Column

اور کہیں سایہ نہ تھا …. ناصرشیرازی

ناصرشیرازی

روس اور یوکرین کے مابین کشیدگی اپنی انتہاﺅں کو چھو رہی ہے لیکن امریکہ کی تمام تر خواہش اور کوشش کے باوجود یہ جنگ کسی عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ جنگ کے آٹھویں روز بھی یورپ، مڈل ایسٹ، افریقہ اور ایشیا کے بیشتر ممالک غیر جانبدار ہیں کسی نے امریکی موقف کے مطابق یوکرین کی حمایت میں کوئی پوزیشن نہیں لی بلکہ سب جنگ بندی اور مذاکرات کی بات کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے امریکی عزائم ادھورے رہ جائیں گے۔

امریکہ نے پورے یورپ کو اسی طرح ذلیل و رسوا کرنے کا پروگرام بنایا تھا جیسے خود افغانستان میں رسوا ہوا۔ ابھی تو دنیاکے کونے کونے سے امریکہ پر تین حرف بھیجے جاتے ہیں، یورپ کو بھی اسی صف میں کھڑا کرنا مقصود ہے۔
روسی صدر کے بروقت فیصلوں نے آدھی دنیا کو جنگ سے دور رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے نیوکلیئر اسلحہ کا رخ دشمنوں کی طرف کرنے کے بعد ہائی الرٹ کا پیغام جاری کر کے واضح کر دیا کہ یہ ایٹمی اسلحہ ان کی بیٹی کی بارات یا بیٹے کے ولیمہ پر آتش بازی میں نہیں چلایا جائے گا بلکہ ان کاہدف اپنی طرف بڑھنے والا دشمن ہوگا۔
امریکہ اور اس کے حواریوں کی طرف سے یوکرین کو کئی ارب ڈالر کی امداد کے ساتھ بھاری اسلحہ دینے کے اعلانات کئے گئے ہیں لیکن اس تمام امداد کے باوجود تلخ حقیقت یہ ہے کہ میدان جنگ میں یوکرینی فوج کو ہی لڑنا پڑے گا، ان کی جنگ غیر ملکی فوج نہیں لڑے گی۔ یاد رہے کہ یوکرینی فوج قریباً سوا دو لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں قریباً پچیس فیصد خواتین ہیں، خوبصورت و نازک اندام یوکرینی لڑکیاں جن کے نقوش تیکھے اور کمر حد درجہ پتلی ہے، مقابلہ حسن میں تو روس کو شکست دے سکتی ہیں، میدان جنگ میں روسی فوج کا مقابلہ کرنا انکے بس کی بات نہیں۔
روسی صدر پوتن کے معاملہ میں امریکہ و امریکی صدر جوبائیڈن کا اندازہ غلط نکلا وہ اسے ڈونلڈ ٹرمپ کا دوست ہونے کے ناطے اس جیسا کھلنڈرا، غصے کا تیز، بدتمیز اور لاابالی قسم کا انسان سمجھے ہوئے تھے جبکہ پوتن میدان حرب اور میدان سیاست کا وسیع تجربہ سمیٹے ہوئے ہیں۔ وہ کم بولتا ہے لیکن جب بولتا ہے تو مخالف کی پتلون ڈھیلی کر دیتا ہے اس نے جنگ چھیڑنے سے قبل ہر قسم کے ممکنہ ردعمل کے بارے خوب غور و خوض کیا اور اپنے آپ کو ہر قسم کے بحران سے بچانے کے انتظامات کئے۔
امریکہ و یورپ کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیاں روس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گی۔ روس کو سوئفٹ بینکنگ نظام سے باہر کیا گیا تو وہ ایک متبادل نظام پر کافی کام کر چکا ہے۔ چین اوراپنے دیگر حلیفوں کے ساتھ مل کر وہ صرف ایک قدم بڑھا کر متبادل نظام سے اپنا کام بہترین انداز میں چلا سکتا ہے۔ مزید برآں اس کا ایک فیصلہ امریکی ڈالر کی کمر توڑ سکتا ہے فی الحال تمام دنیا میں تیل اور اسلحہ کی تجارت بالخصوص ڈالر کے ذریعے ہوتی ہے، روس، چین اور حلیفوں نے ڈالر سے تعلق توڑ لیا تو امریکہ کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ روس نے اپنی دولت صرف ڈالر میں نہیں رکھی بلکہ دنیا کی ہر مضبوط کرنسی میں اس کے پاس ذخائر موجود ہیں لہٰذا روس کو فوری طور پر کسی مالی بحران کا خطرہ نہیں۔
