Column

کرکٹ کی بحالی خوش آئند مگر ۔۔ .. مظہر چوہدری

مظہر چوہدری

پی ایس ایل سیون کے کامیاب انعقاد کے بعد آسٹریلوی ٹیم پاکستان پہنچنے والی ہے ۔ ویسے تو پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد سے ہی عالمی سطح پرپاکستان میں کرکٹ کھیلنے بارے بہت اچھا پیغام جا چکا ہے تاہم آسٹریلوی ٹیم کے کامیاب دورے کے بعد پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی پر چھائے وہ سیاہ بادل مکمل طور پر چھٹ جائیں گے جو نیوزی لینڈ کی ٹیم کے بغیر کوئی میچ کھیلے دورہ پاکستان چھوڑ کر جانے سے منڈلانے لگے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ 2009میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پرانٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے ۔ اس کے بعد پاکستان نے قریباً ایک دہائی تک اپنی تمام ہوم ٹیسٹ سیریز نیوٹرل مقام پر کھیلیں۔ پاکستان کو بیرون ملک ہوم انٹرنیشنل میچز کھیلنے پر بھی مجبور ہونا پڑا یوں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے ہمیں 6سال انتظار کرنا پڑا۔ 2015میں زمبابوے کی ٹیم نے تین ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا اور یہ تمام میچز قذافی سٹیڈیم میں ہی کھیلے گئے۔ مارچ2017میں پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں کرانے کا اہتمام کیا گیا ۔ستمبر2017میں ورلڈ الیون نے پاکستان کا دورہ کیا اور تین میچز کھیلے۔اس دورے کا اہتمام آئی سی سی کی جانب سے پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کے لیے کیا گیا۔

