا اور ترکی کے عوام کا اپنے حکمران کے ساتھ اظہار یک جہتی اور جدوجہد کی مثالیں ہیں۔ عمران خان کی مرکزی حکومت جانے اور بچنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کہ اب پاکستان میں بیرونی ایجنڈے اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ایک ٹھوس مزاحمت کی بنیاد ڈالی جاچکی ہے جو ریاست پاکستان کے تابناک مستقبل کی ضامن ثابت ہو گی اور کسی منی لانڈرنگ کرنے والے اور ملک کی دولت لوٹنے والوں کوچورراستے(بیرونی مدد)اور عوام کے لوٹے ہوئے سرمایہ کے بل بوتے پر اقتدار میں آنا مشکل ترین ہوتا نظر آ رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button