Column

جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی زد میں … سی ایم رضوان

سی ایم رضوان
جمہوری نظام حکومت رکھنے والے ملکوں میں معاشی عدم مساوات کی بڑھتی ہوئی شرح سیاسی عدم مساوات کا سبب بن رہی ہے۔ ایک ایسے نظام میں معاشی ترقی کے مواقع بھی یکساں نہیں ہوتے۔ معاشرتی شراکت داری اور سرگرمیاں بھی تنزلی کا شکار رہتی ہیں۔ ان حالات میں سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس سوال کا ایک سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا میں بتدریج معاشی عدم مساوات پھیلا رہا ہے۔ دولت کی تقسیم میں ناانصافی کا سلسلہ یورپ میں صنعتی ’’انقلاب‘‘ سے شروع ہوا اور اب اکیسویں صدی میں یہ عفریت بن چکا ہے۔ سرمایہ داروں کی ذاتی دولت اور قومی خزانوں کا توازن خطرناک حد تک بگڑنے کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشی پیداوار کم اور دولت میں اضافے کی رفتار بہت تیز ہے ۔ ماہرین عمرانیات کی تجویز یہ ہے کہ حکومتیں دولت پر عالمی ٹیکس کا اجرا ممکن بنائیں تاکہ معاشی اور سیاسی عدم مساوات کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔ اس تجویز سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قومی جمہوریتیں عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں ہیں۔ جب تک جمہوریت سرمائے کی قید سے آزاد نہ ہوگی، اس وقت تک دنیا میں بالخصوص جمہوری نظام حکومت رکھنے والے ممالک میں معاشی مساوات قائم نہ ہوسکے گی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ایسی قوتیں جو جمہوری حکومتوں کے پس پردہ انویسٹمنٹ اور پرافٹ کے اصولوں کے تحت سرمایہ لگا کر حکومتیں لاتی اورپھر  ان کے پس پردہ رہ کر مال کماتی ہیں، جمہوری معاشروں کے لیے خطرہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی مزدور تنظیم کی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2012ء سے 2013ء کے درمیان دنیا بھر میں پچاس لاکھ افراد بے روزگارکیے گئے اور پھر 2018ء تک یہ تعداد دوکروڑ پندرہ لاکھ تک جاپہنچی۔ سرمایہ دارانہ نظام کا شکار ہونے والے یہ تمام بیروزگار کسی نہ کسی جمہوریت سے وابستہ رہے تھے، مگر جمہوریت ان کی فلاح کے لیے کچھ نہ کرسکی۔ سرمائے کے ہاتھوں جمہور کے قتل عام کا نوحہ سالوں پہلے عالمی جریدے فارن پالیسی میں رابرٹ رائیک نے بھی لکھا تھا۔ مضمون تھا ’’ کیپٹلزم کیسے جمہوریت کا قتل کرتی ہے‘‘ اس نے لکھا کہ آزاد منڈی کی ناانصافیاں جمہوریتوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ یورپ میں آئے روز ملازمین تنخواہوں میں کمی اور ملازمتوں میں کٹوتی کے خلاف سراپا احتجاج دکھائی دیتے ہیں۔جاپان میں بہت سی کمپنیوں
نے زندگی بھر کے لیے روزگار کا سلسلہ بند کردیا۔ جیسے ہی سونی کمپنی کا پہلا غیر جاپانی ہاورڈ اسٹرینگر چیف ایگزیکٹو مقرر ہوا، دس ہزار جاپانی بہ یک جنبش قلم ملازمت سے فارغ کردیے گئے۔مقامی جمہوریتوں کی کمزوری کا ایک اہم سبب بین الاقوامی کمپنیاں اور مالی ادارے ہیں، جن کے صارفین اور متاثرین دنیا بھرمیں پھیلے ہوئے ہیں۔ عالمی بینک، عالمی مانیٹری فنڈ اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے مقامی جمہوریتوں کا معاشی جنازہ جب چاہتے ہیں نکال دیتے ہیں۔