اکتوبر2017میں پی سی بی نے سری لنکن ٹیم کو اپنے دورہ پاکستان کا ایک ٹی ٹوئنٹی میچ پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ کیا۔اس دورے کے بقیہ میچز سری لنکا نے متحدہ عرب امارات میں کھیلے تھے۔مارچ2018میں فائنل سمیت پاکستان سپر لیگ کے آخری تین میچز پاکستان میں منعقد کرا کے پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ایک ماہ بعد پی سی بی نے ویسٹ انڈیز ٹیم کو کراچی میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلنے پر آمادہ کیا۔ پی سی بی کی کوششوں اور آئی سی سی کے تعاون سے وہ وقت بھی آ یا جب پہلے سری لنکا اور پھر جنوبی افریقہ نے پاکستان میں آکرٹیسٹ سیریز بھی کھیلیں۔یہ جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کا پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا ہی نتیجہ تھا کہ نیوزی لینڈ بھی پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ ہو گئی۔ نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے بھی دورے شیڈول تھے لیکن پچھلے سال جب سکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر نیوزی لینڈ کی ٹیم بغیر کوئی میچ کھیلے پاکستان سے واپس چلی گئی تو پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی پر سوالیہ نشان لگنے شروع ہو گئے ۔خوش آئند بات یہ رہی کہ پی سی بی نے اس معاملے کو نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور عالمی سطح پر بہت اچھے انداز میں اٹھایا اور نیوزی لینڈ ٹیم نے رواں برس پھر سے پاکستان کے دورے کی یقین دہانی کرائی جس میں دو ٹیسٹ بھی کھیلے جائیں گے۔
آسٹریلوی ٹیم کا دورہ پاکستان کئی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک یہ کہ آسٹریلوی ٹیم کا دورہ صرف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز پر مشتمل نہیں بلکہ یہ کافی حد تک ایک مکمل دورہ ہے۔ اس دورے میں ایک یا دو نہیں بل کہ تین ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔ اسی طرح تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی شیڈولڈ ہے۔ٹی ٹوئنٹی تاہم ایک ہی ہے ، ایک کی بجائے تین ٹی ٹوئنٹی ہوتے تو سونے پر سہاگے والی بات ہو جاتی۔ اگرچہ 2015سے 2021تک کئی ٹیمیں پاکستان آ کر کھیل چکی ہیںلیکن زیادہ تر ٹیمیں محدود اوورز کے میچز کھیلنے ہی پاکستان آتی رہیں۔صرف سری لنکا اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں نے پاکستان میں ٹیسٹ میچز کھیلے۔ آسٹریلوی ٹیم کے دورے کی صورت میںیہ بات اب وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں جب سے عالمی کرکٹ کی واپسی ہوئی ہے یہ اب تک کی سب سے بڑی اور مضبوط ٹیم ہے جس نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔اس کے علاوہ یہ امر بھی قابل اطمینان ہے کہ آسٹریلوی ٹیم میں کپتان پیٹ کمنز سمیت تمام بڑے نام شامل ہیں۔ اس سے قبل پاکستان آنے والی غیر ملکی ٹیمیں اپنے کئی ایک اہم کھلاڑیوں کے بغیر کھیلتی رہی ہیں۔آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کے مطابق سب کھلاڑی پاکستان میں سکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہیںاور موجودہ حالات میں بائیو سکیورٹی کی اضافی سطح بھی موجود ہے۔پیٹ کمنز نے دورے کو خاص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پہلی بار پاکستان میں کھیلنے کا تجربہ حاصل کریں گے اوراس حوالے سے ہم واقعتاً پرجوش ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیائے کرکٹ کی سات آٹھ اہم غیر ملکی ٹیموں میں آسٹریلیا سکیورٹی خدشات کے حوالے سے انتہائی حساس ٹیم ثابت ہوئی ہے۔ آسٹریلوی ٹیم کے پاکستان میں آ کر کھیلنے، خاص طور پر تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے بعدانگلینڈ اور نیوزی لینڈ سمیت کسی اور ٹیم کے لیے پاکستان میں آ کر کھیلنے سے انکار کی گنجائش نہیں رہے گی۔پی ایس ایل سیون کے کامیاب انعقاد پر پی سی بی اور سکیورٹی اداروں کی کاوشیں قابل تحسین ہیں لیکن ٹیموں اور کھلاڑیوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی غرض سے شہروںکے داخلی و خارجی راستوں خاص طور پرسٹیڈیم کے اطراف کے علاقوں میں کرفیو جیسا سماں دیکھ کر قدرے تشویش بھی ہوتی ہے کہ آخر ہمیں کب تک پی ایس ایل مقابلوں اور غیر ملکی ٹیموں کے دوروں کے لیے شہروں کو بند کر کے عوام کو پریشان کرنا پڑتا رہے گا۔ارباب اقتدار بخوبی آگاہ ہیں کہ ہمارے ہاں کرکٹ کو سب سے بڑا خطرہ کون سے انتہا پسند عناصر سے ہے۔ عام طور پر ہمارے ہاں بھارت کو عالمی کرکٹ کی بحالی میں سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے لیکن اگر ٹی ٹی پی یا کوئی اور عسکریت پسند گروہ بھی عالمی کرکٹ کی بحالی میں خطرہ بنتا ہے تواس کے سدباب کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات اٹھانے پر غور کیا جائے یا پھر سٹیڈیم کے آس پاس ہی کھلاڑیوں کے ہوٹلز کا بندوبست کیا جائے۔اس کے علاوہ ایک حل یہ بھی ہے کہ ٹیموں کو سڑکوں کی بجائے ہیلی کاپٹر کے زریعے سٹیڈیم لانے لیجانے کا انتظام کیا جائے۔ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ ہر شہری کرکٹ میں اتنی دل دلچسپی نہیں رکھتا کہ وہ ہر دوسرے ماہ کرکٹ کے لیے سڑکوں کی بندش سے ہونے والی تکلیف خندہ پیشانی سے برداشت کر لے۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں کی گاڑیوں کے آگے پیچھے سکیورٹی کی درجنوں گاڑیوں کی موجودگی سے عالمی سطح پر کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا۔ آخری بات یہ کہ سکیورٹی پر بہت زیادہ پیسہ خرچ ہونے کی صورت میں کرکٹ بورڈ کوبھی کچھ نہیں بچتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button