Column

پانسہ پلٹ گیا … امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

مختلف الخیال جماعتوں میں اس سے قبل بھی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے ہیں، ہر دفعہ کسی نہ کسی نے ٹانگ اڑا کر اچھے بھلے اتحاد کو پارہ پارہ کیا لیکن بقول غالب ’’اب کے سرگرانی اور ہے، اپوزیشن نے اس بار ٹھانی اور ہے‘‘ لگتا ہے حکومت مخالف تمام جماعتیں اس بار انتہائی سنجیدگی سے کسی ’’خطرناک مشن‘‘ پر نکلی ہیں۔ بظاہر تو حکومت گرانا مقصود ہے مگر یار لوگ کوئی اور ہی نوید سناتے ہیں۔دنیا میں بہت سے اورجمہوری ممالک بھی ہیں ،وہاں بھی حکومتیں بنتی اور بگڑتی ہیں مگر وطن عزیز کی بات ہی نرالی ہے۔یہاں جو دِکھتے ہیں وہ ہیں نہیں اور جو بہت کچھ ہیں وہ دِکھتے نہیں۔میرے وطن کی اکثریت یزید کی بھی حمایت کرتی ہے اور امام حسینؓ کو بھی سلام پیش کرتی ہے۔سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قائد اعظمؒ جب فیصلہ کن موڑ پر پہنچے تو بہت نامی گرامی لوگوں نے کشتی سے چھلانگ لگا دی۔مگر قائد اعظمؒ کو حقیقت نظر آرہی تھی تاہم انہوں نے سفر روکا نہیں،ایسے لوگ بھی شامل کرنے پڑے جن کو انہوں نے کھوٹے سکے تک کہا تھامگر نہ صرف ساتھ ملایا بلکہ انہیں عہدے تک ملے۔کہنے کو ہم سیاست کو عبادت قرار دیتے ہیں مگر افسوس ہماری سیاسی عبادت بھی ہندو مسلم اتحاد سے مختلف نہیں۔