امریکہ اور اس کے حواریوں کا خیال تھا کہ روس پر مالیاتی پابندیاں لگا کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے یہ ان کی خام خیالی ہے۔ روس کو کچھ فرق نہ پڑے گا اور ایسا نہیں ہوگا کہ روس پر غشی کے دورے پڑنے لگیں۔ امریکہ کو یاد رکھنا چاہئے کہ روس خوراک، تیل، پانی کے ذخائر، کھاد، اسلحہ اور ایٹمی اسلحے میں خود کفیل ہے اس کی فوج تازہ دم ہے اور اس کے عوام اس کی پشت پر کھڑے ہیں۔ خوراک و زراعت و اسلحہ میں خودکفیل ملک ایک لمبی لڑائی لڑ سکتا ہے اور عالمی پابندیوں کا مقابلہ بھی طویل عرصہ تک کر سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکی فوج دنیا میں رسوا ہو چکی ہے وہ تھکی ماندی ہے اس کے عوام اس کے ساتھ نہیں ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ کی معیشت بہت بڑی معیشت ہونے کے ساتھ بڑے خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ امریکی بحیثیت قوم آرام طلب اور نکھٹو ہیں، کاروبار زندگی وہ لوگ چلا رہے ہیں جو دنیا کے کونے کونے سے آ کر وہاں آباد ہوئے، عام امریکی بیروزگاری الاﺅنس اور اپنے ویک اینڈ کی خرمستیوں میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے وہ جنگ کے نام سے بہت خوفزدہ ہے اور اس سے دور رہنا چاہتا ہے۔
یوکرین کی قیادت ایک مسخرے کے پاس ہے، وہ ایک تھیٹر تو کامیابی سے چلا سکتا ہے ملک نہیں بالخصوص ہر معاملے میں اپنے سے بہتر ملک جو وسائل سے مالامال ہے اور اس کی قیادت سنجیدہ افراد کے ہاتھ ہے، ایسے ملک سے جنگ لڑی تو جا سکتی ہے جیتی نہیں جا سکتی۔ یوکرین کو روس کے مقابلے میں اخلاقی برتری بھی حاصل نہیں، وہ اپنی زندگی کے چھ سو سے زائد برس روس کا حصہ رہا ہے اس کی آزاد حیثیت محض پچاس ساٹھ برس کی ہے۔ مسخرہ صدر ایک طرف تو دنیا کے سربراہوں کی منتیں کر رہا ہے کہ کسی طرح دنیا کے کسی خطہ میں اس کی ملاقات و مذاکرات روسی قیادت سے کرا دیئے جائیں دوسری طرف ڈھٹائی و بے شرمی سے اپنی قوم سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ وہ جنگ بند نہیں کرے گا لیکن مذاکرات کو برا نہیںسمجھتا۔
یورپ و امریکہ کا مکروہ کردار ملاحظہ ہو کہ ایک یوکرینی ممبر پارلیمنٹ نے بندوق اٹھا کر تصویر اتروائی تو کہا کہ وہ اپنی آزادی کے لیے بندوق اٹھانے پر مجبور ہوئی۔امریکہ و حواری اس عورت کو عظیم مجاہدہ قرار دے رہے ہیں لیکن امریکی و یہودی مظالم سے تنگ آ کر جب فلسطینی پتھر اٹھاتے ہیںتو انہیں دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ جب افغانی، مصری، سوڈانی یا کشمیری بندوق بکف ہوتے ہیں تو انہیں دنیا کے سامنے دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
بے ضمیر عالمی میڈیا کو آج ہرگز یاد نہ ہو گا کہ وہ نیٹو فوج جس نے 2003ءمیں عراق کو تباہ و برباد کرنے کے لیے اس پر بلاوجہ حملہ کیا تھا اس میں سات ہزار یوکرینی فوجی شامل تھے، ان کرائے کے بدمعاشوں نے لاکھوں بے گناہ افراد کو شہید کیا، کئی لاکھ بچے بے گور و کفن موت کی وادی میں پہنچا دیئے، ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی، عالمی ادارے آنکھیں موندے پڑے رہے عالمی ضمیر کو بہت جھنجوڑا گیا مگر وہ بیدار نہ ہوا۔ آج سب یوکرین کے ساتھ کھڑا ہونے کی بات کرتے ہیں کیونکہ ان کا مذہب کچھ اور ہے۔ ایران، لیبیا، مصر، شام و عراق، بوسنیا، سوڈان، افغان و کشمیر میں بسنے والوں کا قصور یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے لہٰذا ان کا قتل عام جاری رکھا گیا۔
دنیا کے سب سے بڑے اور عالمی غنڈے کو سبق سکھانے کا وقت آن پہنچا ہے اسے یہ سب روس کے صدر پوتن سکھائیں گے۔ امریکہ عالمی جنگ کی دھمکی دے گا، جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برسانے کی مثال بھی دے گا لیکن اب اس میں ایسا کچھ بھی کرنے کی ہمت و سکت باقی نہیں۔ دنیا میں کسی بھی جنگ میں کسی بھی موقع پر ایٹم بم چلانا ضروری ہوا تو یہ نیک کام روس، چین، ایران یا کوریا کریں گے۔ ہم تو ٹھہرے امن پسند، عالمی امن برباد کرنے کا کیوں سوچیں گے۔
یوکرینی حالات سے مطابقت رکھتا ایک شعر:
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم تو کبھی آیا نہ تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button