یہ عالمی کارپوریشنیں کسی جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتیں، ان کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور یہ کسی معاشرتی اخلاق اور ذمے داری کی پابند نہیں۔سرمایہ دارانہ نظام کے اس جال میں جکڑی جمہوریتیں معاشرے کے دکھ دور نہیں کرسکتیں۔  رابرٹ رائیک نے مضمون کے آخر میں مومنانہ نصیحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سرمایہ دارانہ جمہوریت کے بچاؤ کے لیے سوچ کو راہِ راست پر لانا ہوگا۔‘‘ سرمایہ دارانہ نظام میں آئین اور قوانین انسانی مفادات اور رجحانات پر ترتیب پاتے ہیں۔ راہِ راست انسانی قوانین کے رستے میں کہیں ممکن ہی نہیں۔ کمیونزم کے بعد سرمایہ دارانہ جمہوریت کا بھی اب کوئی مستقبل نہیں۔ سرمایہ داری اور جمہوریت امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات جوزف ای سٹگلز نے
اپنے ایک مضمون’’ اکیسویں صدی میں جمہوریت‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ اور اْس کے معاشی نمونے کی تقلید کرنے والے ملکوں میں معاشی عدم مساوات کی بڑھتی ہوئی شرح سیاسی عدم مساوات کا سبب بن رہی ہے۔ ایک ایسے نظام میں معاشی ترقی کے مواقع بھی یکساں نہیں ہیں۔ معاشرتی شراکت داری اور سرگرمیاں بھی ماند پڑرہی ہیں۔ جو سوال ہمیں درپیش ہے وہ یہ نہیں کہ اکیسویں صدی میں سرمائے کا مستقبل کیا ہوگا۔ بلکہ وہ سوال یہ ہے کہ جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا؟‘‘ سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا میں بتدریج معاشی عدم مساوات پھیلا رہا ہے، دولت کی تقسیم میں ناانصافی کا سلسلہ یورپ میں صنعتی ’’انقلاب‘‘ سے شروع ہوا اور اب اکیسویں صدی میں عفریت بن چکا ہے۔
جہاں سرمایہ خدا ہو، سرمایہ دار فیصلہ کن قوت ہوں، سیاست تجارت ہو، انتخابات سرمایہ کاری ہوں، امیدوار سیلزمین ہوں ، ووٹر صارفین ہوں،وہاں ہمیشہ جمہوریت تماشا ہی لگتا ہے، وہاں ناانصافی کی پیداوار ہی ممکن ہے، وہاں جمہوریت کی مقدس گائے اور جمہور کی مقدس رائے ماسوائے دھوکے کے کچھ نہیں۔ وہاں مساوات کی بات اور مطلوبہ معیارِ زندگی تک لوگوں کی رسائی ممکن نہیں۔امریکی صدر اربوں ڈالرکی انتخابی مہم اپنی جیب سے نہیں چلاتا، بڑی بڑی کارپوریشنیں سرمایہ لگاتی ہیں۔ یوں سرمایہ دارانہ نظام میں جکڑے جمہوریت کے بڑے بڑے چیمپئن رائے عامہ کو روندکر سرمایہ داروں کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ مغربی جمہوریت کے خلاف یہ کوئی جذباتی تقریر نہیں، یہ ایک ٹھوس زمینی حقیقت ہے۔ مغربی ماہرین معاشیات نے واضح طور پر خبردار کردیا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں جمہوریت کا کوئی مستقبل نہیں۔مولانا مودودیؒ نے کہا تھا ’’ایک وقت آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہوگا، سرمایہ دارانہ جمہوریت خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہوگی، مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے مقصد کو نہ پاسکے گی، اسلام جیسی عالمگیر و جہاں کشا طاقت کے نام لیوا (سوچ رہے ہوں گے کہ وہ) اتنے بے وقوف ہوگئے تھے کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ کر کانپ رہے تھے۔‘‘ علامہ محمد اقبالؒ مغربی جمہوریت کی تاریکی کا مشاہدہ بہت پہلے ہی کرچکے تھے، اسی لیے انہوں نے فرمایا تھا۔
تونے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہور ی نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر
القصہ جمہوریت اگر سرمایہ دارانہ نظام سے وابستہ ہو تو چنگیزی سے مشابہ ہے اور اگر اس کو عادلانہ نظام معیشت کے تابع کر دیا جائے تو یہ نظام ان خرابیوں اور تباہیوں کا باعث نہیں بنے گا جو تباہیاں اس وقت سرمایہ دارانہ نظام جمہوریت کی بناء پر پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں آرہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button