ہماری آج کی اپوزیشن کا اتحاد کسی صورت مولانا آزاد اور ولبھ بھائی پٹیل کی دوستی سے مختلف نہیں۔تقسیم ہند کے دوران سیاسی مہم پر نکلے مولاناآزاد اور ولبھ بھائی پٹیل ایک درگاہ پر پہنچے، حاضری کے بعد دونوں میں مکالمہ ہوا، اتحاد کی مضبوطی پر دلائل دیتے ہوئے ولبھ بھائی پٹیل نے کہا ،مولانا ہم میں اور آپ میں کوئی فرق نہیں اور یہ تاریخی جملہ بولا ’’ہم کھڑے کو پوجتے ہیں اور آپ پڑے کو‘‘ ــ ـــــمطلب ہمارا اتحاد دائمی ہے کیونکہ ہماری منزل ایک ہے،بعد میں جو ہوا ،وہ تاریخ کے طالبعلم بہتر جانتے ہیں۔بالکل اسی طرح پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد بھی دائمی ہے ۔اب ہم آتے ہیں پاکستان کی پارلیمانی سیاست پر تو یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست میں ایک بڑی خرابی عوام کے منتخب نمائندوں کی اپنی اپنی سیاسی جماعتوں سے بغاوت یا پارٹی وفاداری کی تبدیلی کا کھیل ہے۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہو رہا بلکہ اگر ہم اپنی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس کی جڑیں کافی گہری نظر آتی ہیں۔ ماضی میں سیاسی لوگوں کی جانب سے وفاداریوں کی تبدیلی کا کھیل مختلف سیاسی اور فوجی ادوار میں ہمیں دیکھنے کو ملا ہے۔ اس عمل نے مجموعی طور پر ملکی سیاست، جمہوریت اور خود سیاسی جماعتوں کی داخلی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ سیاسی لوگوں کے سامنے جماعتی سطح کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کی اہمیت ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر ہم مختلف ادوار میں سیاسی لوگوں کی جانب
سے اپنی سیاسی وفاداری کے کھیل کی مختلف جھلکیوں کو دیکھتے ہیں۔ قومی سیاست میں ایک ایسا مخصوص مضبوط سیاسی ٹولہ ہے جو عملاً حلقہ جاتی سیاست میں اپنی انفرادی سطح کی حیثیت بھی رکھتا ہے اور طاقت ور بھی ہوتا ہے۔ یہی طبقہ مختلف مراحل میں سیاسی جماعتوں کو بلیک میل بھی کرتا ہے اور اپنے فیصلے بھی جماعتوں سے زیادہ ذاتی مفادات کی بنیاد پر کرتا ہے۔یقینا موجودہ سیاسی کھیل اسی پیراے میں داخل ہو چکا۔اس وقت حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان حکومت بچانے یا گرانے کے کھیل میں ایک بڑی سیاسی جنگ جاری ہے۔ اس جنگ نے سیاسی اور قانونی محاذ پر کافی شدت بھی اختیار کرلی ہے۔ یہ کھیل مختلف مداروں سے گزرتا ہوا فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکاہے۔
آغاز میں اس کھیل کا ایک دلچسپ اور اہم پہلو پی ٹی آئی کی اپنی جماعت میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف بغاوت ہے۔دوسرا پہلو چار اتحادی جماعتوں بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ قاف اور جی ڈی اے کا حکومت کا ساتھ چھوڑ کر متحدہ اپوزیشن کے ساتھ راہ رسم بڑھانا تھا۔یہ سب عین اس وقت ہوا جب عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے عمران خان سے ناراض اراکین کو ساتھ ملا کر اپنی جیت کو یقینی سمجھ لیا ،اس کی شاید بنیادی وجہ یہ تھی کہ مزاج کے لحاظ سے عمران خان ایک ضدی انسان ہے وہ کسی صورت بلیک میل نہیں ہوگا اور پنجاب کی سیاست میں عثمان بزدار کو ہٹانے کا کسی صورت وہ فیصلہ نہیں کرے گا۔اس کی اسی ضدکی وجہ سے ناراض افراد اپوزیشن کا ساتھ دیں گے اور تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی۔عمران مخالف قوتوں کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب اس نے اپوزیشن کو مات دینے کے لیے بزدار تک کی قربانی دے دی جس کو اپوزیشن اپنی جیت کا سمبل تصور کر رہے تھے۔یہ وہ ترب کا پتہ تھا جسے عمران خان آخری وقت تک سینے سے لگائے بیٹھے تھے۔بزدار کے استعفے کے بعد متحدہ اپوزیشن کی صف میں ماتم کا راج ہے۔ عمران خان نے مخالفین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیااور اب سیاسی کھیل کا دوسراپہلو شروع ہو چکا۔اب ناراض اراکین کو منانے اور واپس لانے کی ذمہ داری چودھری پرویز الٰہی کی ہے۔چودھری پرویز الٰہی سیاست بالخصوص پنجاب کی سیاست کے نہ صرف خدو خال بلکہ رموزو اوقاف سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ یقینا عمران خان اور چودھری پرویز الٰہی کے درمیان بعض گارنٹر ز نے بھی کردار ادا کیا ہوگا ۔اب مسئلہ صرف عمران خان کی حکومت نہیں رہابلکہ چودھری برادران کی سیاست بھی دائو پر لگ گئی ہے ۔بزدار کا استعفیٰ لے کر عمران خان نے اپنے بوجھ کا ساٹھ فیصدپرویز الٰہی کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔ موجودہ سیاسی کھیل چونکہ اصولوں کی بنیاد پر نہیں کھیلا جارہا لہٰذا متحدہ اپوزیشن کو اب اسی کی زبان میں جواب دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔جوڑ توڑ کا جو سلسلہ اپوزیشن نے شروع کیا ،اب حکومت نے بھی اسی انداز کو اپناتے ہوئے لو اور دو کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اگر تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں میں سے کچھ لوگ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو پرویزالٰہی کی سیاسی بصارت اس سے بڑی تعداد میں مسلم لیگ نون کے ناراض اراکین کو عمران خان کے ساتھ ملانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اعداد و شمار کے اس کھیل میں جو جیتا وہی سکندر۔اب بہت سے تجزیہ نگاراور میڈیا پرسن یہ شور برپا کرتے دکھائی دیں گے کہ عمران خان بلیک میل ہوگیا،اصولوں سے منحرف ہو گیا،وغیرہ وغیرہ۔یاد رہے کہ یہ کھیل کسی نظریاتی، اصولی یا ضمیر کی آواز پر نہیں کھیلا جارہا بلکہ اس کا براہ راست تعلق اعداد وشمار اور چھانگا مانگا مزاج سے ہے۔ جب یہ بات سب پر عیاں ہے کہ ملکی سیاست میں عمران خان کا مقابلہ ذاتی مفادات کے علمبرداروں سے ہے توسیاسی حکمت عملی تبدیل کرنا اور موقع محل کے مطابق فیصلہ کرنا بطور سیاستدان عمران کا حق ہے۔ ہمارے میڈیا نے بھی اپوزیشن اور عمران خان دونوں کو ماپنے کے الگ الگ پیمانے بنا رکھے ہیں۔ایک دوسرے کی ازلی دشمن اپوزیشن اتحادی بن جائے اور جوڑ توڑ ، خریدو فروخت کرے تو مبصرین سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہیں ،اگر عمران خان اپوزیشن کی چالوں کو ناکام بنانے کے لیے سیاسی چال چلے تو اسے یوٹرن کا ماہر کہا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس تمام سیاسی گھڑمس میں فائدہ کس کو ہو گا اور نقصان کس کو؟اب تک کی صورتحال کے مطابق کھیل اسی طرح کھیلا جارہا ہے جس کے اصول و ضوابط سیاست کے گرو محترم آصف علی زرداری ،پرویز الٰہی اور کچھ یار لوگوں کے درمیان طے ہوئے تھے،تفصیلات پھر کبھی سہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button